15.10.2026, 09:41am , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
اہم ترین   
سری لنکن حکومت نے پاناما لیکس پر اہم قدم اٹھاتے ہوئے تحقیقات کے لیے خصوصی پینل تشکیل دینے کا اعلان کردیا
حکومت اور مولویوں کے درمیان کامیاب مذاکرات کے بعد دھرنے کے شرکا ریڈ زون خالی کرکے واپس لوٹ گئے۔
 
عالمی اخبار تازہ ترین
 

ہم افغانستان کی جنگ اپنی زمین پر نہیں لڑسکتے'
20.06.2016, 01:10am , سوموار (GMT+1)

وزیراعظم کے خصوصی مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز کا کہنا ہے کہ امریکا چاہتا ہے کہ پاکستان افغان طالبان کے خلاف کارروائی کرے تاہم 'ہم افغانستان کی جنگ اپنے ملک میں نہیں لڑسکتے'۔

سرکاری ٹی وی چینل، پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) کو انٹرویو دیتے ہوئے سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ امریکی حکام میں یہ غلط فہمی موجود ہے کہ پاکستان طالبان کے مختلف گروپوں یا حقانی گروپ کی پشت پر موجود ہے جبکہ پاکستان نے آپریشن ضرب عضب کے دوران ملک سے ان گروپوں کے بنیادی ڈھانچے کو متاثر کیا ہے۔

مشیر خارجہ کا کہنا تھا کہ افغانستان میں لڑنے والے بیشتر گروپ وہاں کے مقامی ہیں تاہم یہ خیال زور پکڑ رہا ہے کہ پاکستان ان کے خلاف کارروائی کرے۔

افغانستان امن مذاکراتی عمل کے حوالے سے سرتاج عزیز کا دعویٰ تھا کہ پاکستان، آخری ایشیائی کانفرنس کے دوران چار رکنی تعاون گروپ بنانے میں کامیاب ہوا اور گروپ نے ایک بہتر طریقہ کار بھی اپنا لیا تھا۔

سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ 'ہمارا نقطہ نظر یہ ہے کہ آپ (نیٹو اور ایساف) گذشتہ 15 سال سے افغانستان میں جنگ کررہے ہیں تاہم امن قائم کرنے میں ناکام رہے ہیں، اب مذاکرات ہی اس مسئلے کا واحد حل ہے اور اگر طالبان افغانستان پر قابض نہ ہوسکے تو بھی وہ آئندہ کئی سالوں تک لڑائی جاری رکھے گیں'۔

انھوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ افغان حکومت اور طالبان مذاکرات کے حوالے سے تقسیم کاشکار ہیں۔

مشیر خارجہ کا کہنا تھا کہ 'ہم اپنا اثر رسوخ استعمال کرتے ہوئے طالبان کو صرف مذاکرات کی میز پر لائے تاہم ان سے بات چیت افغانستان حکام نے کرنا تھی، افغان حکومت کو اپنی زمینی پوزیشن مستحکم کرنا ہوگی اور طالبان کو اس چیز کی پیش کش کرنا ہوگی جو وہ جنگ سے حاصل نہیں کرسکتے اور یہ عمل مستقل ہونا چاہیے'۔

انھوں نے اس اُمید کا اظہار کیا کہ اگر زمینی صورت حال افغان حکومت کے حق میں رہی تو امن مذاکرات کا دوبارہ آغاز ممکن ہے۔

گذشتہ ہفتے پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہونے والی سرحدی کشیدگی پر سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ منظم اور مضبوط سرحدی نظام دونوں ممالک کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے، انھوں نے مزید کہا کہ آئندہ ہفتے پیر کے روز افغان نائب وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان ان مسائل کو حل کرنے میں مدد گار ثابت ہوگا۔

پاکستانی جوہری پروگرام پر امریکا کا دباؤ
پاک امریکا تعلقات پر کیے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے سرتاج عزیز نے کہا کہ موجودہ حکومت میں دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تعلقات کافی حد تک بحال ہوچکے ہیں لیکن پاکستان نے امریکا کی جانب سے ملک کے جوہری پروگرام پر لگائی جانے والی قدغن کو مسترد کرتے ہوئے صاف الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ 'یہ ملک کے تحفظ کا معاملہ ہے'۔

سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ جب ان کی حکومت برسراقتدار آئی تھی تو مختلف واقعات جن میں ،ریمنڈ ڈیوس، سلالہ چیک پوسٹ اور ایبٹ آباد حملہ شامل ہیں، کے باعث پاک امریکا تعلقات انتہائی خراب ہوچکے تھے، لیکن موجودہ حکومت نے 2013 میں امریکا سے مذاکرات کو مؤثر بنایا اور امریکا پر زور دیا کہ وہ تمام سطحوں پر پاکستان سے تعلقات میں تبدیلی کو اپنی ترجیحات میں شامل کرے۔

ڈرون حملوں کی مثال دیتے ہوئے سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ سابق صدر اور ریٹائر جنرل پرویز مشرف نے اپنے ایک انٹرویو میں یہ تسلیم کیا تھا کہ انھوں نے امریکی حکام کو زبانی طور پر قبائلی علاقوں میں ڈرون حملوں کی اجازت دی تھی، اور پیپلز پارٹی کی سابقہ حکومت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے بھی مذکورہ معاملے میں امریکا کا ساتھ دیا، لیکن مسلم لیگ نواز نے اس حوالے سے سخت مؤقف اختیار کیا اور جس کی وجہ سے ان حملوں میں بتدریج کمی آئی۔

سرتاج عزیز نے بتایا کہ سال 2010 میں 117 ڈرون حملے ہوئے تھے جبکہ سال 2014 میں یہ تعداد کم ہو کر 12 ہوئی اور رواں سال میں صرف 3 ڈرون حملے ہوئے ہیں۔

پاک چین اقتصادی راہداری کے حوالےسے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں مشیر خارجہ کا کہنا تھا کہ مذکورہ منصوبے پر پاکستان انتہائی تیزی سے کام کررہا ہے اور اس حوالے سے اندورنی اور بیرونی سازشوں سے بھی اچھی طرح واقف ہے۔

:دیگر مضامین
(19.06.2016) چوہدری نثار علی نے لیک ویڈیوز نشر ہونے کو  ’غیر آئینی اور غیر اخلاقی‘ قرار دے دیا۔
(19.06.2016) معروف وکیل نعیم بخاری پی ٹی آئی میں شامل ہو گئے
(18.06.2016) کراچی کے مختلف علاقوں میں رینجر ز کی کارروائی،8ملزمان گرفتار
(18.06.2016) ٹی او آرز پرکشیدگی برقرار، اپوزیشن کا پیر کو حقائق سامنے لانے کا اعلان
(17.06.2016) پاناما لیکس,ٹی او آر کی تیاری پر حکومت اور اپوزیشن میں کشیدگی برقرار
(17.06.2016) برطانیہ نے پاکستانی اداروں سے بھتہ خوری کے الزامات کے ثبوت مانگ لیے
(17.06.2016) نیٹو سیکرٹری جنرل.فوج کو بڑے پیمانے پر افغانستان میں رکھیں گے
(16.06.2016) ممبران الیکشن کمیشن کی تعیناتی کیلئےقائم پارلیمانی کمیٹی کی ایک بارپھر تشکیل نو
(16.06.2016) ہندوستانی جاسوس کے حوالے سے خط پر ایران کا جواب
(16.06.2016) شیریں مزاری کا خواجہ آصف کو 10 کروڑ روپے ہرجانے کا قانونی نوٹس
(15.06.2016) ایان علی کو امیگریشن حکام نے ایئر پورٹ سے واپس بھیج دیا
(15.06.2016) دہشت گردی کے کیسز میں ملزم کومعاف نہیں کیا جا سکتا، سپریم کورٹ
(15.06.2016) خیبر پختونخوا کا 505 ارب روپے کا بجٹ، 22 فیصد تعلیم کیلئے مختص
(14.06.2016) افغان فورسز سے فائرنگ کا تبادلہ،زخمی پاکستانی میجر ہلاک
(14.06.2016) طورخم بارڈر:افغان فورسز کی فائرنگ سے زخمی میجر ہلاک
(14.06.2016) ایف آئی اے نے عمران فاروق قتل کیس کا دائرہ وسیع کرنے کا فیصلہ کرلیا
(13.06.2016) پنجاب کا16کھرب81ارب  روپے سے زائد کا صوبائی بجٹ پیش کردیا
(13.06.2016) پنجاب اسمبلی کا بجٹ آج سہ پہر وزیر خزانہ پنجاب پیش کریں گی 
(13.06.2016) طورخم بارڈر پر افغان فورسز کی پاکستانی حدود میں بلا اشتعال فائرنگ
(12.06.2016) بیٹے نے جو کیا، اس کا مذہب سے تعلق نہیں، میر صدیق والد عمر متین



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں