امجد صابری قتل کیس کی تحقیقات جاری ہیں۔ کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ کی ٹیم نے قوال امجد صابری کے گھر پہنچ کر اہلخانہ سے ضروری معلومات حاصل کیں 28.06.2016, 04:00am , منگل (GMT+1)
امجد صابری قتل کیس کی تحقیقات جاری ہیں۔ کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ کی ٹیم نے قوال امجد صابری کے گھر پہنچ کر اہلخانہ سے ضروری معلومات حاصل کیں۔
ایس ایس پی انویسٹی گیشن سی ٹی ڈی نوید خواجہ کی سربراہی میں سی ٹی ڈی کی ٹیم نے امجد صابری کے اہلخانہ سےملاقات کی۔ ایس ایس پی سی ٹی ڈی نوید خواجہ کے مطابق ملاقات کے دوران امجد صابری کے قتل کے حوالے سے اہلخانہ سے کچھ اہم معلومات حاصل ہوئی ہیں، جبکہ امجد صابری کے قتل کی تحقیقات جاری ہیں، جلد ملزمان کو گرفتار کرلیا جائیگا۔
.........................
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سجا د علی شاہ کے صاحبزادے بیرسٹر اویس علی شاہ کے اغوا پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے چیف سیکر یٹر ی ، ڈی جی رینجرز ، آئی جی سندھ و دیگر کو اویس علی شاہ کی بازیابی کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت کر دی ہے
چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کے مغوی صاحبزادے اویس شاہ کوجلد سے جلد بازیاب کرانے کاحکم دیتے ہوئے کہاہے کہ اویس شاہ کے اغوا سے عام آدمی کو منفی پیغام ملاہے ، ججز اوران کے اہلخانہ عدم تحفظ کا شکارہوگئے ہیں‘پولیس بروقت کارروائی کرتی تو صورتحال مختلف ہوتی
۔تفصیلات کے مطابق ہفتے کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں اعلی سطح کے اجلاس منعقد ہوئے ۔ جس میں چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے چیف سیکر یٹر ی اور ہوم سیکر یٹر ی ، آئی جی سندھ اور شعبہ تفتیش کے دیگر پولیس افسران اور ڈی جی رینجرز کے ساتھ الگ الگ اجلاس کیے اور اویس علی شاہ کے اغوا کے بعد پید اہونے والی صورتحال کا جائزہ لیا‘
دوران اجلاس متعلقہ حکام نے اویس علی شاہ ایڈووکیٹ کو بازیاب کرانے کے لیے کی جانے والی اب تک کی کارروائیوں ، پیش رفت اور اٹھائے گئے اقدامات پر چیف جسٹس کو بریفنگ دی ۔ اس موقع پر چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے اویس علی شاہ کے اغوا پر شدید تحفظات کا اظہار کیا اور تمام متعلقہ حکام کو ہدایت جاری کی کہ وہ اویس علی شاہ کی بازیابی کے لیے تمام تر وسائل کو بروئے کار لائیں ۔
وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے معروف قوال امجد صابری کے اہل خانہ کے لیے ایک کروڑ روپے معاوضے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ امجد صابری کا قتل کراچی کے علاقے لیاقت آباد میں ہوا ہے جہاں کوئی پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا‘ دہشت گرد اویس شاہ کے اغوا کی صورت میں عدلیہ پر دباؤ ڈالنےکی کوشش کررہے ہیں‘ میں کوئی پیر فقیر نہیں ہوں جو یہ بتادوں کہ قاتل کب پکڑے جائیں گے مگرامجدصابری قتل کیس سے متعلق اہم شواہد مل گئے ہیں‘قاتل جلدکٹہرے میں ہوں گے ۔
