مہدی حسن کے فلمی کیریئر کا آغاز
٭29 جون 1956ء کا دن پاکستان کی فلمی موسیقی کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔یہ وہ دن تھا جب فلم ’’شکار‘‘ ریلیز ہوئی۔ اس فلم میں موسیقار اصغر علی محمد حسین نے ایک ایسے فنکار کو متعارف کروایا تھا جس کی آواز کا جادو آج بھی سرچڑھ کر بول رہا ہے۔ یہ فنکار مہدی حسن تھے جو اس وقت صرف غزل کے گائیک کی حیثیت سے جانے جاتے تھے اور ریڈیو پاکستان سے خالص کلاسیکی انداز میں ان کی غزلیں سن کر کوئی اندازہ بھی نہیں کرسکتا تھا کہ وہ اتنی خوبصورتی سے ہلکے پھلکے رومانی گیت بھی گاسکتے ہیں۔
فلم شکار کے فلم ساز حسن اے بیگ محمد تھے اور اس کی ہدایات رفیق انور نے دی تھیں۔ فلم شکار میں مہدی حسن نے جو گانے گائے ان میں یزدانی جالندھری کا لکھا ہوا نغمہ :
میرے خیال و خواب کی دنیا لئے ہوئے
پھر آ گیا کوئی رخ زیبا لئے ہوئے
اور’’ نظر ملتے ہی دل کی بات کا چرچا نہ ہوجائے ‘‘شامل تھے۔
------------------------------------------------------------------------------------------
مجید امجد کی پیدائش
٭ اردو کے معروف شاعر جناب مجید امجد29 جون 1914ء کو جھنگ میں پیدا ہوئے تھے۔ پنجاب یونیورسٹی سے گریجویشن کرنے کے بعد صحافت کے شعبے سے وابستہ ہوئے۔ بعد ازاں سرکاری ملازمت اختیار کی اور محکمہ خوراک میں اسسٹنٹ فوڈ کنٹرولر کی حیثیت سے ساہیوال میں مقیم رہے۔
مجید امجد کا شمار اردو کے اہم نظم گو شعرا میں ہوتا ہے‘ ان کی شاعری میں موضوعات کا بڑا تنوع پایا جاتا ہے۔ پھر ان کا شاعرانہ لہجہ بھی بڑا منفرد ہے جو ان کی شاعری میں بڑا حسن پیدا کرتا ہے۔ مجید امجد کا شمار اقبال کے بعد والی نسل میں فیض احمد فیض‘ میرا جی اور ن م راشد کے پائے کے شعرا میں ہوتا ہے۔
مجید امجد کی شاعری کے کئی مجموعے شائع ہوئے جن میں شب رفتہ‘ شب رفتہ کے بعد‘ چراغ طاق جہاں‘ طاق ابد اور مرے خدا مرے دل کے نام سرفہرست ہیں۔
مجید امجد نے 11 مئی 1974ء کو وفات پائی۔
------------------------------------------------------------------------------------------
مہاراج غلام حسین کتھک کی وفات
٭29جون 1998ء کو پاکستان کے معروف کلاسیکی رقاص مہاراج غلام حسین کتھک لاہور میں وفات پاگئے اور میانی صاحب کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔
مہاراج غلام حسین کتھک 4 مارچ 1899ء کو کلکتہ میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد رابندر ناتھ ٹیگور کے دوستوں میں شامل تھے جن کے مشورے پر غلام حسین کتھک نے پہلے مصوری اور پھر اداکاری اور کلاسیکی رقص کی تربیت حاصل کی۔ رقص میں ان کے استاد لکھنؤ کتھک اسکول کے بانی اچھن مہاراج تھے۔
1950ء میں مہاراج غلام حسین کتھک پاکستان آگئے جہاں وہ پہلے کراچی اور پھر لاہور میں رقص کی تربیت دیتے رہے۔ ان کے معروف شاگردوں میں ریحانہ صدیقی، ناہید صدیقی، نگہت چوہدری ، جہاں آرا اخلاق،رفیع انور اور فصیح الرحمن کے نام سرفہرست ہیں۔مہاراج غلام حسین کتھک نے فلم سرگم میں بھی کام کیا۔ اس فلم میں ان کی اداکاری پر انہیں بہترین معاون اداکار کا نگار ایوارڈ ملا تھا۔ حکومت پاکستان نے انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی بھی عطا کیا تھا