15.10.2026, 11:58am , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
  تصویر میں خبر

مشقوں میں شرکت,روسی فوجی پاکستان پہنچ گئے



 
مضامین/تجزیات
 

 موسٹ وانٹیڈ وفاقی بجٹ ۔۔۔ از؛ محمدثقلین رضا 
24.06.2016, 01:02am , جمہ (GMT+1)

لطیفہ تو بہرحال لطیفہ ہی ہوتاہے اس کاسنجیدگی یا مزاح سے کوئی تعلق نہیں ' ہوسکتاہے کہ جو ہماری نظر میں لطیفہ ہو وہ دوسروں کی نظر میں سنگین مذاق لہٰذا اس امر کو چھوڑتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں' چند سیاسی لطیفوں کے ساتھ ' ایک بات ذہن میں رکھئے کہ ان لطائف کو پیش کرنے کامقصد کسی کی دل آزاری نہیں ہے۔ کیونکہ لطیفے دل آزاری کیلئے نہیں لبوں پر مسکان لانے کیلئے ہوتے ہیں اس لئے ان لطائف کو پڑھئے اورسردھنئے' پہلا لطیفہ حالیہ بجٹ کے تناظر میں ہے ' جس کامقصد کیا ہے اور اس کے پس منظر کتنی حقیقت ہے ؟؟لیکن پاکستانی قوم کی حالت یقینا نچوڑے ہوئے سوکھے لیموں سے کم نہیں ہے ۔ اس بجٹ میں عوام کے نچڑے اور خون سے خالی بدن سے جس طرح سے ٹیکس ''کشید'' کرنے کی کوشش کی گئی ہے وہ یقینا قابل رحم ہے۔ بہرحال سنجیدگی کادامن ہاتھ سے چھوڑئیے اورپڑھئے ۔ ہوسکتاہے کہ بعض احباب' کارپردان حکومت کو اعتراض ہو 'لیکن وہ جوکہتے ہیں کہ حقیقت چھپ نہیں سکتی بناوٹ کے اصولوں سے بہرحال پڑھئے اور غور کیجئے کہ ہم ایسے لوگوں کے اسیر رہ چکے ہیں یافی الحال ہیں
ایک پہلوان نے 10 سوکھے لیموں نچوڑ کر پورا ایک گلاس جوس نکال لیا.....لوگ حیرت سے اسے دیکھتے رہے.....اس کے بعد اس نے لوگوں کو چیلنج کیا کہ کوئی ہے جو 20 لیموں نچوڑ کر بھی اتنا جوس نکال سکے جتنا اسنے 10 لیموں سے نکالا ہے.....لوگ خاموش رہے.....کوئی آگے نہیں بڑھا.....سوائے ایک آدمی کے.....اس آدمی نے پہلوان سے کہا میں تمہارا چیلنج قبول کرتا ہوں.....میں 20لیموں سے نہیں.....بلکہ صرف 10 لیموں سے ہی اتنا جوس نکالوں گا.....اور ہاں لیموں بھی وہ جس سے تم پہلے ہی نچوڑ کے سارا رس نکال چکے ہو.....سارا مجمع اسے پاگل سمجھنے لگا.....پہلوان بھی اسے حیرت سے دیکھنے لگا.....اور لوگوں کو نہایت حیرت اس وقت ہوئی جب اس شخص نے یہ معجزہ کر کے دکھا دیا.....ان سوکھے ہوئے 10لیموں سے ایک گلاس رس اور نکال کے دکھایا.....پہلوان کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا.....اس نے حیرت سے پوچھا''بھائی!تم بھی پہلوان ہو؟''وہ آدمی بولا ''نہیں.....میں اسحاق ڈار ہوں''

ہوسکتا ہے کہ یہ لطیفہ ہی ہو تاہم اس میں کچھ نہ کچھ حقیقت بھی ہے کہ قوم کی رگوں سے آخری قطرۂ خون نچوڑنے کے حوالے سے وزرا خزانہ کو ملکہ حاصل ہوتاہے سو یہ امکان موجود ہے کہ وزیرخزانہ اسحاق ڈار بھی ایسے ہی اوصاف حمیدہ کے مالک ہوں۔ اوصاف حمیدہ کے ضمن میں ایک بات ذہن میں آگئی کہ اوصاف جمیلہ ہوں یا اوصاف حمیدہ 'دونوں میںایک قدر مشترک ہے دونوں میں خواتین کے (عموماً رکھے جانے والے ) نام شامل ہیں اورجس طرح خواتین اپنے شوہروں کی جیب میں کچھ نہیں رہنے دیتیں بالکل اسی طرح سے پاکستان کے وزرائے خزانہ بھی چاہتے ہیں کہ جسم پر کچھ باقی نہ رہے۔ 

