|
ظالمو رمضان المبارک میں تو انسان بن جاؤ ۔۔۔از۔۔ شمس جیلانی
25.06.2016, 04:01am , ہفتہ (GMT+1)
از۔۔ شمس جیلانی
ہم ہر بات کا الٹ کرتے ہیں جبکہ عہد جاہلیہ میں بھی رمضان شروع ہوتے ہی جنگ و جدال بند ہوجاتا تھا ۔ ہم نے نئی طرح ڈالی ہے کہ جہاں رمضان شریف شروع ہو ئے اس دن سے ہنگامے بھی شروع ہوگئے۔ اس کے پیچھے کون ہے یہ سوال پیدا ہورہا ہے اصل میں اس کے پیچھے وہ درندے ہیں جو اپنے سواکسی کو مسلمان نہیں سمجھتے ۔دشمن ہماری ہی تاریخ پڑھ کر اس راز سے واقف ہوا کہ کچھ ہمارےہی ساتھیوں نےہمیں سے باغی ہوکر اسلام میں اصلاح کےنام پر فتنہ خارجیہ پیدا کیا جو مدتوں تک چلتا ہے اور قتل اور غارت کرتا رہا جس کو چنگیزیزیوں نے ختم کیا۔بس اسی فتنہ کے دوبارہ بیج بوکر انہوں نے آبیاری کردی؟ میری اس معروضات پر بہت سے لوگ کہیں گے کہ پھر رمضان میں کیوں غزوہ بدر کیوں ہوا تو اس کا جواب یہ ہے کہ کفاراس وقت اسلام دشمنی میں اتنے پاگل ہوگئے تھے کہ جسطرح ہم آجکل ہوئے ہیں۔ انہوں نے بھی اپنی قدریں جو حضرت ابراہیم (ع) سے چلی آرہی تھیں پہلی دفعہ چھوڑ کر رمضان میں یوں لڑی گئی کہ وہ اسلام کانام مٹانا چاہتے تھے اور اس کے نتیجہ میں انہیں اللہ سبحانہ تعالیٰ کے عذاب نے ایساپکڑا کہ نہتے مسلمانوں کے ہاتھو ں ان کے بہتر سردار مارے گئے اور بہتر ہی گرفتار ہوئے۔ یہاں یہ ہی کچھ کئی عشروں سے ہم کر رہے ہیں ۔ اب زمینی حقائق یہ ہیں کہ امن کے لیے سب سے زیادہ کوشاں ادارے! یعنی رینجرز کو جوکہ فوج کی ہی ایک شکل ہے جس نے اس فتنے کو پچھلے دو سالوں سے بڑی کامیا بی سے اسی فیصد ختم کیا تھا اسےباوجوہ سب نے ملکر غیر فعال بنا دیا ہے۔ ایسا کیا کیوں کیا اور اسکے پیچھےکون ہے؟ اس میں بعض لوگ تو اس لیے حائل ہیں کہ وہ پاکستان کوا یک جمہوری ملک سمجھتے ہیں۔ اور عوم کو وہ سہولیات عطا کرنا چاہتے ہیں جو جمہوری ملکوں کے باشندوں کو حاصل ہیں ۔ جبکہ نہ یہاں عوام دوسرے جمہوری ملکوں جیسے ہیں نہ خواص جمہوری ملکوں جیسے اور نہ لیڈر جمہوری ملکوں جیسے ہیں ۔ ان سب کے بیچ میں سب سے زیادہ مقدس پاکستان کا وہ دستور ہے جس میں ہر دور میں ترامیم ہوچکی ہیں جن کی تعداد اب تک بائیس ہوچکی ہے ؟ جبکہ اس کا ٹائیٹل انتہا ئی خوبصورت اور دل آویز ہے جس میں جلی حرفوں سے لکھا ہوا کہ یہاں “ حکمرانی اللہ سبحانہ تعالیٰ کی ہوگی اور وہ قرآن اور سنت کے مطابق ہوگی۔ جوقوانین اس وقت قر آن و سنت کے مطابق نہیں ہیں انہیں دس سال کے اندر اسلامی سانچے میں ڈھالا جا ئے گا “ اسی دستور میں کچھ خصو صی دفعات عطا فرما دی گئیں تھیں، جن میں لکھا ہوا ہے کہ حکمراں کیسے ہونگے “ان کے لیے شرط اول یہ ہے کہ وہ امین ہوں“ جس کے خلاف تمام حکمراں با جماعت الیکشن سے پہلے دہائی دیتےسنے کہ “ خدارا ہمیں اس چھلنی سے مت گزارو اس پر ہم میں سے کوئی پورا نہیں اتر سکتا “ اوراس صورت میں جو قیادت آ ئے گئی وہ صرف علماءکی ہوگی “ جبکہ نہ جانے کیوں علماء کی قیادت نہ سیاستدانوں کو پسند ہے نہ عوام کو جس کا ثبوت یہ ہے کہ وہ انہیں ووٹ ہی نہیں دیتے۔ لہذا سب کے بے حد اصرار پر ان دفعات کو بغیر دستور میں تبدیلی لائے معطل کردیا گیا ؟ اور نہ جانے کیوں اس سے سب نے، اور خصوصاً شعبہ عدل نے بھی چشم پوشی اختیار کر لی۔ شاید وجہ یہ رہی ہو کہ سب جانتے تھے کہ علما ئے باعمل کا اتنی بڑی تعداد میں فراہم ہونا مشکل ہے، ایک ہزار سے زیادہ علما ئے با عمل کہاں سے آ ئیں گے جو اسمبلیوں میں رکنیت پوری ہو؟ کیونک سب ایک تجربہ اس سے پہلے کر چکے تھے کہ مشرف صاحب رکنیت کے لیے گریجویٹ ہونا لازمی قرار دیدیا تھا اور اس کے درس نظامی کےہر فاضل کو جوکہ علماءعام طور پر ہوتے ہی ہیں ،گریجویٹ کے مساوی قرار دیدیا تھا۔ اس میں نہ جانے کیسے ان اچھی خاصی تعداد علماءوالی سند لیکر اسمبلی میں پہونچ گئی، جنہیں کہ علم القرآن وسنت اور فقہ تو بہت دور کی بات ہے، سورہ اخلاص جیسی چھوٹی سورہ بھی یا دنہیں تھی۔ یہ سب راز کی باتیں ہیں ا ور اہلِ راز ہی جانتے ہیں کہ علما ئے کرام میں کالی بھیڑیں کیسے آئیں؟ جنہوں نے اپنے علاقے کے ممبروں کو اپنے آبائی اور پشتینی کانسی ٹیونسی سے محروم کر نا پسند نہیں کیا اور ترس کھاکر بروقت ڈگریاں عطا فرمادیں تاکہ انہیں کوئی جہالت کا طعنہ نہ دے؟ اس کے نتیجہ طور پر جو حکمراں آئے تو وہ ایسے ہی تھی جیسے انہوں نے خود بتایا تھا۔ مگرکم از کم انہوں نے خود مسلمان تو ثابت کردیا کہ کیونکہ حدیث شریف کے مطابق ً “ مسلمان سب کچھ ہو سکتا جھوٹانہیں “ اگر اس مرتبہ بھی وہ کوئی چکرچلا کر اور اس امتحان سے گزر اسمبلی میں آجاتے تو مشرف صاحب کی سابق اسمبلی کی طرح عدالتو ں کے چکر لگانے میں پرا عرصہ گزر جاتا دوسرے کم ازکم انہوں نے اس سے ایک بات ثابت کی کہ “ مسلمان سب کچھ ہوسکتا ہے مگر جھوٹا نہیں “ یہ تو ہم نے ایک دفعہ اور بھی دستور کے چند سیکشنوں کی بات کی تھی! اس کے علاوہ بھی بہت سے قوانین دستور میں موجود ہیں جن پر عام طور پر عمل نہیں ہورہا ہے۔ لیکن اگر کوئی قائد کا ساتھی ہو تو وہ کسی بھی آمر یا ظالم کی مشکل کشائی ان سے کر سکتا ہے اور اسے کام میں لاکر چلتی گاڑی کو بریک لگا سکتا ہے یابریک تھرو دے سکتا ہے یہ سب کچھ کرنا اس کی صوابدید پر ہوتا جیسی ضرورت پڑے؟ اسی لیے نظریہ ضرورت کے تحت پہلی دفعہ کام لیا تھا۔