موت بھی تیری موت پہ امجد روتی ہے
قاتل ہیں بیدار حکومت سوتی ہے
عاشق آل محمد تیری تربت میں
قدرت عشق علی کی خوشبو بوتی ہے
فکر یزیدی آج بھی دشمن ذکر حسین
نام علی سے اتنی دشمنی ہوتی ہے ؟
قاتل کو یہ زعم کہ اس نے مار دیا
امجد صابری صدف سے نکلا موتی ہے
کیسی بدقسمت ہے صفدر یہ اُمت
اپنے ہاتھ سے اپنا ورثہ کھوتی ہے