ماضی کی خبر نہیں کہ اس وقت دنیا میں آئے ہی نہیں تھے البتہ جب سے ہوش سنبھالا ہے ہرسال جون کے مہینے میں لوگوں کو خوفزدہ ہوتے دیکھا ہے ۔ تاہم 90ء  کی دہائی کے بعد یہ ڈر کسی حدتک کم ہو گیا کیونکہ یہ سالانہ ''خوفناک فلم '' اب ہرپندھواڑے پر دکھائی جانے لگی یعنی جب سے پٹرولیم مصنوعات ' بجلی کی قیمتوں نے پرپندرہ دن کے بعد اڑان کا ''مشغلہ'' شروع کررکھا ہے اس کے بعد سے لگتا ہے کہ ہرچیز ہی اڑان بھرتی دکھائی دیتی ہے۔ ویسے تو حاکمین( بشمول پی پی' ن لیگ) کا فرمان عالی شان کتنا غور طلب ہے کہ بجلی 'پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بھلا کہاں غریبوں پر اثرانداز ہوتی ہیں۔ ان بیچاروں کو پتہ کیا ہوگا جیسا کہ ایک امیر گھرانے سے تعلق رکھنے والی  کم سن امریکی طالبہ کے سامنے پرچہ آیاجس میں غربت کے حوالے سے مضمون لکھنے کو کہاگیا ' طالبہ نے لکھا کہ فلاں فلاں ایک بہت ہی غریب آدمی تھا' اس کے گھر میں تین تین گاڑیاں موجود رہتی تھیں اس کے بچے ہروقت گاڑیوں میں گھومتے رہتے ہیں 'بچے بڑے ہی شوق سے پیزا کھاتے ہیں اور پیپسی پیتے ہیں ' وہ دن ہو یا رات ہروقت ہی سوتے رہتے ہیں' جب جی چاہتا ہے سوجاتے ہیں اورجب جی چاہتا ہے جاگ جاتے ہیں ' وہ ہروقت گاڑیوں میں گھومتے رہتے ہیں لیکن پھر بھی وہ غریب ہیں۔ 

نجانے کیوں یہ لطیفہ پاکستانی حکمرانوں کی ذہانت کی عکاسی کرتادکھائی دیتا ہے کہ انہیں شاید غربت کاادراک نہیں ہوسکتا۔ ورنہ پاکستان کی ایک وزیراعظم یہ نہ کہتیں کہ ''اگر عوام کے پاس روٹی کھانے کو نہیں ہے تو وہ ڈبل روٹی کھائیں''  خیر وفاقی بجٹ آنا تھا آگیا' سنا ہے کہ یہ بھی خسارہ پرمبنی بجٹ ہے'بہت سے منصوبوں کیلئے بہت سا فنڈز مختص کیاگیا'کہیں ترقیاتی کاموں کا ذکر ہے تو کہیں تنخواہوں کا تذکرہ ' کہیں سگریٹ مہنگے کرنے کی خوشخبری ہے تو کہیں ''عام آدمی کی تعیشات '' مطلب مشروبات پر ٹیکس لگاکر مزید مہنگے کرنے کاتذکرہ' اس کامطلب یہ ہوا کہ پورے کا پورا بجٹ ہی ''خوشخبریوں''سے بھرا ہے لیکن یہ خوشخبریاں حاکمین وطن کے لئے ہوسکتی ہیں یا وزیروں 'مشیروں 'مشیروں کے مشیروں یا پھروزیروں کے مشیروں کو ان اقدامات سے خوشخبری مل سکتی ہے تاہم عوام کیلئے باقی رہ گیا صرف '''خسارہ'' 

صاحبو! جیسا کہ ابتدا ہی میں عرض کرچکے ہیں کہ اسحاق ڈار نے کس طرح سے اس پہلوان کا چیلنج قبول کیا' بات سچ نہ بھی ہوتو موجودہ بجٹ سچائی کی علامت بن کرسامنے آگیا ہے کہ پہلے سے ہی مفلوک الحال ' خون سے محروم جسموں والے عوام کا خون نچوڑنا بھی '' خالہ جی کاگھر'' نہیں مگر بھلاہو ن لیگی حکومت کا ' انہوں نے یہ ناممکن بھی ممکن بنادیا ہے' چنددن قبل ایک ہسپتال میں جانا ہوا ' ہمارے ساتھ جو مریضہ تھیں ان کا بلڈ ٹیسٹ ضروری تھا' تاہم مشکل یہ بن آئی کہ ہسپتال عملہ کاایک جوان گھنٹہ بھر کی محنت کے بعد وہ رگ تلاش نہیں کرپایا جہاں سے وہ خون نکال سکے ۔ وہ جب تھک ہارکر واپس گیاتو دوسراآیا اس نے دو چار تھپیڑے خاتون کے الٹے ہاتھ پر مارے اور پھر سوئی رگ میں گھونپ دی 'ہم حیران رہ گئے کہ اس نے پوری سرنج ہی خون سے بھرکر باہر نکالی' پہلے والا ساتھ کھڑا حیرانی سے دیکھ رہاتھا 'ا سکی آنکھیں یہ منظر دیکھ کر باہر کو ابل رہی تھیں' اس نے اشاروں اشاروں میں اس کی وجہ پوچھی تو دوسرے والا ہاتھ نچاتے ہوئے بولا '' اپنا اپنا فن ہے بھئی'' سو ایسا ہی فن اسحاق ڈار کے ہاتھ میں بھی ہے اوروہ سوکھی سڑی ہوئی رگوں سے بھی خون نچوڑنے کا ہنرجانتے ہیں اورانہوں نے مسلسل تیسری مرتبہ یہ کرکے بھی دکھادیا ہے۔

