دو دن گزرنے کے بعد بھی چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کے اغوا کیے گئے بیٹے اویس علی شاہ کا سراغ نہیں لگایا جاسکا، وزیراعلیٰ سندھ نے بازیابی میں مدد دینے والے کے لیے ایک کروڑ روپے انعام کا اعلان کیا ہے۔
چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کے بیٹے اویس علی شاہ کو اغوا ہوئے50گھنٹے سے زائد کا وقت گزر گیا، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے تاحال اویس شاہ کا سراغ لگانے میں ناکام ہیں۔
اویس شاہ کو کس نے اغوا کیا اور کیوں؟اغواکار انہیں کہاں لے گئے،اس معاملے میں پولیس کے پاس اب تک کوئی معلومات نہیں۔
آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے سینٹرل پولیس آفس میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اویس علی شاہ شہر کے گنجان علاقے سے اغواء ہوئے، افسوس ہے کہ آس پاس دیکھنے والوں نے لوگوں نے بروقت پولیس کو اطلاع دینے کی زحمت نہ کی۔
آئی جی سندھ کا کہنا تھا کہ اویس شاہ کے اغواکاروں نے انہیں اغوا کس مقصد کیلئے کیا ہے اب تک ان کا کوئی مطالبہ سامنے نہیں آیا ہے،اس معاملے کو سلجھانے کیلئے حساس اداروں سے بھی مدد مانگی ہے،اگر کسی صوبے سے کوئی سراغ ملاتو اس صوبے کے انتظامیہ کی مدد بھی لیں گے۔
دوسری جانب سندھ بار کونسل کے عہدیدارواں نے سندھ ہائی کورٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے واقعے کی مذمت کی ہے، وکلاء کا کہنا تھا کہ ایک ہفتے میں اگر اویس شاہ کو بازیاب نہیں کرایا گیا تو آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا