کفار ِ مکہ اس بات کے منتظر تھے کہ حضور(ص) کی کو ئی اولاد نرینہ تو موجود ہے نہیں لہذا ان کی آنکھ بند ہو تے ہی یہ دین بھی ختم ہو جا ئے گا اور نام بھی ! یہ تصور ان میں اس لیئے پیدا ہوا تھا کہ مکہ کے قیام کے دوران حضور (ص) کے اکلو تے فر زند انتقال فر ما ئے گئے تھے ۔اسی کے جواب میں سورہ الکوثر نازل فر ماکر اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اس کی نفی فر مادی جس میں پیغام یہ تھا کہ “ ( اے میرے محبوب غم نہ کیجئے ) آپ نہیں بلکہ آپ کوابتر کہنے والے ابتر ہوں نگے آپ صرف میری راہ میں قربانی دیتے رہیں اور نماز پڑھتے رہیں میں آپ کو ( حوض) کو ثر عطا کرونگا ۔ زمانے نے دیکھا کہ اس کے با وجود کہ بنو امیہ اور بنو عباس دونوں نے آل ِ فاطمہ کو شہید کر نا اپنا فر ض ِ منصبی سمجھا ،اور اللہ کی قدر ت کو شکست دینا چا ہی !مگر جس طرح اکیلے آدم علیہ السلام سے تقریبا ًسات ارب انسان اس وقت دنیا ں میں موجود ہیں اسی طرح صرف ایک جوڑے حضرت علی اور اور حضرت فاطمہ کی اولاد اتنی بڑھی کہ جس کی تعداد محتاط اندازے کے مطابق کروڑوں میں ہو گی ۔ جبکہ ابتری کا طعنہ دینے والوں کو اللہ نے با دشاہت بخشی اور وہ اتنے قتل بھی نہیں ہوئے، اس کے با وجود وہ آج ڈھونڈے سے نہیں ملتے۔اس لیئے کہ ان کی اولاد اگر کہیں تھی بھی تو وہ ابن ِ ابو لہب ، ابن ِ ابو سفیان ابن ِ معاویہ اور ابن ِ یزید کہلوانے سے شر ماتی تھی۔ لہذا اب اس کا کہیں وجود نہیں ملتا اور قرآن کی پیشن گوئی مطابق وہ ابتر ہو گئے۔ یہ تو ہونا ہی تھا اس لیئے کہ اللہ کے کہے کو کون بدل سکتا ہے؟
جبکہ حضور(ص) کے لیے قانون ِ نسب بدل کر اللہ نے بجا ئے بیٹے کے بیٹی سے جاری فر مادیا اور ان پر دین کی اشا عت کو بھی فرض فر مادیا جو کہ تا حال جاری ہے اور انشا اللہ اس وقت جاری رہے گی۔جب تک کہ یہ سب حدیث کے مطابق اسی حوض کو ثر پر جاکر دوبارہ حضور (ص) کی خدمت میں حا ضر نہ ہو جا ئیں ۔اس کی اصل وہ حدیث ہے جس میں کہ خم ِ غدیرکے موقعہ پر حضور (ص) نے فر مایا کہ “ میں اپنے پیچھے قرآن اور اپنی عترت چھوڑے جارہا ہوں انہیں مضبوطی سے پکڑے رہنا؟ یہ نگراں رہیں گے تا وقتیکہ یہ مجھ سے حوض کو ثر پر آکر نہ ملیں؟ اور آیت مودہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ “اے میرے حبیب ان سے کہدو کہ میں تم سے تبلیغ کا کوئی صلہ نہیں مانگتا میرا صلہ توا للہ کے پاس ہے لیکن تم سے اپنے اقربا کے لیئے محبت کا بر تا ؤ چاہتا ہوں “ یہ تھا وہ پسِ منظر جن حالات میں حضرت امام حسن علیہ السلام کی ولادت، حضور اور مسلمانوں کے لیئے جواہمیت رکھتی تھی اس کا آپ اندازہ کر سکتے ہیں۔
پندرہ رمضان المبارک سن تین ہجری کی شام تھی حضور (ص) نماز سے فارغ ہو کر مسجد میں تشریف فرما لوگوں کے سوالات کے جواب دے رہے تھے ، گوکہ گلستان ِ نبوت(ص) میں مدتوں کی ویرانی کے بعد پہلا پھول کے کھلنے کی اطلاع چاروں طرف گشت کر رہی تھی۔ مگر آج کی طرح اس وقت یہ سہولت حا صل نہ تھی کہ وقت سے پہلے یہ معلوم کر لیتے کہ نوزائیدہ لڑکی ہے یا لڑکا ۔ جو اس پر مطلع کر دیئے گئے تھے وہ بھی اس لیئے خاموش تھے کہ اللہ اپنے کسی راز کو وقت سے پہلے کبھی ظاہر فرمانا پسند نہیں فرماتا۔ اتنے میں جبر ئیل علیہ السلام مسجد میں تشریف لے آئے اور حضور (ص) کو ایک کپڑا پیش کیا جس پر “ حسن “ لکھا ہوا تھا ۔ حضور (ص) نے پو چھا کہ یہ کس کا نام ہے تو انہوں نے فرمایا کہ حضرت فاطمہ کے بطن ِپاک سے تولد ہو نے والے آپ کے نواسے کا۔ وہ جو دلوں کا حال جانتا ہے چونکہ اسے اپنے نبی (ص) پسند معلوم تھی کہ حضور (ص) اپنے نواسے کا نام شبر رکھنا چاہتے ہیں جو کہ ہارون علیہ اسلام کے بڑے صاحبزادے کا نام تھا ۔ لہذا اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اس کے ہم معنی نام جو اس نے روز ازل سے لکھ رہا تھا بھیج دیا تاکہ حضور (ص) کی یہ خواہش بھی پو ری ہو جا ئے۔ جبکہ اس نام کا کوئی شخص دنیا میں پہلے موجود نہیں تھا۔ جس میں ان کی اکملیت کا اشارہ بھی مضمر تھا۔ کیونکہ یہ ایسا لفظ ہے کہ جس چیز کے ساتھ لگا دیا جا ئے تو اس میں اکملیت پیدا ہو جاتی ہے۔ مثلا ً حسن ِ انتظام حسن تقریر حسن ِ تدبیر وغیرہ ۔ وہ سراپا صبر اور برداشت تھے جس میں انکا کوئی ثانی نہ تھا جوکرایہ پر بھیجے گئے برا کہنے والوں کو بھی نوازتے تھے ۔
قصہ مختصر حجرہ فاطمہ سلام اللہ علیہا سے بچے کے تولد ہو نے کی اطلا ع آگئی ۔ حضور (ص) اور صحابہ کرام کو بہت خوشی ہو ئی محفل بر خواست ہو گئی ۔ اور حضور (ص)حجرہ فاطمہ سلام اللہ علیہا کی طرف تشریف لے گئے ۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے بچہ اٹھا کر نانا (ص) کی گود میں دیدیا ۔ جو شکل و شباہت میں اپنی ماں کے ہم شکل تھا ۔ اور ماں کے بارے میں حضرت عا ئشہ (رض) سے یہ روایت بیان ہو ئی ہے کہ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا سے زیادہ شکل و صورت عادات اطوار میں حضور (ص) سے مشابہ کو ئی نہیں تھا۔ حضور (ص) نے ایک کان میں ا ذان اور دوسرے میں اقامت کہی اور اس کے بعد اپنی زبان مبارک ان کے منہ میں دیدی جس کو وہ اس طرح چو سنے لگے جیسے کہ اس میں سے شہد کی نہر بہہ رہی ہو ۔ اور نو زائیدہ کو وہ تمام خزانہ منتقل ہو گیا جو نا نا (ص) کے پاس تھا۔ جسے قرآن کی زبان میں علم ِ لدنی کہتے ہیں غالبا ً یہ ہی وجہ تھی کہ وہ قر آن ، حدیث اور فقہ میں ماہر ہونے کے با وجود کسی کے بظاہر شاگرد نہ تھے ۔ چونکہ نام عالم ِ بالا سے تجویز ہو کر آگیا تھا ،لہذا عقیقے کا انتطار غیر ضروری تھا۔ اس لیئے حضور (ص) نے نام کا اعلان بھی فر مادیا۔
اس پر پورے مدینہمنورہ میں عید کا سا سماں دکھا ئی دینے لگا ۔ مگر ان کی عید ہمارے جیسی نہ تھی نہ مسجد میں چرا غاں ہوا نہ گولے چھوٹے نہ کوئی محفل منعقد ہو ئی۔ لوگ جوق در جوق آتے گئے اور شکرانے کے نوافل ادا کرتے اور حضور (ص) کو مبارک باد یتے رہے۔ حضور (ص) بھی انتہا ئی خوش تھے کہ مدتوں کے بعد ان کے با غ میں بہار آئی تھی۔ پھر سات دن کے بعد حضرت حسن علیہ السلام کے سر کے مو ئے مبارک خود اتارے اس کے برابر چاندی تول کر صدقہ دی ۔ یہ بھی ہماری تعلیم کے لیئے تھا ورنہ اس گھرانے میں تو اللہ سبحانہ تعالیٰ سے کو ئی حساب کتاب ہی نہ تھا جو پاس ہوتا وہ ہی نہیں بلکہ قرض لیکر بھی دیتے، یہ ہی حالت حضور (ص) کی اور بیٹی اور داماد کی بھی تھی ۔ اس کے بعد ایک دنبہ ذبح کیا اور گوشت اہل ِ مدینہ میں تقسیم کروادیا۔ حضرت امام کی کنیت ابو محمد تھی۔ اور لقب در بار خلافت سے سید عطا ہوا تھا۔ ان کا سن ِ مبارک صرف ساڑھے سات سال تھا جب حضور(ص) کا وصال ہو ا۔ حضور ان کو بے انتہا چا ہتے تھے۔ ایک دن حضور (ص) دونوں بھا ئیوں کو کاند ھے پر بٹھا ئے لیئے جا رہے تھے کہ ایک صحابی ملے اور انہوں نے فر ما یا کہ سواری بہت اچھی ہے تو حضور (ص) نے جواب دیا کہ سوار بھی بہت اچھے ہیں ۔ ایک اور حدیث میں حضور (ص) نے حضرت حسن کو جنت کا سردار بھی فر مایا ۔ اور یہ پشن گوئی بھی کی تھی کہ میرا یہ بیٹا مسلمانو ں کے دو گروہوں میں صلح کر ائے گا۔ ایک دوسری روایت میں جسکو حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا نے بیان فر ما یا کہ ایک دن میں دونوں صا حبزادوں کو لیکر حضور (ص) کی خدمت میں پیش ہو ئی اور میں نے عرض کیا کہ یہ دونوں آپ(ص) کے بیٹے ہیں کچھ وراثت میں عطا فر ما ئیے ۔ حضور(ص) نے فر مایا کہ حسن (رض) کو میری سیادت او رفتح با لرعب اور حسین کو میری سخاوت اور شجا عت عطا ہوگی۔ اور وہ واقعہ بھی آپ لوگوں سنا ہو گا کہ ایک دن حضور (ص)حالت ِ سجدہ میں تھے کہ حضرت حسن پہونچ کر ان(ص) کی پشت پر سوار ہو گئے اور اس وقت تک انہوں (ص) نے سجدے سے سر نہیں اٹھایا جب تک کے وہ خود ہی پشت سے اتر نہیں گئے ۔اس کے علاوہ ان کی فضیلت میں بہت سی احادیث مو جود ہیں۔ جو کہ اس مختصر مضمون میں ساری بیان کر نا مشکل ہیں ۔ مختصر یہ کہ طریقت میں بھی حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے بعد ان کا نمبر دوسرا ہے۔ اس سے ان کے مقام کا اندازہ ایک مبتدی کو بھی بخوبی ہو سکتا ہے کہ ان کامقام کیا تھا۔