انہوں نے یہ بات ہفتہ کو سندھ اسمبلی میں بجٹ پر خطاب کرتے ہوئے کہی ۔ انہوں نے کہا کہ اگر امجد صابری کی بیوہ چاہیں تو انہیں مناسب نوکری بھی فراہم کی جائے گی‘ ان کے بچوں کے تعلیمی اخراجات بھی حکومت سندھ برداشت کرے گی‘ چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کے صاحبزادے اویس شاہ کے اغواء کا معاملہ بھی جلد حل ہو جائے گا اور انہیں بحفاظت بازیاب کرا لیا جائے گا‘دہشت گردوں کی کوشش ہے کہ عدلیہ کو ہراساں کیا جائے ‘دہشت گردوں کی ہم سےازلی دشمنی ہے ‘ وہ ہمیں بھی پریشان کرنا چاہتے ہیں لیکن ہم اویس شاہ کو بازیاب کرا لیں گے ‘انہوں نے کہاکہ اویس شاہ کے اغواء کے سلسلے میں 9 رکنی کمیٹی بنا دی گئی ہے ۔ یہ کمیٹی چیف جسٹس سے ملاقات کرے گی اور اویس شاہ کی بازیانی کی کوششوں کی نگرانی کرے گی‘انہوں نے کہا کہ امجد صابری کے قتل اور اویس شاہ کے اغواء کی تحقیقات کے لیے سینئر افسران پر مشتمل تین ٹیمیں بنائی گئی ہیں ۔ ان افسروں میں سلطان خواجہ ، منیر احمد شیخ ، نوید خواجہ ، راجہ عمر خطاب اور دیگر شامل ہیں ‘ ایک نگراں ٹیم بھی بنائی گئی ہے ، جو ڈی جی رینجرز اور آئی جی سندھ پر مشتمل ہے ‘ دونوں کیس جلد حل کر لیے جائیں گے ۔
........................
وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے سندھ اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عالمی شہرت یافتہ قوال امجد صابری کے قاتلوں کو پکڑنے کے حوالے سے اہم پیشرفت کا دعویٰ کیا۔
سندھ اسمبلی کے بجٹ اجلاس سے خطاب میں قائم علی شاہ نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے امجد صابری کے معاملے میں اہم سراغ حاصل کرلیے ہیں اور قاتلوں کو جلد پکڑ لیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ سندھ نے امجد صابری کے اہل خانہ کے لیے ایک کروڑ روپے امداد کابھی اعلان کیا، جبکہ مقتول کی اہلیہ کو سرکاری ملازمت دینے کی بھی پیش کش کی۔
خطاب کے دوران وزیراعلیٰ قائم علی شاہ کی زبان بھی کئی بار پھسلی اور انہوں نے امجد صابری کی جگہ جنید جمشید کو 'شہید' کہہ دیا جبکہ ایک شعر بھی غلط پڑھا۔
قائم علی شاہ نے اپنے خطاب میں چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ سجاد علی شاہ کے بیٹے اویس شاہ کے اغواکو گھناؤنا فعل قرار دیا اور مغوی کے بارے میں معلومات فراہم کرنے والے کے لیے ایک کروڑ روپے انعام کا اعلان بھی کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اویس شاہ کی بازیابی کے لیے کمیٹی بنادی گئی ہے اور اس حوالے سے بھرپور کوششیں کی جارہی ہیں۔
قائم علی شاہ کا کہنا تھا کہ اویس شاہ کا اغواء عدلیہ پردباؤ ڈالنے کی ایک کوشش ہوسکتی ہے۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے اپنے خطاب میں گشتہ برس مارچ میں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم ) کے مرکز نائن زیرو پر رینجرز کے چھاپے کا بھی ذکر کیا، ان کا کہنا تھا کہ آج رینجرز کی تعریف کرنے والے کل 'گورینجرز گو' کے نعرے لگارہے تھے۔
وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ نائن زیرو سے جولوگ پکڑے گئے ان کی فہرست رینجرز نے جاری کی تھی۔
قائم علی شاہ نے صحافی ولی بابر کے قتل اور اس کے مجرموں کے مقدمہ کا احوال بھی سنایا۔
طویل خطاب پر اپوزیشن کے شورشرابے کے جواب میں قائم علی شاہ نے کہا کہ ابھی 30 سے 40 منٹ اور بولوں گا، 'ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں۔'
انہوں نے ایم کیو ایم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف پرحملہ کرنے والوں کو بھی ہم نے پکڑا، یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم کراچی کے لیے نہیں سوچتے۔
انھوں نے مزید کہا کہ آج بھی ہم سے سوال کیا جاتا ہے کہ 12 مئی کی تحقیقات کیوں نہیں کیں، اس دن ہم پرپل سے فائرنگ کی گئی تھی۔
قائم علی شاہ نے کراچی آپریشن کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اس دوران 400 پولیس اہلکار اور 40 رینجرز اہلکار جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
.........
