مولانا چراغ حسن حسرت کی وفات
٭26جون1955ء کو اردو کے ممتاز شاعر، ادیب اور صحافی مولانا چراغ حسن حسرت لاہور میں انتقال کر گئے۔ مولانا چراغ حسن حسرت 1904ء میں بارہ مولا (کشمیر) میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے کلکتہ کے اخبار نئی دنیا سے اپنی صحافیانہ زندگی کا آغاز کیا اور متعدد اخبارات سے وابستہ رہے۔جس میں احسان، شہباز، امروز‘ نوائے وقت اور زمیندار کے نام سرفہرست تھے۔
مولانا چراغ حسن حسرت کا شمار اردو کے صف اول کے طنزنگاروں میں ہوتا ہے۔ان کی کتابوں میں کیلے کا چھلکا، پربت کی بیٹی، مردم دیدہ، دو ڈاکٹر اور پنجاب کا جغرافیہ کے نام سرفہرست ہیں۔
---------------------------------------------------------------------------------------------------------
مجید لاہوری کی وفات
٭26 جون 1957ء کو اردو کے نامور مزاح نگار‘ روزنامہ ’’جنگ ‘‘کے کالم نویس اور پندرہ روزہ نمکدان کے مدیر مجید لاہوری کا انتقال ہوا۔
مجید لاہوری کا اصل نام عبدالمجید چوہان تھا۔ وہ 1913 میں پنجاب کے شہر گجرات میں پیدا ہوئے تھے۔
مجید لاہوری نے 1938ء میں روزنامہ انقلاب لاہور سے صحافت کا آغاز کیا اور اس کے بعد کئی اخبارات اور پھر محکمہ پبلسٹی سے وابستہ رہے۔1947ء میں وہ کراچی آئے اور انصاف‘ انجام اور خورشید میں قلمی خدمات انجام دینے کے بعد روزنامہ جنگ کے ادارے سے وابستہ ہوئے اور اپنا مشہور معروف کالم حرف و حکایت لکھنا شروع کیا۔ جنگ سے ان کی وابستگی ان کی وفات تک جاری رہی۔وفات سے چند روز پہلے وہ انفلوئنزا کے مہلک مرض میںمبتلا ہوئے۔ جوان دنوں پورے پاکستان میں وبا کی شکل میں پھیلا ہوا تھا۔ اس مہلک مرض میں مبتلا ہونے کے باوجود بھی وہ اپنے قارئین سے غافل نہیں رہے۔ ان کے آخری دونوں کالموں کا عنوان تھا۔’’انفلوئنزا کی نذر‘‘ آخری سے پہلے کالم میں جو صرف چند سطروں پر مشتمل تھا، انہوں نے لکھا تھا ’’میں بھی انفلوئنزا کی لپیٹ میں آگیا ہوں اس لئے نہیں چاہتا کہ اس حالت میں کالم لکھ کر جراثیم آپ تک پہنچائوں‘‘ جبکہ آخری کالم میں جو ان کی وفات کے دن شائع ہوا، صرف اتنا تحریر تھا ’’آج دوسرا دن ہے‘‘۔
-----------------------------------------------------------------------------------------------------
وقار انبالوی کی وفات
اردو کے ممتاز صحافی، شاعر اور ادیب جناب وقار انبالوی کی تاریخ پیدائش 22 جون 1896ء ہے۔
جناب وقار انبالوی موضع چنار تھل ضلع انبالہ میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنی عملی زندگی کا آغاز صحافت سے کیا اور لاہور کے متعدد اخبارات سے وابستہ رہے۔ ان اخبارات میں پرتاب، ملاپ، ویر بھارت، زمیندار، احسان، سفینہ، آفاق اور نوائے وقت کے نام سرفہرست ہیں۔
وقار انبالوی کی شاعری اور افسانوں کے کئی مجموعے شائع ہوئے۔
26 جون 1988ء کو جناب وقار انبالوی وفات پاگئے اور سہجووال، شرقپور ضلع شیخوپورہ میں آسودۂ خاک ہوئے۔
اردو کا یہ مشہور شعر جو بالعموم علامہ اقبال سے منسوب کیا جاتا ہے، انہی کا کہا ہوا ہے:
اسلام کے دامن میں بس اس کے سوا کیا ہے
ایک ضرب ید اللہٰی، اک سجدئہ شبیری
----------------------------------------------------------------------------------------------------
جسٹس محمد منیر کی وفات
٭26 جون 1981ء کو پاکستان کی تاریخ کے سب سے متنازع چیف جسٹس، جسٹس محمد منیر وفات پاگئے۔
جسٹس محمد منیر 3مئی 1895ء کو پٹیالہ میں پیدا ہوئے تھے۔ قیام پاکستان کے بعد انہیں بعض اہم مناصب پر خدمات انجام دینے کا موقع ملا۔ انہوں نے ریڈ کلف ایوارڈ میں مسلمانوں کی نمائندگی کی، لیاقت علی خان کے قتل کے بعد ان کے قتل کیس کی تفتیش کرانے والے کمیشن کی سربراہی کی۔ 1953ء کے فسادات کے اسباب کی تفتیش کرنے والے کمیشن کے سربراہ رہے۔ 29 جون 1954ء سے 2 مئی 1960ء تک پاکستان کے چیف جسٹس رہے اور بعدازاں ایک مختصر دورانیے کے لئے ا نہوں نے صدر ایوب خان کی کابینہ میں وزیر قانون کے فرائض بھی انجام دیئے۔
بطور چیف جسٹس آف پاکستان، جسٹس منیر کا وہ فیصلہ آج بھی متنازع سمجھا جاتا ہے جس میں انہوں نے 1954ء میں غلام محمد کے دستور ساز اسمبلی کے توڑے جانے کے کو نظریہ ضرورت کا سہارا لیتے ہوئے جائز قرار دیا تھا۔ اس فیصلے کو متنازع سمجھے جانے کا ایک بڑا سبب یہ بھی ہے کہ خود جسٹس منیر نے اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد اعتراف کیا تھا کہ ان کا یہ فیصلہ حالات کے دبائو کا نتیجہ تھا۔
اپنے آخری زمانے میں انہوں نے ایک کتاب Jinnah to Ziaتحریر کی تھی جس میں پاکستان کی سیاسی تاریخ کا تجزیہ کیا گیا تھا۔ جسٹس محمد منیر لاہور میں گلبرگ کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