14.10.2026, 12:16pm , بدھ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
اعلان و انتخاب آجکا دن
 

٭26جون1955ء کو مولانا چراغ حسن حسرت لاہور میں انتقال کر گئے
26.06.2016, 04:05am , اتوار (GMT+1)

وقار زیدی ۔ کراچی
مولانا چراغ حسن حسرت کی وفات

٭26جون1955ء کو اردو کے ممتاز شاعر، ادیب اور صحافی مولانا چراغ حسن حسرت لاہور میں انتقال کر گئے۔ مولانا چراغ حسن حسرت 1904ء میں بارہ مولا (کشمیر) میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے کلکتہ کے اخبار نئی دنیا سے اپنی صحافیانہ زندگی کا آغاز کیا اور متعدد اخبارات سے وابستہ رہے۔جس میں احسان، شہباز، امروز‘ نوائے وقت اور زمیندار کے نام سرفہرست تھے۔
مولانا چراغ حسن حسرت کا شمار اردو کے صف اول کے طنزنگاروں میں ہوتا ہے۔ان کی کتابوں میں کیلے کا چھلکا، پربت کی بیٹی، مردم دیدہ، دو ڈاکٹر اور پنجاب کا جغرافیہ کے نام سرفہرست ہیں۔
---------------------------------------------------------------------------------------------------------

مجید لاہوری کی وفات

٭26 جون 1957ء کو اردو کے نامور مزاح نگار‘ روزنامہ ’’جنگ ‘‘کے کالم نویس اور پندرہ روزہ نمکدان کے مدیر مجید لاہوری کا انتقال ہوا۔
مجید لاہوری کا اصل نام عبدالمجید چوہان تھا۔ وہ 1913 میں پنجاب کے شہر گجرات میں پیدا ہوئے تھے۔
مجید لاہوری نے 1938ء میں روزنامہ انقلاب لاہور سے صحافت کا آغاز کیا اور اس کے بعد کئی اخبارات اور پھر محکمہ پبلسٹی سے وابستہ رہے۔1947ء میں وہ کراچی آئے اور انصاف‘ انجام اور خورشید میں قلمی خدمات انجام دینے کے بعد روزنامہ جنگ کے ادارے سے وابستہ ہوئے اور اپنا مشہور معروف کالم حرف و حکایت لکھنا شروع کیا۔ جنگ سے ان کی وابستگی ان کی وفات تک جاری رہی۔وفات سے چند روز پہلے وہ انفلوئنزا کے مہلک مرض میںمبتلا ہوئے۔ جوان دنوں پورے پاکستان میں وبا کی شکل میں پھیلا ہوا تھا۔ اس مہلک مرض میں مبتلا ہونے کے باوجود بھی وہ اپنے قارئین سے غافل نہیں رہے۔ ان کے آخری دونوں کالموں کا عنوان تھا۔’’انفلوئنزا کی نذر‘‘ آخری سے پہلے کالم میں جو صرف چند سطروں پر مشتمل تھا، انہوں نے  لکھا تھا ’’میں بھی انفلوئنزا کی لپیٹ میں آگیا ہوں اس لئے نہیں چاہتا کہ اس حالت میں کالم لکھ کر جراثیم آپ تک پہنچائوں‘‘ جبکہ آخری کالم میں جو ان کی وفات کے دن شائع ہوا، صرف اتنا تحریر تھا ’’آج دوسرا دن ہے‘‘۔
-----------------------------------------------------------------------------------------------------

وقار انبالوی کی وفات

اردو کے ممتاز صحافی، شاعر اور ادیب جناب وقار انبالوی کی تاریخ پیدائش 22 جون 1896ء ہے۔
جناب وقار انبالوی موضع چنار تھل ضلع انبالہ میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنی عملی زندگی کا آغاز صحافت سے کیا اور لاہور کے متعدد اخبارات سے وابستہ رہے۔ ان اخبارات میں پرتاب، ملاپ، ویر بھارت، زمیندار، احسان، سفینہ، آفاق اور نوائے وقت کے نام سرفہرست ہیں۔
وقار انبالوی کی شاعری اور افسانوں کے کئی مجموعے شائع ہوئے۔
26 جون 1988ء کو جناب وقار انبالوی وفات پاگئے اور سہجووال، شرقپور ضلع شیخوپورہ میں آسودۂ خاک ہوئے۔
اردو کا یہ مشہور شعر جو بالعموم علامہ اقبال سے منسوب کیا جاتا ہے، انہی کا کہا ہوا ہے:
اسلام کے دامن میں بس اس کے سوا کیا ہے
ایک ضرب ید اللہٰی، اک سجدئہ شبیری
----------------------------------------------------------------------------------------------------

جسٹس محمد منیر کی وفات

٭26 جون 1981ء کو پاکستان کی تاریخ کے سب سے متنازع چیف جسٹس، جسٹس محمد منیر وفات پاگئے۔
جسٹس محمد منیر 3مئی 1895ء کو پٹیالہ میں پیدا ہوئے تھے۔ قیام پاکستان کے بعد انہیں بعض اہم مناصب پر خدمات انجام دینے کا موقع ملا۔ انہوں نے ریڈ کلف ایوارڈ میں مسلمانوں کی نمائندگی کی، لیاقت علی خان کے قتل کے بعد ان کے قتل کیس کی تفتیش کرانے والے کمیشن کی سربراہی کی۔ 1953ء کے فسادات کے اسباب کی تفتیش کرنے والے کمیشن کے سربراہ رہے۔ 29 جون 1954ء سے 2 مئی 1960ء تک پاکستان کے چیف جسٹس رہے اور بعدازاں ایک مختصر دورانیے کے لئے ا نہوں نے صدر ایوب خان کی کابینہ میں وزیر قانون کے فرائض بھی انجام دیئے۔
بطور چیف جسٹس آف پاکستان، جسٹس منیر کا وہ فیصلہ آج بھی متنازع سمجھا جاتا ہے جس میں انہوں نے 1954ء میں غلام محمد کے دستور ساز اسمبلی کے توڑے جانے کے کو نظریہ ضرورت کا سہارا لیتے ہوئے جائز قرار دیا تھا۔ اس فیصلے کو متنازع سمجھے جانے کا ایک بڑا سبب یہ بھی ہے کہ خود جسٹس منیر نے اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد اعتراف کیا تھا کہ ان کا یہ فیصلہ حالات کے دبائو کا نتیجہ تھا۔
اپنے آخری زمانے میں انہوں نے ایک کتاب Jinnah to Ziaتحریر کی تھی جس میں پاکستان کی سیاسی تاریخ کا تجزیہ کیا گیا تھا۔ جسٹس محمد منیر لاہور میں گلبرگ کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔

:دیگر مضامین
(25.06.2016) پچیس جون دانشور مسعود کھدر پوش کی تاریخ پیدائش ہے۔
(24.06.2016) ٭24 جون 2001ء کو پاکستان کے مشہور پہلوان محمد بشیر لاہور میں وفات پاگئے۔
(23.06.2016) تئیس جون 1989ء کو قیوم نظر کراچی میں وفات پاگئے
(22.06.2016) صحافی، شاعر اور ادیب جناب وقار انبالوی کی تاریخ پیدائش 22 جون 1896ء ہے
(21.06.2016) ٭ 21 جون 1953ء  ذوالفقار علی بھٹو کی صاحبزادی کی تاریخ پیدائش ہے۔
(20.06.2016) ٭20 جون 1995ء کو ہدایت کار ایم جے رانا لاہور میں وفات پاگئے
(19.06.2016) ڈاکٹر علی شریعتی کو 19 جون 1977ء کو انہیں شہید کردیا گیا۔
(18.06.2016) شاہراہ قراقرم  مکمل ہونے کے بعد  18جون 1978ء کو افتتاح ہوا۔
(17.06.2016) ٭17جون 1992ء کوڈاکٹر آئی ایچ عثمانی اسلام آباد میں وفات پاگئے
(16.06.2016) سولہ جون 1987ء کو پاکستان کے سائیں اختر حسین لاہور میں وفات پاگئے۔
(15.06.2016) ابن انشا 15 جون 1927ء کو موضع تھلہ ضلع جالندھر میں پیدا ہوئے
(14.06.2016) چودہ جون 1964ء کو مولانا صلاح الدین احمد نے ساہیوال میں وفات پائی
(13.06.2016)   تیرہ جون 2012 پاکستان کے عظیم گائیک مہدی حسن کی تاریخ وفات ہے
(12.06.2016) اردو کے ممتاز شاعر عبیداللہ علیم 12 جون 1939ء کو بھوپال میں پیدا ہوئے تھے
(12.06.2016) کویت کی ممتاز سماجی شخصیت جناب حاجی منور حسین کا افطار ڈنر
(11.06.2016) ٭11جون 1982ء کو مقبول ترین فلمی اداکار سنتوش کمار دنیا سے رخصت ہوئے
(10.06.2016)  سید آل رضا  10 جون 1896ء کو قصبہ نبوتنی میں پیدا ہوئے
(09.06.2016) مخدوم سید یوسف رضا گیلانی کی تاریخ پیدائش 9جون 1952ء ہے
(08.06.2016) ٭8 جون 1996ء کو تھیٹر کی معروف اداکارہ اور گلوکارہ بالی جٹی وفات پاگئیں۔
(07.06.2016) ٭7 جون 1962ء کو پاکستان نے اپنا پہلا راکٹ فضا میں روانہ کیا



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں