15.10.2026, 06:43pm , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
اعلان و انتخاب آجکا دن
 

یکم جولائی کو قائد اعظمؒ نے اسٹیٹ بنک آف پاکستان کا افتتاح کیا
01.07.2016, 04:05am , جمہ (GMT+1)

وقار زیدی ۔ کراچی
یکم جولائی کو قائد اعظمؒ نے اسٹیٹ بنک آف پاکستان کا افتتاح کیا

٭پاکستان کو اپنے قیام کے فوراً بعد جن بے شمار انتظامی مسائل کا سامنا کرنا پڑا ان میں سے ایک بنکاری کا مسئلہ بھی تھا۔ ابتدا میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ چونکہ نیا ملک فوری طورپر اپنے قومی بنک کا قیام عمل میں نہیں لاسکتا اس لیے ایک سال چار ماہ تک (30 دسمبر 1948ء تک) ریزرو بنک آف انڈیا پاکستان کے لیے بھی زرکاری کے انتظامات کرتا رہے گاتاہم اس وقت کے آنے سے بہت پہلے قائداعظم نے پاکستان کے قومی بنک کے قیام کی منصوبہ بندی شروع کردی اور اس بنک کا ابتدائی خاکہ بہت جلد عملی روپ دھارنے لگا۔
10مئی 1948ء کو قائد اعظم نے سربراہ مملکت کے طور پر اسٹیٹ بنک آف پاکستان کے اجرا کا قانونی حکم جاری کیا۔ جس کے تحت یہ اعلان کیا گیا کہ پاکستان کا قومی بنک اسٹیٹ بنک آف پاکستان یکم جولائی 1948ء سے اپنا کام شروع کردے گا۔ ریزرو بنک آف انڈیا سے جو معاہدہ بنکاری کے ضمن میں 30 دسمبر 1948ء تک کے لیے تھا پاکستان نے پیش قدمی کرکے اسے چند ماہ پہلے ہی ختم کردیا اور یکم جولائی 1948ء کو نئی مملکت کی آزاد معیشت کی داغ بیل ڈال دی گئی۔
29 جون 1948ء کو قائداعظم کوئٹہ سے کراچی پہنچے۔ وہ گزشتہ ایک ماہ سے کوئٹہ اور بعد ازاں زیارت میں موسم گرما گزار رہے تھے۔ اگرچہ ان کے مشیر کہتے تھے کہ اسٹیٹ بنک آف پاکستان کے افتتاح کے لیے کراچی میں ان کی آمد ضروری نہیں اور ان کے بحری اے ڈی سی کا خیال تھا کہ ’’ان کی تقریر کا مسودہ کراچی بھیج دینا کافی ہوگا۔‘‘لیکن قائد اعظم نے یہ تجویز قبو ل نہیں کی۔ وہ یہ تجویز قبول بھی کیسے کرتے اس لیے کہ پاکستان کی آزادمعیشت کے خواب کی عملی تعبیر وہ اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتے تھے۔ یہ کیسے ممکن تھا کہ اس اہم موقع پر وہ خود موجود نہ ہوں۔ چنانچہ وہ بنک کے افتتاح سے دو دن پہلے کراچی پہنچ گئے۔ 29 جون 1948ء کو صبح دس بجے قائد اعظم کا طیارہ ماری پور کے ہوائی اڈے پر پہنچا جہاں وزیر اعظم‘ کابینہ کے دوسرے وزراء‘ اعلیٰ افسروں اور سیاسی کارکنوں نے ان کا استقبال کیا۔
یکم جولائی کو قائد اعظم گورنرجنرل ہائوس سے ایک بگھی میں اسٹیٹ بنک آف پاکستان کی عمارت تک گئے اس بگھی کو چھ گھوڑے کھینچ رہے تھے اور اس کا محافظ دستہ شوخ سرخ رنگ کی وردیاں پہنے ہوئے تھے۔ قائد اعظم شاہانہ انداز میں بنک کی عمارت تک پہنچے جہاں ان کا پرجوش استقبال کیا گیا۔ تقریب میں مسلم ممالک کے نمائندے‘ دولت مشترکہ کے ارکان‘ امریکہ اور روس کے سفیر‘ متعدد ممالک کے ٹریڈ کمشنرز‘ صوبائی اور مرکزی وزراء اور معزز شہری شامل تھے۔ قائد اعظم نے اس موقع پر ایک تاریخی تقریر کی۔ یہ تقریر تحریری شکل میں تھی جسے قائد اعظم نے حاضرین کے سامنے پڑھا۔ معمول کے برعکس ان کا یہ اقدام تقریب کی اہمیت پر دلالت کرتا تھا اپنی اس تاریخی تقریر میں انہوں نے پاکستانی معیشت کے لیے اسلامی پہلوئوں کو پیش نظر رکھنے اور ایسے معاشرے کے قیام میں مددگار بننے پر زور دیا تھا جو سب کے لیے فائدہ مند ثابت ہو اور ایک مثالی اقتصادی نظام پیش کرے۔ قائد اعظم نے اس موقع پر جو تقریر کی اس کی کئی تاریخی حیثیتیں ہیں۔ ایک یہ کہ اس سے پاکستان کی مالی خود مختاری کی داغ بیل پڑی‘ دوسری یہ کہ معیشت کے اسلامی پہلوئوں پر حکومت کی پالیسی سامنے آئی اور سب سے بڑی تاریخی حیثیت یہ کہ‘ بدقسمتی سے یہ قائد اعظم کی آخری سرکاری مصروفیت اور ان کی آخری تقریر ثابت ہوئی‘ ایک بے حد قابل ذکر امر یہ ہے کہ اگر قائد اعظم کی دلچسپی اور پاکستانی ماہرین کی فرض شناسی کے تحت اسٹیٹ بنک آف پاکستان کے قیام کی راہ وقت سے پہلے ہموارنہ ہوجاتی تو پاکستان کا قومی بنک اس اعزاز سے محروم رہ جاتا جو اسے پاکستان کے بانی اور اس کے پہلے سربراہ کے ہاتھوں افتتاح کی شکل میں حاصل ہوا۔
 ------------------------------------------------------------------------------------------

