15.10.2026, 12:00pm , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
اہم ترین   
پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔
امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
 
عالمی خبریں
 

این ایس جی:ہندوستانی درخواست مسترد ہونا خوش آئند
26.06.2016, 09:12am , اتوار (GMT+1)

ایک سینئر امریکی قانون دان نے نیوکلیئر سپلائرز گروپ (این ایس جی) کی جانب سے ہندوستان کی رکنیت کی درخواست کو مسترد کرنے کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوا کہا ہے کہ اس فیصلے سے این ایس جی نے جوہری عدم پھیلائو کی عالمی کوششوں کو دوام بخشا۔

تاہم اوباما انتظامیہ میں شامل ایک سینئر عہدے دار نے واشنگٹن میں ہندوستانی صحافی کو اپنے انٹرویو میں بتایا ہے کہ اس سال کے آخر تک ہندوستان این ایس جی کا رکن بن جائے گا۔

واضح رہے کہ این ایس جی کا حال ہی میں سیئول میں سالانہ اجلاس ہوا تھا جس کے ایجنڈے میں ہندوستان اور پاکستان کی رکنیت کی درخواستوں پر غور کرنا بھی تھا، اجلاس جمعے کو ختم ہوا اور دونوں ملکوں کی درخواست منظور نہیں کی گئی۔

ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے امریکی سینیٹر ایڈ مارکی کا کہنا ہے کہ ہندوستان کی درخواست منظور نہ کرکے این ایس جی نے عالمی جوہری عدم پھیلائو کی کوششوں کو مزید مستحکم کیا ہے۔

این ایس جی کی گائیڈ لائنز کے مطابق رکن ملک کیلئے ضروری ہے کہ وہ جوہری عدم پھیلائو کے معاہدے (این پی ٹی) پر دستخط کرے جبکہ پاکستان اور ہندوستان دونوں ہی نے اس پر دستخط نہیں کیے۔

سینیٹر مارکی نے مزید کہا کہ این ایس جی کا قیام 1974 میں ہندوستان کی جانب سے کیے جانے والے ایٹمی تجربات کے ردعمل کے طور پر عمل میں آیا تھا، اور اس گروپ نے دہائیوں تک جوہری ٹیکنالوجی کو منتقل ہونے سے روکنے کیلئے کام کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ہندوستان این ایس جی کا رکن بن گیا تو وہ واحد رکن ہوگا جس نے این پی ٹی پر دستخط نہیں کیے اور ایسا ہونے سے این پی ٹی کے حوالے سے این ایس جی کی ذمہ داریاں کمزور پڑ جائیں گی۔

گزشتہ ماہ امریکی سینیٹ کی خارجہ امور کمیٹی برائے امریکا ہندوستان تعلقات کے اجلاس میں بھی مارکی نے خبردار کیا تھا کہ این پی ٹی پر دستخط کے بغیر ہندوستان کی این ایس جی میں شمولیت سے جنوبی ایشیا میں جوہری ہتھیاروں کی نہ ختم ہونے والی دوڑ شروع ہوجائے گی۔

ہندوستان کی رکنیت کیلئے ماحول سازی کرنے پر اوباما انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستان کو رعایت دینے سے پاکستان کو اپنی جوہری صلاحیت میں اضافے کا جواز مل جائے گا۔

این ایس جی کی جانب سے درخواست منظور ہونے کے بعد ایک سینئر امریکی عہدے دار نے ہندوستانی نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کو بتایا کہ این ایس جی میں ہندوستان کی شمولیت کے تمام دروازے بند نہیں ہوئے۔

عہدے دار نے کہا کہ ہمیں یقین ہے ہندوستان سال کے آخر تک گروپ کا حصہ بن جائے گا، اس کیلئے کچھ کام کرنا پڑے گا تاہم مجھے یقین ہے کہ سال کے آخر تک کوئی راہ نکل آئے گی۔

امریکی عہدے دار نے سیئول میں این ایس جی کے اجلاس کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا اور کہا کہ اجلاس کی کارروائی کو خفیہ رکھا جاتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکا نے اس معاملے پر ہندوستان اور دیگر ممالک کے ساتھ مل کر کام کیا ہے اور مہینوں کی مشاورت کے بعد ہندوستان کو میزائل ٹیکنالوجی کنٹرول رجیم میں شامل کرنے کا معاملہ بھی ترجیحات میں شامل کرلیا گیا ہے۔

:دیگر مضامین
(26.06.2016) شمال مغربی ایران میں سکیورٹی فورسز اور کرد باغیوں کے درمیان جھڑپیں
(25.06.2016) جوہری کلب میں شمولیت کا ہندوستانی خواب شرمندہ تعبیرنہ ہوسکا
(25.06.2016) سینڈرز کا پہلی مرتبہ کلنٹن کے حق میں ووٹ دینے کا اعلان
(24.06.2016) کولمبیا: باغیوں کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط
(24.06.2016) ہندوستان کا این ایس جی رکینت کا خواب چکنا چور
(24.06.2016) امریکی ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹس نے تقریباً 26 گھنٹے بعد دھرنا ختم کردیا
(24.06.2016) جرمنی:سینما فائرنگ میں کوئی زخمی نہیں ہوا،انتظامیہ
(23.06.2016) جوکاکس کی یاد میں لندن کے ٹریفلگر اسکوائر پر دعائیہ تقریب
(23.06.2016) لیبیا میں حکومتی فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان جھڑپیں
(22.06.2016) شمالی کوریا نے میڈیم رینج میزائل کاایک اور تجربہ کیا ہے
(22.06.2016) امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی اے نے اورلینڈو میں حملے کے دوران عمر متین کے فون پر کی گئی کالز کا کچھ حصہ جاری کردیا ہے
(22.06.2016) امریکا افغانستان کو 3 ارب ڈالر سالانہ امداد دے گا
(21.06.2016) افغانستان میں دو حملے، کم از کم چوبیس ہلاک
(21.06.2016) روس پر پابندیاں برقرار رہنا ضروری ہیں، اسٹولٹن برگ
(20.06.2016) کابل میں خودکش دھماکا،14 افراد ہلاک،23 زخمی
(20.06.2016) چین، ہندوستان کی این ایس جی رکنیت کیخلاف نہیں: سشما سوراج
(19.06.2016) پناہ گزینوں کو حراست میں لینا بحران کا حل نہیں: بان کی مون
(19.06.2016) امریکا کا پھر پاکستان سے حقانی نیٹ ورک اور طالبان کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ
(19.06.2016) مشیرخارجہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ طورخم پرگیٹ کی تعمیرروکی نہیں جاسکتی۔پاکستان کسی دوطرفہ معاہدےکی خلاف ورزی نہیں کررہا
(19.06.2016) دہشت گردی کی منصوبہ بندی، بیلجیم میں 12 افراد گرفتار



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں