وقار مریم و حوا حسین کی نانی
ہیں بندگی کا حوالہ حسین کی نانی
پل صراط سے اک دم علی گزاریں گے ؎
کریں جو ایک اشارہ حسین کی نانی
ادب سے نام کبھی ہم نہیں لیے ان کا
ہمیشہ ہم نے ہکارہ حسین کی نانی
غلام کیسے کہوں اس کو میں پیمبر کا
نہیں جو آپ کا بندہ حسین کی نانی
انہی کے دم سے چلی ہے جہاں میں آل نبی
ہیں اس شرف میں یگانہ حسین کی نانی
بجا ہیں پہلی شہادت وہ دین احمد کی
ہیں آگہی کا صحیفہ حسین کی نانی
نثار کر گئں سب کچھ جو دیں احمد پر
ہیں وہ کرم کا حوالہ حسین کی نانی
اسے بلال رہے گی نہ پھر کوئی حاجت
جسے بھی دینگی سہارہ حسین کی نانی