ملک میں اس قدر مشکل صورتِ حال ہے کہ اب دکھ تکلیف اور افسوس چھوٹے لفظ لگنے لگے ہیں ۔دو روز پہلے ایک جسٹس کے بیٹے کا اغواہ ابھی اُسکی گونج کم بھی نہ ہوئی تھی کہ ایک فنکار ایک قوال جو ساری دنیا میں پاکستانی کے نام سے تھا جس کا فَن پاکستانی کا فَن تھا جو پاکستان کی پہچان بنتا تھا اُن لوگوں میں جو اُسکے قدر دان تھے جو ساری دنیا میں اسکی قوالیاں سنتے تھے اُسے ایک اچھا اور مخلص انسان سمجھتے تھے اُسے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا گیا اُس ماہِ مبارک میں جس میں مرنا قتل کرنا تو دور کی بات لوگوں سے جھگڑا کرنا بھی منع ہے ، کہا جاتا ہے کہ اگر رمضان میں کوئی تمہارے ساتھ لڑائی کرے تو کہہ دو کہ میں روزے سے ہوں جواب مت دو اسکی زیادتی کا ۔اب میں افسوس کروں دکھ کروں یا اپنی تکلیف بیان کروں کہ میرے الفاظ میں جان نہیں رہی ۔میں خوفزدہ ہوں کہ جن باتوں سے ہمیں روکا گیا ہے ہم کیونکر ان پر عمل پیرا ہیں اور حل ہے نوٹسِ لے لیا گیا ہے ۔
کہاں ہیں وہ نوٹس جو سانحئہ ماڈل ٹاؤن پر لئے گئے کیا حل نکلا ؟۔کہاں ہیں وہ نوٹس جو سانحئہ بلدیہ ٹاؤن پر لئے گئے ؟کیا حل نکلا ۔؟ اور اسی طرح کے بہت سارے نوٹس اور اجلاس ہم کہاں تک ان باتوں پر بھروسہ کر سکتے ہیں کیا ضروری نہیں کہ اپنی صفوں کو چھانا جائے ؟
ہر پارٹی اپنی قُربانیوں کا زکر کرتے کرتے تھکتی نہیں اِن عوامی معصوم قُربانیوں کا صلہ ہم کس سے مانگیں ۔کس کے ہاتھوں پر یہ معصوم خون تلاش کریں ِہمیں تو اس ماہِ مبارک میں بھی سکون نہیں جس میں ہر طرف امن و امان ہونا چاہئے ۔خدا را ان لوگوں کو تلاش کریں جنہیں ہر اینکر کہتا ہے کہ سب کو پتہ ہے کون ہے ہر لیڈر کہتا ہے سب کو پتہ ہے کون ہے تو خدا را عوام کو بھی بتادیں کہ یہ کون لوگ ہیں جو انکی جانوں کے نزرانے لے لے کر تھک نہیں رہے ۔ کہتے ہیں حکومت کے خلاف سازش ہے ہم کہتے ہیں یہ ہم عوام کے خلاف سازش ہے کہ انہیں چین سے رہنے ہی نہ دو نہ سکون پائینگے نہ کسی حکومتی خرابی پر نظر ڈالینگے ؟ لیکن شاید یہ بھول رہے ہیں کہ جب چیونٹی بھی پیر کے نیچے اآتی ہے تو کاٹ لیتی ہے مگر ہم حٰیران ہیں کہ اتنے بڑے بڑے الزامات لگ رہے ہیں مگر ہمارا کوئی ادارہ جاگنے کو تیار نہیں ایسی افیون کھائی ہے کہ نیند ختم ہی نہیں ہورہی ۔
ہم بھول رہے ہیں شاید کہ پچھلی قوموں پر کیوں عذاب اآئے ۔اس لئے کہ انصاف نہیں تھا ،امیر کو غریب پر فوقیت تھی ،ہر بے راہ روی رائج تھی ،علم کم تھا عیش و عشرت کے طلبگار سب تھے ،یہ وہ سب علامات ہیں جو ہماری پاک کتاب میں موجود ہیں کہ سنبھل کر رہو ،مگر ہم نے اُس ضابظءب حیات سے جو ہمیں دیا گیا ہے اآنکھیں بند کر رکھی ہیں ،ہم نے ہر اُس فائدے اور بات کو سامنے رکھا ہوا ہے جو صرف دنیا تک محدود ہے یہاں کے اآرام اور تعیُش کا حصے دار ہے ۔ہر شخص صرف زیادہ سے زیادہ کمانے اور حاصل کرنے پر لگا ہوا ہے یہ سوچے بغیر کہ جائز ہے یا ناجائز ۔یہ ضمیر کا وہ مقام ہے جس کے بعد شاید بس کوئی اور حد نہیں رہتی ۔