.........
امجد صابری کا قاتل کون؟؟ قتل کی اُلجھی ڈور کا پولیس کو سرا مل گیا ،سُرجانی ٹاؤن سے قتل میں ملوث شخص پکڑا گیا ، گرفتار ملزم نے اہم انکشافات کئے ہیں ، ملزم کا تعلق ایک سیاسی جماعت سے ہے،گرفتار شخص کی نشاندہی پر چھاپوں کا سلسلہ جاری ہے۔
محکمہ انسداد دہشت گردی نے کراچی کے علاقے سرجانی ٹاؤن سے سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والے ایک ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔ سی ٹی ڈی کا دعویٰ ہے کہ ملزم نے امجد صابری قتل کیس سے متعلق اہم انکشافات کئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق محکمہ انسداد دہشت گردی نے امجد صابری قتل کیس کے سلسلے میں سرجانی ٹاؤن میں ٹارگٹڈ کارروائی میں ایک ملزم کو گرفتار کر لیا ہے ۔ سی ٹی ڈی ذرائع کے مطابق ملزم نے امجد صابری قتل کیس کے حوالے سے اہم انکشافات کئے ہیں تاہم ملزم کا نام ظاہر نہیں کیا گیا۔
دوسری طرف کراچی کے مختلف علاقوں میں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 3 ملزمان گرفتار کر لیے۔ سہراب گوٹھ میں مبینہ مقابلے میں ڈاکو ہلاک ہو گیا۔ پولیس کے مطابق لیاری دبئی چوک پر کارروائی کی گئی۔ کارروائی میں گینگ وار بابا لاڈلا گروپ کو ملزم وحید گرفتار کیا گیا۔
منگھو پیر سے اسٹریٹ کرائم میں ملوث 2 ملزمان گرفتار کے لئے گئے۔اُدھر سپر ہائی وے کے قریب جنجال گوٹھ میں مبینہ پولیس مقابلہ ہوا ہے جس میں ڈاکو ہلاک ہو گیا۔نیو کراچی رحمانیہ موڑ کے قریب فائرنگ سے ایک شخص جاں بحق ہو گیا۔
............................
معروف قوال امجد صابری کے قتل کیس نے اُس وقت ایک نیا موڑ اختیار کرلیا جب ایک خاتون نے دعویٰ کیا کہ پولیس کی جانب سے جس مبینہ حملہ آور کا خاکہ جاری کیا گیا وہ دراصل ان کا بیٹا ہے جو گذشتہ 3 سالوں سے لاپتہ ہے۔
خاتون کے اس دعویٰ سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ شخص کو جلد ہی چند دنوں میں گرفتار کرلیا جائے گا۔
کلفٹن کے قریب اَپر گزری کی رہائشی حمیدہ خاتون اس حوالے سے پٹیشن دائر کرنے گذشتہ روز سندھ ہائی کورٹ پہنچیں اور اس موقع پر میڈیا کو بتایا کہ انھوں نے 2014 میں علاقہ پولیس اسٹیشن میں اپنے بیٹے ناصر کی گمشدگی کی ایف آئی آر بھی درج کروائی تھی۔
بعدازاں خاتون نے ڈان خبار سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ سندھ ہائی کورٹ میں اپنے بیٹے کی سیکیورٹی اور بازیابی کے لیے پٹیشن دائر کروانے آئی تھیں لیکن ایسا کر نہیں سکیں کیونکہ عدالت کا وقت ختم ہوگیا تھا۔
انھوں نے کہا، 'اب میں کل صبح درخواست جمع کرواؤں گی'۔
حمیدہ خاتون نے مزید کہا کہ ابھی تک انھوں نے اس حوالے سے کسی وکیل سے رابطہ نہیں کیا، ان کا کہنا تھا 'میرا وکیل اللہ ہے'۔
انھوں نے بتایا کہ ان کے شوہر بیروزگار ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ جب ان کا بیٹا پراسرار طور پر گمشدہ ہوا، تو اس وقت وہ بھی بیروزگار تھا۔
حمیدہ خاتون نے رندھی ہوئی آواز میں بتایا، 'میں نے جب سے ٹی وی پر خاکہ دیکھا ہے، میں پوری رات سو نہیں سکی'۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ 'میں صابری صاحب کے قتل کی شدید مذمت کرتی ہوں لیکن مجھے پورا یقین ہے کہ میرے بیٹے کا اس واقعے سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔'
یاد رہے کہ رواں ماہ 22 جون کو معروف قوال امجد صابری کی گاڑی پر لیاقت آباد نمبر 10 کے علاقے میں نامعلوم افراد کی جانب سے فائرنگ کی گئی تھی جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔
امجد صابری کی تدفین پاپوش نگر قبرستان میں پیرحیرت شاہ وارثی کے مزار کے احاطے میں کی گئی، امجد صابری کے والد غلام فرید صابری کی قبر بھی اسی احاطے میں موجود ہے۔
ان کے جنازے میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ شریک ہوئے اور اس دوران ہر آنکھ اشکبار نظر آئی۔
......................
......................
امجد صابری کو کراچی میں آہوں اور سسکیوں کے درمیان پاپوش نگر قبرستان میں والد اور چچا کے پہلو میں سپرد خاک کر دیا گیا اور یوں ایک عہد دفن ہو گیا ۔ اس سے پہلے انکی نماز جنازہ الیاقت آباد روڈ پرادا کی جا چکی تھی جس میں پزاروں کی تعداد میں لوگ شامل رہے جو ہر طبقہ فکر سے تھے۔ نماز جنازہ
درگاہ بابا فرید کے گدی نشین احمد دیوان مسعود نے پڑھائی ۔اس موقع پر سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیئے گئے تھے
اس سے قبل؛میت کو غسل دے دیا گیا تھا۔
تدفین پاپوش نگر قبرستان میں والد کے پہلو میں کرنے کے انتظامات تھے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امجد صابری کوپیرحیرت شاہ وارثی کےمزارکےاحاطےمیں سپردخاک کیاجائےگا ۔امجد صابری کےوالدغلام فرید صابری کی قبربھی اسی احاطےمیں ہے۔
کراچی میں گزشتہ روز فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے معروف قوال امجد صابری کے لیاقت آباد میں واقع گھر کے باہر اس وقت بھی لوگ بڑی تعداد میں موجود ہیں۔امجد صابری کے گھر تعزیت کے لئے آنے والا ہر شخص ان کی یاد میں اداس ہے۔
لندن سے کراچی پہنچنے والے امجد صابری کے چچا کا کہنا ہے وہ امجد صابری کے بھائی سے ملنے جرمنی سے لندن آئے تھے کہ کل انھیں امجد صابری کے جاں بحق ہونے کی خبر ملی ،سابق کرکٹر شعیب محمد بھی امجد صابری کے گھر پہنچے اور ان کی یادیں تازہ کیں ۔
قوال امجد صابری قتل کیس کی تحقیقات کے دوران رینجرز حکام نے مقتول کے گھر کی سی سی ٹی وی کیمروں کی ویڈیو تحویل میں لے لی۔ واقعے کی جیو فینسنگ مکمل کرلی گئی ہے۔پولیس نے ایک ملزم کا خاکہ جاری کردیا۔ابتدائی تحقیقات میں قتل کے لیے استعمال اسلحہ پہلے استعمال نہ کئے جانے کا انکشاف ہوا۔
