کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس اپنے تین روزہ آرمینیائی دورے کے آخری دن ترک سرحد کے قریب کوہِ ارارات کے نشیب میں واقع کیتھولک راہب خانے خور ویراپ بھی گئے۔ اِس موقع پر امن کے قیام کے لیے انہوں نے فاختائیں بھی فضا میں آزاد کیں۔
اتوار کے روز پوپ نے آرمینیا کے آرتھوڈکس چرچ کے ایک میادزین کیتھڈرل میں منعقدہ عبادت میں بھی شرکت کی۔ اِس عبادت میں اُن کے ہمراہ آرمینیائی آرتھوڈکس چرچ کے سربراہ کیتھولیکوس کاریکِن ثانی بھی شریک تھے۔ دوسری جانب ترکی نے پوپ کی جانب سے عثمانی دور میں آرمینیائی باشندوں کے قتل کو ’نسل کشی ‘قرار دینے کی مذمت کی ہے۔ ترک نائب وزیر خارجہ نورالدین جان کلی کے مطابق پوپ کا بیان افسوس ناک اور صلیبی دور کی سوچ کا عکاس ہے۔