 |
| موہنی حمید کی یادگار تصویر |
ریڈیو پاکستان کی معروف صدارتی ایوارڈ یافتہ صداکارہ موہنی حمید امریکہ میں انتقال کر گئیں۔ مرحومہ کی عمر تقریباً 87 سال تھی۔
ریڈیو کے ابتدائی دنوں میں جن لوگوں نے ادائیگی کے اعلیٰ معیار قائم کئے ان میں موہنی حمید کا نام سر فہرست ہے۔
مرحومہ ریڈیو کی معروف صداکارہ اور ڈرامہ آرٹسٹ صدارتی ایوارڈ یافتہ کنول نصیر کی والدہ تھیں اور وہ 20 سال پہلے مستقلاً امریکہ منتقل ہو گئی تھیں۔
موہنی حمید نے الیگزینڈر ریڈیو امرتسر سے اپنے فنی زندگی کا آغاز کیا اور تقسیم ہند کے بعد لاہور منتقل ہو گئیں،
 |
| موہنی حمید صوفی تبسم کے ہمراہ |
یہاں ریڈیو میں بطور ڈرامہ آرٹسٹ اور کمپیئر صداکاری شروع کر دی۔ انہوں نے آغاز میں صوفی غلام مصطفی تبسم کے بہت سے نغمے گائے جو بے پناہ مقبول ہوئے۔ ان میں ٹوٹ بٹوٹ کی نظمیں اور ننھے میری گڑیا چھوڑ بے حد مقبول ہوئے۔
موہنی حمید نے ایشیائی کوئل اور امتیاز علی تاج ایوارڈ کے علاوہ دو مرتبہ تمغہ امتیاز بھی حاصل کیا۔
وہ تقریباً 40 سال تک ریڈیو میں آپا شمیم کے نام سے بچوں کا پروگرام کرتی رہیں جس میں انکے ساتھی میزبان ابوالحسن نغمی تھے۔
انہوں نے 1974 میں پہلی مرتبہ جب ریڈیو پاکستان سے ''ڈسک جوکی'' پروگرام شروع ہوئے تو عظمیٰ گیلانی، ریحانہ صدیقی،ماہ پارہ صفدر اور مہناز رفیع کے ساتھ صفدر ھمٰدانی کی پروڈکشن میں روزانہ صبح نشر ہونے والے پروگرام''سورج کے ساتھ ساتھ '' میں ڈسک جوکی میزبان کے طور پر حصہ لیا بی بی سی نے موہنی حمید کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے ” گولڈن وائس آف ایشیا “ کے نام سے پروگرام ریکارڈ کیا تھا۔ موہنی حمید کے ساتھ آفتاب احمد، محمد حسین، عقیل احمد، آغا حامد، ڈاکٹر انور سجاد جیسے افراد نے کام کیا۔
ادارہ عالمی اخبار ایسی بڑی فنکارہ کے انتقال پر انکے اہل خانہ سے تعزیت کرتا ہے اور انکی مغفرت کے لیئے دعا گو ہے۔
ابوالحسن نغمی کی کتاب‘‘ یہ لاہور ہے‘‘ سے ایک اقتباس
ابوالحسن نغمی کی یادوں کا خزانہ
‘‘وہ لوگ جو ساٹھ کے عشرے کے اوائل میں پانچ چھ برس کے تھےاور ریڈیو پاکستان لاہور سے بچوں کا مقبول ترین پروگرام ’بچوں کی دنیا‘ سنا کرتے تھے ان کے ذہنوں میں اس پروگرام کی آپا جان موہنی حمید اور بھائی جان ابوالحسن نغمی کی آوازیں بلا شبہ محفوظ ہونگی ۔یہ دونوں آوازیں جیسے لاہور ریڈیو کی شناخت بن گئی تھیں۔ وقت بدلا اور پھر موہنی حمید اور نغمی صاحب دونوں امریکہ میں آباد ہوگئے۔ ابوالحسن نغمی لاہور ریڈیو سے وائس آف امریکہ کی اردو سروس میں آ گئے اور اس طرح مائکروفون کے ذریعے ان کا اپنے سامعین سے رابطہ برقرار رہا‘‘۔