پروفیسر احمد علی کی پیدائش

٭یکم جولائی 1910ء انگریزی اور اردو کے ممتاز ادیب، نقاد اور دانشور پروفیسر احمد علی کی تاریخ پیدائش ہے۔
پروفیسر احمد علی دہلی میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنی ادبی زندگی کا آغاز افسانہ نگاری سے کیا تھا۔ ان کا ایک افسانہ افسانوں کے مشہور اور متنازع مجموعے انگارے میں بھی شامل تھا۔ یہ وہی افسانوی مجموعہ ہے جس پر بعدازاں پابندی لگادی گئی تھی اور جسے اردو کی ترقی پسند تحریک کے آغاز کے اسباب میں شمار کیا جاتا ہے۔ پروفیسر احمد علی انگریزی کی تصانیف میں ہماری گلی، شعلے اور قید خانہ کے علاوہ انگریزی زبان میں لکھی گئیں
  Muslim China، Ocean of Night، The Golden Tradition، Twilight in Delhi اور Of Rats and Diplomats 

کے نام شامل ہیں۔ پروفیسر احمد علی نے قرآن پاک کا انگریزی ترجمہ بھی کیا تھا جو اشاعت پذیر ہوچکا ہے۔ حکومت پاکستان نے انہیں ستارۂ قائداعظم کا اعزاز عطا کیا تھا۔ پروفیسر احمد علی 14جنوری 1994ء کو کراچی میں وفات پاگئے اور گلشن اقبال کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔
------------------------------------------------------------------------------------------

خلیفہ عبدالحکیم کی پیدائش

٭ پاکستان کے نامور فلسفی، محقق، ماہر اقبالیات، مترجم اور مصنف خلیفہ عبدالحکیم یکم جولائی 1893ء کو لاہور میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے سینٹ اسٹیفنز کالج دہلی سے ایم اے (فلسفہ) اور ہائیڈل برگ یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی تھی۔ قیام پاکستان کے بعد وہ ادارہ ثقافت اسلامیہ کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز ہوئے۔
خلیفہ عبدالحکیم کی تصانیف میں افکار غالب، حکمت رومی، تشبیہات رومی، فکر اقبال اور داستان دانش کے نام سرفہرست ہیں۔
30 جنوری 1959ء کو خلیفہ عبدالحکیم اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔
------------------------------------------------------------------------------------------

احمد علی خان کی پیدا ئش

٭ پاکستان کے نامور صحافی احمد علی خان یکم جولائی 1924ء کو بھوپال میں پیدا ہوئے۔
1945ء میں انہوں نے بھوپال کے اردو جریدے ترجمان سے اپنی صحافیانہ زندگی کا آغاز کیا۔ 1946ء میں وہ ڈان دہلی سے وابستہ ہوئے۔ قیام پاکستان کے بعد وہ پاکستان ٹائمز سے وابستہ ہوگئے جس کے ایڈیٹر ان دنوں فیض احمد فیض تھے۔ پاکستان ٹائمز سے ان کی وابستگی تقریباً ایک دہائی تک جاری رہی۔1962ء میں وہ روزنامہ ڈان کراچی سے وابستہ ہو گئے اور 2000ء تک اس ادارے سے وابستہ رہے، بعدازاں 2003ء سے 2004ء تک بھی وہ اس اخبار سے وابستہ رہے۔
احمد علی خان کا شمار پاکستان کے ترقی پسند صحافیوں میں ہوتا تھا۔ انہوں نے اپنی تمام زندگی صحافت کے اعلیٰ اقدار کے قیام کے لئے وقف رکھی۔ ذاتی طور پر بھی ان کا تعلق اردو کے ایک معروف صحافی اور ادبی خانوادے سے تھا۔ ان کی اہلیہ ہاجرہ مسرور اور ان کی خواہر نسبتی خدیجہ مستور اردو کی مشہور ادیبہ تھیں جبکہ مشہور شاعر خالد احمد ان کے برادر نسبتی ہیں۔ ان کے دو ہم زلف ظہیر بابر اور حسن عابدی بھی صحافت کے شعبے سے وابستہ تھے جبکہ ایک اور ہم زلف حبیب وہاب الخیری قانون کے شعبے سے وابستگی کی وجہ سے معروف ہیں۔
13مارچ 2007ء کو احمد علی خان کراچی میں وفات پا گئے۔
-------------------------------------------------------------

:دیگر مضامین
(29.06.2016) تیس جون 1995ء کو میاں ممتاز محمد خان دولتانہ وفات پاگئے
(29.06.2016) ٭29 جون 1956ء پاکستانی فلمی موسیقی کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل
(28.06.2016) ٭28 جون 1970ء پاکستان کے مشہور لیگ اسپنر مشتاق احمد کی تاریخ پیدائش ہے۔
(27.06.2016) ٭27 جون 2003ء کو نامور ماہر قانون یحییٰ بختیار کوئٹہ میں وفات پاگئے
(26.06.2016) ٭26جون1955ء کو مولانا چراغ حسن حسرت لاہور میں انتقال کر گئے
(25.06.2016) پچیس جون دانشور مسعود کھدر پوش کی تاریخ پیدائش ہے۔
(24.06.2016) ٭24 جون 2001ء کو پاکستان کے مشہور پہلوان محمد بشیر لاہور میں وفات پاگئے۔
(23.06.2016) تئیس جون 1989ء کو قیوم نظر کراچی میں وفات پاگئے
(22.06.2016) صحافی، شاعر اور ادیب جناب وقار انبالوی کی تاریخ پیدائش 22 جون 1896ء ہے
(21.06.2016) ٭ 21 جون 1953ء  ذوالفقار علی بھٹو کی صاحبزادی کی تاریخ پیدائش ہے۔
(20.06.2016) ٭20 جون 1995ء کو ہدایت کار ایم جے رانا لاہور میں وفات پاگئے
(19.06.2016) ڈاکٹر علی شریعتی کو 19 جون 1977ء کو انہیں شہید کردیا گیا۔
(18.06.2016) شاہراہ قراقرم  مکمل ہونے کے بعد  18جون 1978ء کو افتتاح ہوا۔
(17.06.2016) ٭17جون 1992ء کوڈاکٹر آئی ایچ عثمانی اسلام آباد میں وفات پاگئے
(16.06.2016) سولہ جون 1987ء کو پاکستان کے سائیں اختر حسین لاہور میں وفات پاگئے۔
(15.06.2016) ابن انشا 15 جون 1927ء کو موضع تھلہ ضلع جالندھر میں پیدا ہوئے
(14.06.2016) چودہ جون 1964ء کو مولانا صلاح الدین احمد نے ساہیوال میں وفات پائی
(13.06.2016)   تیرہ جون 2012 پاکستان کے عظیم گائیک مہدی حسن کی تاریخ وفات ہے
(12.06.2016) اردو کے ممتاز شاعر عبیداللہ علیم 12 جون 1939ء کو بھوپال میں پیدا ہوئے تھے
(12.06.2016) کویت کی ممتاز سماجی شخصیت جناب حاجی منور حسین کا افطار ڈنر



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں