ممتاز محمد خان دولتانہ کی وفات
٭ پاکستان کے نامور سیاستدان میاں ممتاز محمد خان دولتانہ 23 فروری 1916ء کو ضلع ملتان میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد میاں احمد یار خان دولتانہ ایک پرانے سیاستدان تھے جو 1920ء سے 1937ء تک مسلسل پنجاب کی قانون ساز کونسل کے رکن منتخب ہوتے رہے تھے۔ ان کی وفات کے بعد میاں ممتاز محمد خان دولتانہ 1943ء میں پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔
قیام پاکستان کے بعد وہ پنجاب مسلم لیگ کے صدر ، پنجاب کے صوبائی وزیر خزانہ اور وزیراعلیٰ اور مرکزی وزیر دفاع کے مناصب پر فائز رہے۔ 1970ء میں وہ کونسل مسلم لیگ کی جانب سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تاہم ملک میں پیپلزپارٹی کی حکومت قائم ہونے کے بعد وہ اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہوکر انگلستان میں پاکستان کے سفیر بن گئے اور یوں وہ عملی سیاست سے تقریباً دست کش ہوگئے۔30جون 1995ء کو میاں ممتاز محمد خان دولتانہ وفات پاگئے۔وہ لڈن موجودہ ضلع وہاڑی میں آسودۂ خاک ہوئے۔
------------------------------------------------------------------------------------------
نور محمد چارلی کی وفات
٭30 جون 1983ء کو نامور مزاحیہ اداکار نور محمد چارلی کراچی میں وفات پاگئے۔
نور محمد چارلی، 7 جنوری 1911ء کو پیدا ہوئے تھے۔ خاموش فلموں کے زمانے میں چنددلال شاہ کی رنجیت مووی ٹون سے منسلک ہوئے اور متعدد فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔ قیام پاکستان کے بعد پاکستان چلے آئے اور یہاں بھی فلمی دنیا سے منسلک ہوئے۔ قیام پاکستان سے پہلے ان کی مشہور فلموں میں پاک دامن،رقاصہ، زرینہ،پریمی پاگل، فرزند ہند، ستمگر، کالج گرلز، قیمتی آنسو، رونق،ٹھوکر، مسافر، پاگل ، رنگیلا راجہ، طوفان میل اور ڈھنڈوراشامل تھیں۔
پاکستان میں انہوں نے اردو، پنجابی اور سندھی غرض ہر زبان کی فلموں میں کام کیا۔ یہاں کی مشہور فلموں میں مندری، پلپلی صاحب، عمر ماروی، پرائی زمین، مس 56، استادوں کے استاد، اکیلی اور ستاروں کی دنیا شامل تھیں۔
نور محمد چارلی کے صاحبزادے لطیف چارلی اور بہو معصومہ لطیف بھی پاکستان ٹیلی وژن کے ڈراموں میں اداکاری کے جوہر دکھا چکے ہیں۔