اگر صرف اُن باتوں پر ہی جو دن رات ٹی وی کے پروگراموں میں سنائی جا رہی ہیں کوئی سی بھی عدالت ان لوگوں کو طلب کر لے کہ تمہارے پاس جو ثبوت ہیں وہ لے کر اآجاؤ تو کیا کرپشن اور وہ ساری بے ایمانیاں جو ہمیں دن رات سنائی جا رہی ہیں کھل کر سا،منے نہیں آجائینگی ۔لیکن ہم ایسا نہیں دیکھ رہے بلکہ جو کیسز موجود ہیں عدالتوں میں وہ بھی سالوں حل نہیں ہوتے نہ انکے فیصلے سامنے آتے ہیں ۔یہ ہمارا سب سے بڑا ضیاں ہے شاید ۔اگر ایک عدلیہ کا ادارہ ہی فعال اور تیز ہو جائے اپنے اندر انقلابی تبدیلیاں لے آئے اور ہر اُس معاملے پر اپنی توجہ رکھے جو غلط ہو رہی ہے انصاف کے خلاف ہو رہی ہے تو شاید ہمارے کچھ دُکھ کم ہو جائیں ۔جب مجرموں کو چھوٹ جانے کا اطمینان ہو تو جرم کرنا کیا مشکل ہے وہ قتل کریں جب بچ جاتے ہیں ؟ وہ ڈاکہ ڈالیں ملک کی دولت لوٹ لیں جب چھوٹ جاتے ہیں ؟ وہ جھوٹ بولیں جب کوئی پکڑ نہیں ؟ وہ غبن کریں وہ کچھ دن میں ٹھنڈا ٹھار چاہے گھر سے کتنی ہی کرنسی نکلے ۔سب کے آشیانے باہر یہاں سے اُڑ کر اپنے سونے کے بنے گھونسلوں میں براجمان ہو جاتے ہیں ملک کی جڑوں تک کو کھوکھلا کر کے اپنے لئے محل تیار کر لئے ہیں کوئی پوچھنے والا نہیں اس لئے کہ جنہیں پوچھنا ہے وہ نہ جانے اور کس بات کے انتظار میں ہیں ۔
ہم سب جب تک متحد ہو کر اپنے ملک کی قسمت کو ان آسیبوں سے چھڑانے کا عزم نہیں کرینگے خالی خولی باتوں اور تجزیوں سے کچھ نہیں ہوگا ،ملک سے محبت رکھنے والے اپنے مفاد پسِ پُشت رکھتے ہیں جنہیں غریبوں سے محبت ہے وہ اپنے علاج کے لئے باہر جانے یا پرائیویٹ اسپتال میں علاج کرانے سے بھی انکار کر دیتے ہیں کہ وہیں علاج ہوگا جہاں ایک غریب کا ہوتا ہے ،جیسے عبدالستار ایدھی صاحب نے کہا ،ایسے ہوتے ہیں غریبوں سے محبت کرنے والے ایسے نہیں کہ غریبوں کی بے کسی پر اپنے دسترخوان سجاتے ہیں کہ دال مہنگی ہے تو مرغی کھاؤ یہ مشورہ صرف بے حِس اور مغرور ہی دے سکتے ہیں اُن عوام کو جن کے کاندھوں پر چڑھ کر ان سیٹوں تک پہنچتے ہیں اور اسکے بعد یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ دال اور مرغی کس بھاؤ بک رہی ہے ۔
ہمارا ملک معجزاتی ملک ہے جو باہر بیٹھ کر چلایا جا رہا ہے ۔فائلیں لے لے کر ہر کارے لندن جا رہے ہیں تاکہ امورِحکومت چلتے رہیں ،کبھی خواجہ صاحب تو کبھی ڈار صآحب کبھی چار پانچ وزیر ایک ساتھ کہ مسندِ شاہی آج کل لندن میں ہے ہم نے تو کبھی دیکھا نہ سنا کہ اس طرح امورِ حکامت چلیں ،لیکن ہر طرف سناٹا ہے ایسا سناٹا کہ سوئی بھی گرے تو آواز سنائی دے جائے ۔اور یہ سناٹے ہی قوموں کے لئے مشکل وقت لے آتے ہیں ہمیں سوچنا چاہئے کہ ہم کیا کرنے جا رہے ہیں ۔وزیرِ خزانہ نے ملک کو قرضے کے ڈھیر میں ڈبو دیا ہے لیکن کوئی بولتا نہیں کہ یہ قرضے کس طرح اتاروگے ۔
ہمیں تو اب کوئی نظر نہیں اآتا جس کے سامنے ملک وقوم کے یہ مسائل ہوں اور وہ انہیں حل کرنے کا درپے ہو ،جو کوئی ہمت کرتا ہے اُسے ایسے جال میں پھانستے ہیں کہ وہ اس میں ہی غلطاں و پیچاں رہتا ہے اور انکی مدت بڑھتی جاتی ہے ،جب تک مردِ آہن بن کر ان کا مقابلہ نہیں کرینگے یہ ہمیں یونہی روندتے رہینگے ،اپنی طرف دیکھو اپنے حق کی بات کرو اپنے ملک سے محبت کرو علم کو عام کرو وہ علم جو ہمیں بخشا گیا ہے کہ نجات اُسی میں ہے دنیا چار دن کی ہے ہر ایک کو جانا ہے وہاں جہاں کوئی بیان دینے آئیگا نہ بچانے ۔
سب ٹھاٹ پڑا رہ جائیگا جب لاد چلے گا بنجارہ اللہ میرے ملک کا حامی ہو ۔