کسی تمہید کے بغیر بڑے واضح الفاظ میں آغاز میں ہی آج کے اس کالم کا پس منظر بہت اختصار سے چند سطور میں اس لیئے

بیان کر دوں کہ آپ کو میری فکر ، سوچ اور نقطہ نظر سمجھنے میں آسانی ہو ۔ اور ہم موضوع میں الجھنے کی بجائے کسی نتیجے پر پہنچ سکیں ۔
فیس بک جسے ہم سوشل میڈیا کا ایک بہت موثر ہتھیار سمجھتے ہیں ۔ یہ دراصل دو دھاری تلوار ہے جس کا وار کسی وقت حملہ آور کے لیئے بھی جان لیوا ہوتا ہے ۔ سچی بات تو یہ ہے کہ کم از کم ہمارے معاشرے میں اس سوشل میڈیا کو استعمال کرنے والو ں کی زہنی ، قلمی اور عملی تربیت ہوئی ہی نہیں ۔ ہمیں اس معیار اور پیمانے کا عمومی طور پر ادراک ہی نہیں کہ فیس بک پر کونسی چیز اور کونسی تصویر شایع کرنا بہتر ہے اور کونسی نقصان دہ ۔ اور اس پہ طرہ یہ کہ لگ بھگ نوے فیصد سے زیادہ ہمارے اپنے لوگ یہ خیال کرتے ہیں جو کچھ وہ تحریر کر رہے یں وہ نا تو سقراط نے سوچا ہو گا اور نا افلاطون اور نا ہی فیثا غورث نے ۔ سیاسی ، سماجی ، معاشی ، دینی ، تعلیمی، اور ادبی موضوعات پر ہر وہ شخص قلم اٹھاتا ہے اور اپنی عالمانہ رائے نہیں بلکہ عالمانہ فیصلے کا اظہار کرتا ہے جو شاید ان تمام شعبوں کی عام تعریف سے بھی نا واقف ہوگا کہ سیاسیات کسے کہتے ہیں ، سماج کا کیا مطلب ہے ، معشیت کن عناصر کا مجموعہ ہے اور ادب کیسے جنم لیتا ہے ۔
قطع نظر دوسرے تمام شعبے کے مجھے براہ راست اپنے قلم قبیلے کے لوگوں سے مخاطب ہونا ہے کہ کم از کم بظاہر یہ اہل قلم کا شعوری فرض ہے کہ وہ معاشرے کی فرسودہ اور زنگ زدہ سوچ کو تبدیل کریں ۔ اور ان رویوں کی کھل کر مذمت کریں جن کی وجہ سے معاشرے کے خدو خال مکروہ ہو رہے ہیں ۔ ان رویوں میں سب سے بڑا رویہ دہشت گردی کا ہے ۔ مجھے یہاں یہ وضاحت کرنا ضروری ہے کہ دہشت گردی کا صرف ایک ہی مطلب نہیں کہ کوئی خود کش حملہ کرے یا کار بم دھماکہ ہو ۔۔ میری فکر کہتی ہے کہ یہ دہشت گردی کی انتہائی زلیل اور کم تر سطح ہے ۔وہ دہشت گردی جس کی طرف ہمارے اہل قلم کی توجہ جاتی ہی نہیں وہ زہنی اور قلمی دہشت گردی ہے ۔ ہم سوچتے ہی نہیں کہ ہم لاشعوری طور پر اپنی زبان اوو قلم اور اپنی سوچ سے ایک دن میں کتنی دہشت گردی کرتے ہیں اور کتنے زہنوں کو پراگندہ اور آلودہ بناتے ہیں ۔
دہشت گردی آج کی دنیا کا بیشک بہت بڑا موضوع ہے ۔ لیکن کیا دہشت گردی کی مسموم فضا میں ہم پر پابندی ہے کہ ہم محبت کی ، امن کی ، بھائی چارہ کی ، یگانگت کی ، ایک دوسرے کے لیئے مددگار ہونے کی اور نیکی کے ساتھ ساتھ سچ کے فروغ کی بات نا کریں ؟۔ سچ پوچھیں تو ان موضوعات پر گفگگو نہ کرنا ہیاس دہشت گردی کو فروغ دینا ہے جہاں ماؤں سے ان کے بچے ، بہنوں سے ان کے بھائی ، بچوں سے ان کے سرپرست ، اور معاشرے سے کیسے کیسے حسین اور کارآمد لوگ چھین لیئے جاتے ہیں ۔
میرے نزدیک مسجد کا منبر اور باضمیر تخلیقکار کا قلم کسی جنگجو کی تلوار سے بہت زیادہ طاقتور ہے لیکن کیا کریں کہ مفاد پرستی اور درباری سوچ کے آج کے سیاسی معاشرے میں قلم اور منبر بھی قابل فروخت ہیں ۔
اہل ادب کا معاملہ اور بھی سنگین ہے ۔ ہم میں اکثر لوگ قلمی اور فکری دہشت گردی میں بیک جنبش قلم یہ لکھتے ہوئے بھول جاتے ہیں کہ ہم میں سے کون کون کس کس محاز پر کیسے کیسے بلا مفاد اور کسی لالچ اور طمع کے بغیر بظاہر نظر نا آنے والے دشمن سے بھی برسرپیکار ہیں ۔ دنیا کے انسداد دہشت گردی کے بڑے بڑے ماہرین کے مطابق یہ جنگ ہتھیاروں اور فوج اور رینجرز سے نہیں جیتی جا سکتی ۔ اس جنگ کو جیتنے کے لیئے سوچ اور فکر کو بدلنا ضروری ہے جو ایک طویل اور صبر آزما مرحلہ ہے ۔ کسی بھی اہل قلم کا سوچے سمجھے بغیر اپنے معاصر اہل قلم پر یہ الزام منہ کھول کر عائد کر دینا کہ ہم دہشت گردی کے خلاف اپنا کردار ادا نہیں کر رہے اور ہمارا قلم دہشت گردی کے خلاف نہیں لکھ رہا یہ بذات خود اپنی قسم کی دہشت گردی ہے ۔ کبھی ایک لمحے کے لیئے سوچیئے کہ ہمارے پاکستنی معاشرے میں اول تو ادب اور ادیب کی حثیت ہی کیا ہے ۔ اس کے لکھے کو کتنے لوگ پڑھتے ہیں اور پھر کتنے اس کے بارے میں سوچتے ہیں اور پھر کتنے اس کو عملی شکل دینے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اس ضمیر فروش درباری معاشرے میں صرف ان نام نہاد شاعروں اور ادیبوں کے کالم اور تخلیقات پڑھی جاتی ہیں جو ایوان وزیراعظم اور ایوان صدر کے قریب ہیں ۔ یا دوسرے لفظوں میں جو حکمرانوں کی زبان بولتے ہیں اور انہیں کے مفادات کو فروغ دیتے ہیں ۔ ہم جیسے لکھنے والوں کو بڑی آسانی سے ان ایوانوں میں بیٹھے ہوئے عوام دشمن لوگ پاگل ، سرپھرے ، اور حکومت دشمن کہہ کر رد کر دیتے ہیں
یہ وہ مقام ہے جہاں میں کبھی کبھی سوچتی ہوں کہ ہم جیسوں کو اس خود کش دہشت گرد سے بھی خطرہ اور ان سرکاری درباری قلم فروشوں سے بھی خطرہ ۔
میں زاتی طور پر جانتی ہوں کہ ہمارے درمیان میں خاص طور پر بیرونی ممالک میں مقیم کتنے ہی اہل قلم موجود ہیں جو نتائج کی پرواہ کیئے بغیر ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف لکھتے بھی ہیں اور پھر سب سے بڑی مشکل یہ کہ اپنے ہی درمیان موجود نام نہاد اہل قلم کی بےجا تنقید کا نشانہ بھی بنتے ہیں ۔ اس محاذ پر کون کتنا کام کر رہا ہے اس میں کسی کا کسی سے مقابلہ کرنا عبث ہے ۔ ہر کوئی اپنی جگہ پر جتنا کام بھی کر رہا ہے وہ قابل تعریف ہے ۔ میں اس وقت درجنوں نام گنوا سکتی ہوں جو افسانے ، شعر ، ناول اور دیگر اصناف میں دہشت گرد اور دہشت گردی کے خلاف تسلسل سے لکھ رہے ہیں لیکن جن معاشروں میں حاکموں کے ساتھ ساتھ عدل بھی گونگا بہرا ہو جائے اور جہاں ضمیر موت سے پہلے مردہ ہو جائے ، جہاں دہشت گرد کے ہاتھوں مرنے والوں کو کسی کے بہن بھائی اور بچے سمجھا جائے ، جہاں قلم ، ادیب ، عدالت ، منبر ، واعظ ، یہاں تک کہ اللہ رسول اور ان کی آل اور ان کی کتاب بھی قابل فروخت ہو ایسے معاشرے میں اگر کوئی دہشت گردی جیسے مکروہ رویئے کے خلاف دو لفظ بھی لکھ رہا ہے تو وہ میری سوچ کے مطابق کئی مہینوں کی ہزاروں رکعت کی دکھاوے کی نماز سے بڑا کام کر رہا ہے ۔
ایسے نازک لمحات میں اس قسم کے موضاعت کو سوشل میڈیا پر چھیڑ کے شاید ہمیں ادراک نہیں کہ ہم اہل قلم میں بھی تقسیم پیدا کر رہے ہیں اور دہشت گردی چاہے کسی بھی شکل میں ہو اس کا پہلا اور آخری حملہ اتحاد پر ہوتا ہے اور اس کی منزل تقدسیم در تقسیم ہے ۔
آیئے ہم کم ازکم اہل قلم ہی مل کر سوچیں کہ ہم اپنے اس قسم کے رویئے سے لاشعوری طور پر کہیں دہشت گرد اور دہشت گردی کی حمایت تو نہیں کر رہے ۔