اب ایسا لگ رہا ہے کہ نیا میدان تیار ہورہا ہے اورایک گروہ اپنی ڈوبتی ہوئی کشتی بچانے کے لیے رو بعمل ہوگیا ہے !کیونکہ دنیا نے انہیں پہچان لیا ہے۔کہ شر پسندی کے ذمہ دار کون ہیں ۔ اور دوا کہاں سے ملے گی۔موت اس مرتبہ ایک بیچارے قوال کی آگئی تھی اور اس کا سب سے بڑا گناہ یہ ہے تھا کہ وہ انسان بھی تھا اور دامہ درہمے انسانیت کی خدمت بھی کرتا رہتا تھا۔ اس نے لالو کھیت میں آنکھ کھولی تھی اور آج تک اس نے وہ علاقہ اورہمسایہ نہیں چھوڑے جبکہ وہاں رہنا کچھ بن جانے کے بعد دل اور گردے کا کام ہوتا ہے ؟ کیونکہ ہم اپنے ایک رشتہ دار سے واقف ہیں کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی لالو کھیت میں گزاری ،مگر بعد میں جب ان کی لڑکیا ں بڑی ہوگئیں اور وہاں کی رہائش کی وجہ سے رشتہ نہیں آئے کیونکہ اس میں سماجی تقسیم حائل تھی، تو انہوں نے یہ جانے بغیر نقل ِ مکانی کی ٹھانی کہ موت ان کی گھات میں ہے ؟ اس نے ان کا انتطار بھی نہیں کیا ،ابھی وہ منتقل نہیں ہو پائے تھے کہ اللہ کو پیارے ہوگئے ۔ شاید ان کی روح محلہ چھوڑ نے کو تیار نہیں ہوئی جیسے مغرب میں پہلے ماں باپ بڑے چا ؤ سے اپنے بچوں کو لیکر آتے ہیں بچوں کو وہاں تعلیم دلاتےہیں۔ پھر واپس جانا چاہتے ہیں تو بچے جانے کو تیار نہیں ہوتے ؟ اسی طرح جو لوگ رمضانیوںمیں رہنے کے عادی ہوں، تو وہ نقل مکانی سے بہت گھبراتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ وہاں وسائل کے بغیر بھی زندہ رہ سکتے ہیں کیونکہ وہاں روز ہڑتالیں ہوتی رہتی ہیں مگر کوئی دقت نہیں ہوتی جس چیز کی ضرورت ہو پڑوسیوں کے یہاں سے مل جاتی ہے اور کبھی تو کوئی پڑوسن کسی گھر سے دھواں اٹھتے نہیں دئکھتی تو وہ خود جاکر اور ہانڈی کا ڈھکنا اٹھا کر دیکھ لیتی ہے ، زور مرہ کی چیزیں پہونچا آتی ہے۔ کیونکہ قرآن میں ان کی مذمت کی گئی ہے جو اپنی چیزیں دوسروں کو برتنے کو نہیں دیتے ۔ ویسے بھی یہ سہولتیں ایسے شہرمیں بہت کام آتی ہے جہاں آئے دن ہڑتالیں ہو تی رہتی ہیں۔ جبکہ وہ وہا ں جاکر کیسے زندہ رہ سکتے جہا ں برابر میں پڑوسی مر جا ئے اور جب تک فضا میں تعفن نہ اٹھنے لگے تب تک اس کے مرنے کا علم نہیں ہوتا؟ آج سے چند دن پہلے ہم جب سوکر اٹھے تو پہلی خبر صابری قوال کے قتل کے شکل میں پڑھی اس سے پہلے پیمرا نے دو چار دن پہلے کچھ لوگوں اور دو چینلز پر پابندی بھی عاید کی تھی کہ۔ وہ اشتعال انگیز گفتگو کر رہے تھے۔ یہ کاروائی کس کے اشارے پر کی ہمیں پتہ نہیں! جبکہ یہاں جب سےپرایئویٹ چینل آئے تو مشرف صاحب کا دور دورہ تھا؟ وہ اسلام کو ماڈرنائزڈ کر نا چا ہتے تھے لہذا سب کو دل کھول چھوٹ دی گئی کہ پاکستان کو ماڈرن ثابت کرسکیں۔ ہر ایک کو پاکستان اور نظریہ پاکستان پر کھلے حملوں کی عام اجازت تھی گو کہ ڈرون حملوں کی طرح وہ کہیں ضابطہ تحریر میں نہیں لائی گئی تھی کہ اس کی کیا ضرورت ہے ؟ برطانیہ کا آدھا دستور ضابطہ تحریرمیں آئے بغیر نافذ ہو سکتا ہے تو ہما را کیوں نہیں ہوسکتا ہے؟ وہ آئے بھی رخصت بھی ہوگئے؟ مگر اس میں کوئی فرق واقع نہیں ہوا کیونکہ زرداری صاحب ً مکمکاؤ ً اورکام چلا ؤکے عادی تھے؟ جبکہ موجودہ حکمراں صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں کے فارمولے پر عمل پیراہوکر حکومت کرنےکی پالیسی اپنا ئے ہوئے ہیں؟ پس اس تمام بحث کا نچوڑ یہ ہے کہ رہے عوام ان کا کوئی پرسان حال نہ پہلے تھا نہ اب ہے۔ کیونکہ وزیر اعظم اپنے پہلے دو ادوار میں بھی عوام کی پہونچ سے باہر رہ کر ہی حکومت کرتے تھے چونکہ عوام نے انکا طرز حکمرانی دیکھااور برت کر ان کو دو تہائی اکثریت دی ہے لہذا انشاللہ وہ آئندہ بھی انہیں کو ووٹ دیںگے۔ یہ طرز وہ ہے جوکہ انگریزوں نے کبھی رائج کیا تھا اور کامیاب ترین طرز حکمرانی سمجھا جاتا ہے؟جسے انہوں نے تقریبا ً دو ڈیرھ سوسال بخوبی چلایا کہ براہ راست حکومت نہ کرو! بلکہ بل واسطہ حکومت کرو تاکہ بد نامی بیچ والو ں کے سر آئے اور پھل خود کھا ؤ؟ اسی پر یہ بھی عمل پیرا ہیں ۔ نعرے جمہوریت کے کام آمریت کے ہیں اس طرح تمام ادارے ایک ہی پیج پر ہیں؟۔آ گے کیا ہونے والا وہ کسی کو پتہ نہیں ؟ پردہ اٹھنے کی منتظر ہے نگاہ؟ اس تمام بحث و مباحثہ میں ایک ادارے کے نائب سربراہ کی بات کچھ میرے دل کو لگی جو انہوں نے کامران خان کے شو میں اس سوال کے جواب میں دبے دبے لہجے میں کہی تھی کہ کافی بچے ایسے ہیں جو بے روزگار ہیں ؟ لہذا ہمیشہ رمضان میں چھوٹی موٹی واردتیں بڑھ جاتی ہیں ؟جسے انہوں نے ریکارڈ سے بھی یہ کہہ کر ثابت کیا تھاکہ پپچھلے سال بھی رمضان میں جرائم بڑھ گئے تھے؟ اب بات وہیں جاکر رک جاتی ہے کہ جولوگ بجائے شہروں کو پیرس بنا نے کے، کہ جو دیکھے وہ واہ واہ کرے؟ رشوت خوری اور بد عنوانی کو ختم کر دیں تو مسئلہ حل ہو سکتا ہے ،؟ پھر پہلے کی طرح ملازمتیں رقم کی بناد پر نہیں، قابلیت کی بنیاد پر ملنے لگیں گی، تو نہ کوئی قرضہ لیکر اور اپنی آبائی زمنیں پیچ ملازمتیں خریدے گا ۔ نہ پولس اسٹیشن نیلام میں خریدےگا ۔ نہ کوئی بے ایمانی کریگا۔ مگر اس میں ً ایک پنتھ دو کام والا معاملہ نہیں چل سکتا ہے۔ جس سے حکمرانوں کی دولت میں اس تیزی سے اضا فہ ہوسکے؟ میں اس مضمون کو اپنے ہیاس شعر پر ختم کرتا ہوں ع ہوس ِزر ہے ایسی بیماری جس میں اکتفا نہیں ہوتا سب کو حالات ہی بنا تے ہیں کوئی پیدا برا نہیں ہوتا
|