ترکی کے شہر استنبول کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہوئے خود کش بم حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 36 ہو گئی ہے جب کہ وزیراعظم بن علی یلدرم نے اس قوم سے متحدہ رہنے پر زور دیا ہے۔
بدھ کو علی الصبح وزیراعظم نے بتایا کہ منگل کی شام تین خودکش حملہ آوراستنبول کے مصروف ہوائی اڈے پر ٹیکسی کے ذریعے پہنچے اور یہاں خود کو دھماکے سے اڑانے سے قبل انھوں نے خود کار ہتھیاروں سے لوگوں پر فائرنگ شروع کر دی۔
وزیر انصاف باقر بوزداق کے مطابق اس حملے میں 147 افراد زخمی ہوئے۔
ایک خودکش حملہ آور نے بین لاقوامی آمد کے لیے مخصوص ٹرمینل کے باہر خود کو دھماکے سے اڑایا۔ اس مقام پر عموماً بے انتہا رش ہوتا ہے۔ دو دیگر حملہ آوروں نے اس ٹرمینل میں گھسنے کی کوشش کی جہاں پولیس کی بھاری مسلح نفری اور سکیورٹی کے آلات نصب تھے۔
تاحال اس حملے کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی ہے لیکن وزیراعظم یلدرم کا کہنا ہے کہ ابتدائی شواہد اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اس کے پیچھے شدت پسند گروپ داعش ملوث ہو سکتا ہے۔
اںھوں نے اس حملے کو "بزدلانہ کارروائی" قرار دیتے ہوئے عزم ظاہر کیا کہ ان کا ملک انتہا پسندی کے خلاف اپنی بھرپور لڑائی جاری رکھے گا۔ "یکجہتی دہشت گردوں کے لیے بہترین جواب ہوگا۔"
گزشتہ برس سے ترکی میں ہونے والے اکثر ہلاکت خیز حملوں کی ذمہ داری داعش اور کرد باغی قبول کرتے رہے ہیں۔
دہشت گرد حملے کے بعد اتاترک ائیرپورٹ پر تمام پروازیں منسوخ کر دی گئی تھیں، لیکن وزیراعظم یلدرم کے مطابق بدھ کو یہاں فضائی سرگرمی معمول کے مطابق شروع ہو جائے گی۔
پیر کو ہی امریکی محکمہ خارجہ نے ترکی کا سفر کرنے والے اپنے شہریوں کے لیے انتباہ جاری کیا تھا۔
اس حملے کی امریکہ سمیت عالمی برادری کی طرف سے سخت مذمت کی گئی ہے۔