صدر صاحب کی موجودگی کا پتہ چلا اُنکی تقریر سے، بہت خوشی ہوئی کہ وہ ہیں ورنہ ہم تو شکل بھی بھول گئے تھے ۔بس عہدہ یاد تھا کہ ہمارے یہاں عہدوں کا وہ جمعہ بازار ہے جس کی قیمت اور اخلاقی حیثیت بھی کھوتی جارہی ہے اُس نے ہمیں اتنا بے اعتبار کر دیا ہے کہ ہمیں اب کسی چیز کی وقعت کا اندازہ لگانے میں بڑی مشکل پیش اآنے لگی ہے ۔نہ کہیں باتوں کا اعتبار ہے نہ عمل کا اور نہ ہی اب کسی شخصیت پر بھروسہ رہا ۔
ہم بہت خوش تھے اور تمام زی شعور اور خوفَ خدا رکھنے والے بھی یہ سوچ رہے تھے کہ یہ موقعہ ہمیں پھر عطا ہوا ہے اُس مالکِ کُل کی طرف سے کہ جس کی طرف ہر زی روح کو لوٹ جانا ہے اور اپنی جواب دہی کرنی ہے ۔مگر ہم سب ہی شاید اتنے بے خوف اور بے حس ہو چکے ہیں کہ بڑی سے بڑی بات ہم پر اُس طرح اثر انداز نہیں ہوتی جس طرح مسلمانوں پر ہوا کرتی ہے ۔مو من ہم نے جان کر نہیں لکھا کہ شاید وہ اگر موجود ہوتے تو یہ کرپشن کا شاخسانہ ہوتا ہی نہیں ۔بلکہ اگر کچھ مومن بھی پارلیمنٹ میں اآجائیں تو ہم صدر صاحب کو یقین دلاتے ہیں کہ انہیں منحوس چہرے نظر نہیں اآئینگے مگر یہ بھی اُنکی ثواب دید ہی پر ہے کہ کاش وہ ہی کھڑے ہو جاتے کہ بس بہت ہوگیا ہر عہدے دار اپنی صفائی دے ۔
ہمیں تو یہ اندیشہ ہو رہا ہے کہ اب شاید کرپشن اور ہر قسم کی بد عنوانی جائز قرار پا جائیگی کہ اسمبلی میں حزبِ اختلاف کے قائد کو فائلوں کے بوجھ نے بولنے نہ دیا اور وہ بغیر کچھ بولے اور کسی کو بولنے کا موقعہ دئے سب کو لے کر ایوان سے نکال لائے بلکہ ہم تو داد دیتے ہیں پی پی پی کو جس نے زبردست طریقے پر نواز صاحب کا ساتھ دیا اور اُن کو ایوان سے سُر خرو کرادیا اب لاکھ ڈھول پیٹیں گیا وقت پھر ہاتھ اآتا نہیں ۔اب بھی اگر نہ سنبھلے اور اپنی طرف نہ دیکھا تو شاید فرشتے بھی اآکر ہماری مدد نہ کر سکینگے کہ مدد اُنکی کی جاتی ہے جن کے دلوں میں خوفِ خدا اور ایمان کی رمق موجود ہو ۔ہم کسی کو بھی خدانخواستہ ان تمام خصوصیات سے بے بہرہ قرار نہیں دے رہے بلکہ اُن حالات پر تبصرہ کر رہے ہیں جو ہمیں نظر اآرہا ہے ۔
کیا ہم اپنے ملک سے کبھی بے ایمانی اور کرپشن کا خاتمہ کر سکینگے ؟ کیا اس سے بہتر موقعہ پھر ملِ سکے گا ؟ شاید نہیں اور ہم تو اتنے حیران ہیں کہ اس قدر غلط بیانی ہے کہ استغفراللہ ۔لیکن ہمارے ایوان میں وہ سب دھڑلے سے موجود بھی ہیں اور عزت بھی پارہے ہیں لیکن کوئی بولنے والا نہیں جن سے امید تھی وہ بھی جوائنٹ میں شامل ہو کر بے بس ہوگئے باہر اآکر دَھاڑے مگر کیا فائدہ ؟ ہم یہ سب پہلے ہی کہہ چکے تھے کہ کچھ نہیں ہوگا جیسا کہ ہم سب کہتے ہیں کہ سب کو معلوم ہے کہ کون کرپٹ ہے کون کھا رہا ہے کون بے ایمانی کر رہا ہے کس کس نے پیسہ باہر لے جاکر جائیدادیں بنائیں ؟ باہر جائیداد بنانا یا گھر خریدنا کوئی برائی نہیں ہے اگر اآپ کا پیسہ صحیح طریقے سے گیا ہو اور آپ کسی بھی وقت اُسے ثابت کر سکیں ۔لیکن افسوس ہم نے کبھی دوسرے ترقی یافتہ ممالک کی طرح اپنے گریبانوں میں جھانکا ہی نہیں ہر بات کو کھیل تماشہ بنا دیا یا پھر پرو گراموں کی زینت اور ریٹنگ کی دوڑ ؟ پھر ہم کیسے ترقی کر سکتے ہیں جب ہم وہ راہیں روکتے ہی نہیں ۔ہم وہ اقدار تھامتے ہی نہیں جن پر کسی معتبر ملک کی بنیادیں کھڑی ہوں ۔صدر صاحب نے کچھ منحوس چہروں کا زکر کیا کاش اتنی ہمت بھی کر لیتے کہ انکے ناموں سے قوم کو اآگاہ بھی کر دیتے کہ سچ بولنے اور اپنا حصہ ڈالنے کا وقت کبھی کبھی ملتا ہے اور جو اس سے فائدہ اُٹھا لے وہ ہی مردِ مجاہد بنتا ہے ۔اس لئے کہ عُمرِ عزیز گھَٹ رہی ہے اُس میں اضافہ ہو رہا ہے جو لے جارہا ہے اُس وقت کی طرف جس سے کسی کو فرار نہیں ۔
ہماری تو ایک ہی خواہش کہ کسی دن تو ہم یہ سنیں کہ کچھ بڑے زیرِ تفتیش اآگئے ہیں وہ جن پر لوگوں کو خدشات ہیں ہم تو اُن باتوں پر اور اُن ثبوتوں پر بھی بحث کرتے ہیں جو ہمارے سامنے موجود ہیں جن کا اعتراف بھی کر لیا گیا ہے ہم تو صدرِ محترم سے صرف یہ ہی استدعا کر سکتے ہیں کہ اگر ملک کی کچھ خدمت کر سکتے ہیں تو کم از کم اتنا ہی کردیں کہ سب کو لے اآئیں اپنے اُس بیان کے نیچے جسے وہ خود کہہ رہے ہیں کہ اللہ کی طرف سے ہے ؟ اب یہ جس کے لئے بھی ہے کاش صدرِ محترم ایک بیان دے دیں کیونکہ وہ اسمبلی کے ہیڈ بھی ہیں کہ ہر الزام زدہ کو اپنی صفائی خود پیش کرنی ہوگی اور ثبوت بھی خود ہی دینے ہونگے کہ کیسے ملک کا پیسہ ملک سے باہر چلا گیا ۔ہر بڑے کی جائیداد اور کاروبار باہر ہے کوئی بری بات نہیں بس ہم اتنا چاہتے ہیں کہ پھر وہ لوگ جو ملک میں اپنا پیسہ نہ رکھ سکتے ہیں نہ اُسے استعمال کر سکتے ہیں اپنے کاروبار میں ،انہیں ہم سے محبت اور ہماری ہمدردی کا یہ نقاب اُتار دینا چاہئے تاکہ ہمیں دکھ نہ ہو اور ہم اپنی اپنی قسمتوں پر صابر شاکر رہیں کہ بس یہ ہی ہماری قسمت ہے ۔
لیکن عوام کسی طرح بھی مجبور نہیں ہیں انہیں نکلنا چاہئے ہر اُ س ظلم اور حق تلفی کے خلاف جو انہیں نقصان پہنچا رہی ہے اور انہیں غربت کے اندھیروں میں ڈھکیل رہی ہے ۔محترم صدر صاحب جس طرح اشتہاروں اور اپنی تشہیر پر عوامی خزانے کو استعمال کیا جا رہا ہے اُس پر بھی کچھ لوگوں کی سرزنش کر لیں تاکہ وہ لوگ جو کھا پی کر بھی دندناتے پھر رہے ہیں ان پر قد غن لگے ۔
ہوا وہ ہی جو ہمیں پتہ تھا ۔ہم نے شروع ہی میں کہا تھا کہ کچھ دن شور رہے گا اور بس ۔۔۔
اب ہم اس انتظار میں ہیں کہ صدر کب اپنا بیان واپس لینگے یا شرمندہ ہونگے کہ یہ میں نے کیا سچ کہہ دیا ۔کیونکہ سچ اب عُنقا ہے ۔افسوس صد افسوس کہ بس یہ ہی ہمارے پاس ہے جو ہم ان موقعوں پر بول یا لکھ سکتے ہیں ۔کیونکہ ہم مایوسی کو گناہ سمجھتے ہیں شاید پھر کہیں سے کوئی اُمید کی کرن نظر اآجائے کہ کچھ دن تو شیخ چلی کی طرح ہم بھی روز صبح اُٹھ کر کسی اچھی خبر کی اآس میں ٹی وی کھولتے ہیں اور رات کو مایوس ہو کر بلکہ فشارِ خون بڑھا کر بستر پر جا لیٹتے ہیں ۔ایک لیڈر کی سولو فلائٹ پر بہت شور تھا اب اتحادی فلائٹ پر وا ویلا ہے دیکھیں کیا ہوتا ہے ۔مگر کاش اُسے طاقت دی جائے کہ شاید کچھ اچھا ہو جائیگا ۔الیکشن کی دھاندلی ختم ہو جائیگی کرپشن کرنے والے ڈرینگے کہ پکڑے جائینگے اے کاش ملک کی دولت ملک میں رہے اور عوام کے کام اآئے بجائے دوسرے ملکوں کے ۔
اللہ میرے ملک کو اچھے لیڈر عطا کرے ۔۔ آمین