امجد صابری کے قتل کے خلاف ملک کے مختلف شہروں میں احتجاج اور دعائیہ محافل منعقد کی جا رہی ہیں۔نوبیل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی کہتی ہیں یہ واقعہ پاکستان کے تشخص پر حملہ ہے،حکومت قاتلوں کو فوری گرفتار کرکے سزا دے ۔
مجلس وحدت مسلمین کی جانب سے نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے سامنے امجد صابری کو خراج عقیدت پیش کرنے کےلیے تقریب کا اہتمام کیا گیا۔تقریب میں خواتین اور بچوں سمیت لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
لاہور پریس کلب کے باہر ہونے والے مظاہرے میں فوک گلوکار شوکت علی اور اداکار راشد محمود سمیت سول سوسائٹی کے ممبران اور مجلس وحدت مسلمین کے کارکنوں نے شرکت کی۔مظاہرین نے قاتلوں کی فوری گرفتار کا مطالبہ کیا۔
نیشنل ہاکی اسٹیڈیم لاہور میں جاری فلڈ لائٹ ہاکی ٹورنامنٹ کے میچ سے قبل کھلاڑیوں اور سابق اولمپیئنز نے قوال امجد صابری کے قتل پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا، اس موقع پر گراؤنڈ میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔
معروف قوال امجد صابری کو دن دیہاڑے شہر کے گنجان آباد علاقے میں ٹارگٹ کیا گیا۔ واقعے کا مقدمہ تاحال درج نہیں کیا گیا۔
وال امجد صابری قتل کیس کی جیو فینسنگ کر لی گئی،کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہونے والے امجد صابری کیس میں پیش رفت ہوئی اور ملزم کاخاکہ جاری کردیا گیا ہے۔ جبکہ تفتیشی ذرائع کے مطابق قتل میں استعمال والا اسلحہ پہلے کسی کیس میں استعمال نہیں کیا گیا۔ لیاقت آباد 10 نمبر پر قتل امجد صابری کے قتل کا مقدمہ درج نہیں ہوسکا۔
امجد صابری کی نماز جنازہ آج بعد نماز ظہر ادا کی جائے گی ۔ نماز جنازہ درگاہ پاک پتن شریف کے گدی نشین دیوان احمد چشتی کی امامت میں ادا کی جائے گی ۔
معروف قوال امجد صابری کے قتل میں ملوث ملزم کا خاکہ جاری کردیا گیا ہے۔ ملزم کی باریک مونچھیں اور بڑی بڑی آنکھیں ہیں۔ خاکے میں ملزم کو ٹوپی پہنے دیکھا جاسکتا ہے۔
دوسری جانب تفتیشی ذرائع کے مطابق امجد صابری کے قتل میں استعمال اسلحہ پہلے استعمال نہیں کیا گیا۔ موقع سے ملنے والے خول پہلے کسی واردات سے میچ نہیں ہوئے۔
اس سے قبل حیدری میں بوہری برادری پر فائرنگ میں بھی نیا اسلحہ استعمال ہوا تھا۔ اور سمن آباد میں تبلیغی جماعت کے افراد پر فائرنگ میں استعمال اسلحہ بھی میچ نہیں ہوا تھا جبکہ عائشہ منزل پر ٹریفک پولیس اہلکاروں کے قتل میں بھی نیا اسلحہ استعمال ہوا تھا۔
تحقیقاتی ادارے کرائم سین پر دوبارہ پہنچے اور جائے واردات کو گھیرے میں لے کرواردات کی جیو فیسنگ کی گئی۔
لیاقت آباد 10 نمبر پر قتل امجد صابری کے قتل کا مقدمہ درج نہیں ہوسکا۔ ذرائع کے مطابق ابھی تک پولیس کی ضابطے کی کارروائی مکمل نہیں ہوسکی ہے۔
ادھرامجد صابری کی والدہ کہتی ہیں امجد فرماںبردار بیٹا تھا۔ ظہر کی نماز پڑھ کر گھر سے نکلا تھا، غم کا پہاڑ ٹوٹا
.....................
وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے امجد صابری کے قتل کی آئی جی سندھ سے رپورٹ طلب کرلی ہے ساتھ ہی ناکہ بندی کرکے فوری طور پر قاتلوں کی گرفتاری کا حکم بھی دیدیا ہے ۔
ترجمان وزیر اعلیٰ ہائوس کے مطابق سید قائم علی شاہ نے ایس پی لیاقت آباد سے واقعے کی وضاحت طلب کر لی ہے ،جبکہ ڈی ایس پی اور ایس ایچ او لیاقت آباد کو معطل کرنے کا حکم دیدیا ہے ۔
وزیراعلیٰ سندھ نے امجد صابری کے قتل کے حوالے سے ڈی جی رینجرز سے بھی رابطہ کیا اور کہا کہ یہ واقعہ سازش کےتحت شہرکےحالات خراب کرنے کی کوشش ہے۔
سید قائم علی شاہ نے ڈی جی رینجرز اور آئی جی سندھ کو گشت بڑھانے اور ناکہ بندی کرکے فوری طور پر قاتلوں کی گرفتاری کی ہدایت کی ہے ۔
سریلی آواز ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگئی،کراچی کے علاقے لیاقت آباد میں کار پر فائرنگ میں معروف قوال امجد صابری سمیت دو افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ ایک شدید زخمی ہے ،پولیس کے مطابق ایک موٹرسائیکل پر سوار2 مسلح افراد نے امجد صابری کی گاڑی روک کر سامنے سے فائرنگ کی۔
امجد صابری کی نماز جنازہ آج بعد از ظہر ہو گی۔ وہ غلام فرید صابری کے بیٹے اور مقبول صابری کے بھتیجے تھے۔ایس ایس پی سینٹرل مقدس حید رکے مطابق امجد صابری کی گاڑی پر 6گولیا ں فائر کی گئیں جبکہ قاتلانہ حملے میں تیس بور کا پستول استعمال کیا گیا،جائے وقوعہ سے 5خول برآمد کرلئے گئے ہیں۔
ڈی آئی جی ویسٹ ذوالفقار لاڑک کے مطابق امجد صابری فرنٹ سیٹ پر بیٹھے تھےجبکہ سلیم صابری گاڑی چلارہے تھے ،جو شدید زخمی ہوئے ہیں۔سینئر ڈائریکٹر ہیلتھ سروسزکے مطابق امجد صابری کو مردہ حالت میں اسپتال لاگیا۔
پولیس کے مطابق ان کی میت لیاقت آباد میں واقع ان کی رہائش گاہ پہنچادی گئی ہے جبکہ گاڑی کو شریف آباد تھانے منتقل کردیا گیا ہے ۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے آئی جی سندھ سے واقعے کی رپورٹ طلب کی اور کہا کہ واقعہ شہر کا امن کو نقصان پہنچانے کی سازش ہے، ناکہ بندی کرے قاتلوں کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے ۔
ایم کیو ایم نے امجد صابری کے قتل پر تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے ،کراچی کے نامزد میئر وسیم اختر معروف قوال کی رہائش گاہ پہنچ گئے۔
متحدہ قومی موومنٹ نے امجدصابری کے قتل پر 3 روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے، اعلامیے کے مطابق 3روزتک ایم کیو ایم کی سیاسی وتنظیمی سرگرمیاں معطل رکھی جائیں گی۔
اس سے قبل ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار کا امجد صابری کے قتل پر قومی اسمبلی میں شدید مذمت کرتے ہوئے کہنا تھا کہ امجد صابری کو خوف لاحق تھا اور انہوں نے یہ بات ہمیں بتادی تھی۔
انہوں نے کہا کہ امجد صابری ایم کیو ایم کے کارکن کی طرح تھے،وہ باور کرا رہے تھے کہ کراچی کے سیکیورٹی حالات بہتر نہیں۔
عالمی اخبار کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے
ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور
ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور
بے لاگ صحافت ہے۔ . رابطہ ٹیلی فون: لندن447796515479+ ، آسٹریلیا
61425201035+ ، ای میل:
رابطہ@عالمی
اخبار۔کوم۔ جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں