وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین شہریارخان کو عہدے سے مستعفی ہونے سے منع کرتے ہوئے اپنے کام کو جاری رکھنے کی ہدایت کردی ہے۔
چیئرمین پی سی بی شہریارخان چھٹیوں پر ان دنوں لندن میں موجود ہیں جہاں انھوں نے وزیر اعظم میاں نواز شریف سے ملاقات کی اور ان کی خیریت دریافت کرنے کے علاوہ پی سی بی کے معاملات سے بھی انھیں آگاہ کر دیا۔
انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق کے 'پی سی بی کے پیٹرن ان چیف (وزیراعظم) نے انھیں آگاہ کیا ہے کہ اپنے کام کو جاری رکھنا چاہیے اور منصوبے کے مطابق رواں سال اگست میں اپنے عہدے سے کنارہ کش نہ ہوں'۔
رپورٹ کے مطابق وزیراعظم سے تفصیلی ملاقات کے بعد شہریار خان نے بطورچیئرمین پی سی بی اپنے کام کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔
واضح رہے شہریارخان نے کچھ عرصہ قبل خود واضح کیا تھا کہ ان کا عہدے سے الگ ہونے کا کوئی ارادہ نہیں اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی فیصلہ کیا ہے۔
شہریارخان پی سی بی کے پہلے باقاعدہ منتخب چیئرمین ہیں جبکہ انھیں 2014 میں ابتدائی طور پر دو سال کے لیے عہدہ دیا گیا تھا جبکہ بورڈ کے نئے آئین میں تین سال کی مدت مقرر کی گئی ہے۔
ڈان کو دیے گئے حالیہ ایک انٹرویو میں استعفیٰ کے حوالے سے گردش کرنے والی خبروں پر ان کا کہنا تھا 'ہاں، خبروں میں بھی سنتا رہا ہوں کہ میں اگست میں اپنا عہدہ چھوڑ رہا ہوں لیکن میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ان رپورٹس میں کوئی سچائی نہیں ہے، درحقیقت تاحال اس حوالے سے میں نے کوئی فیصلہ نہیں کیا'۔
'مجھے آئین کی خاص شق کی بنیاد پر منتخب کیا گیا ہے جو مجھے تین سال کی مدت پوری کرنے کی اجازت دیتی ہے تو یہ فیصلہ کسی اور کو نہیں بلکہ مجھے خود کرنا ہے'۔
پاکستان کرکٹ ٹیم کی ایشا کپ ٹی ٹوئنٹی اور ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں ناقص کارکردگی کے بعد پی سی بی نے ٹیم انتظامیہ میں بڑی تبدیلیاں کرتے ہوئے سابق کپتان انضمام الحق کو چیف سلیکٹر، مدثر نذرکو اکیڈمیز کا سربراہ اور مکی آرتھر کو قومی ٹیم کا ہیڈ کوچ مقرر کیا تھا۔