:دیگر مضامین
(20.06.2016) پیمرا سے خبردار رہیں: سوال کرنا منع ہے۔سید مجاہد علی
(14.06.2016) سوشل میڈیا کی بیماری ،جس کا کوئی علاج نہیں
(06.06.2016) امیر اور غریب کے درمیان بڑھتی خطرناک خلیج ۔عباس مہکری 
(03.06.2016) زلزلے کیوں آتے ہیں  ۔از:‌ڈاکٹر جہاں آراءلطفی ۔ پاکستان 
(31.05.2016) دل کے پھپھولے جل اُٹھے۔۔۔ از ؛ شاہد جمیل احمد 
(31.05.2016) گوادر، چاہ بہار کی ضرورت کیوں؟ اسرار بخاری
(27.05.2016) ایف سولہ لڑاکا طیاروں کا سودا: امریکہ کی ہارس ٹریڈنگ
(25.05.2016) ملا اختر منصور کی موت اور پاک امریکہ تعلقات پر اثرات
(18.05.2016) ایف سولہ لڑاکا طیاروں کا سودا: امریکہ کی ہارس ٹریڈنگ
(10.05.2016) حلب کب تک تباہی برداشت کر سکتا ہے؟ عبدالرحمان الراشد
(09.05.2016) بس ڈرائیور کا پاکستانی بیٹا " لندن کا میئر "ترکی الدخیل
(05.05.2016) ''معیارتعلیم ''' بنائیں گے'''مفت تعلیم '' کے نام پر۔از:‌محمدثقلین رضا
(03.05.2016) آر وی دی نیشن آف ایدھی؟؟؟؟۔از:‌شبیر احمد ، لاہور ، پاکستان 
(01.05.2016) مزدوروں کے عالمی دن پر  بھی مزدوروں کو مزدوری کرنی پڑتی ہے 
(29.04.2016) رینجرزمجرموں اور پولیس پیسے کے پیچھے ۔از:‌پروفیسر ڈاکٹر شبیر احمد خورشید
(28.04.2016) پانامہ لیکس کے پیچھے کون ہے؟ یہ ایک اہم سوال ہے
(22.04.2016) صدر اوباما کے دورے سے ایران کو فائدہ پہنچے گا!
(20.04.2016) اوباما ایک مختلف سعودی عرب کا دورہ کیوں کررہے ہیں؟
(18.04.2016)  چھوٹو گینگ اور جنوبی پنجاب کے ڈیرے ۔۔۔ از؛ محمدثقلین رضا‎ 
(15.04.2016) کیا پاناما پیپرز کامیاب اور روایتی میڈیا ناکام ہوا؟



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
شمس جیلانی  »
صفدر ھمٰدانی  »
ماہ پارہ صفدر  »
ڈاکٹر نگہت نسیم  »
زرقا مفتی  »
سیدہ زائرہ عابدی۰بجو  »
محمد احمد ترازی  »
محمد عظیم اعظم  »
عالم آرا  »
سیدہ رافیعہ گیلانی  »
شاہین اشرف علی  »
اظہرالحق نسیم  »
فرخندہ رضوی  »
ڈاکٹر فاخرہ نورین  »
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
  شمس جیلانی   
  مزید ++
  صفدر ھمٰدانی    
  مزید ++
  ماہ پارہ صفدر   
  مزید ++
  ڈاکٹر نگہت نسیم   
  مزید ++
  زرقا مفتی   
  مزید ++
  سیدہ زائرہ عابدی۰بجو   
  مزید ++
  محمد احمد ترازی   
  مزید ++
  محمد عظیم اعظم   
  مزید ++
  عالم آرا   
  مزید ++
  سیدہ رافیعہ گیلانی   
  مزید ++
  شاہین اشرف علی   
  مزید ++
  اظہرالحق نسیم   
  مزید ++
  فرخندہ رضوی   
  مزید ++
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں