14.10.2026, 07:07am , بدھ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
اہم ترین   
پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔
امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
 
عالمی خبریں
 

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اتوار کے روز حلب میں تشدد کی مہلک کارروائیوں میں اضافے کے معاملے پر ہنگامی مذاکرات کیے
26.09.2016, 01:25am , سوموار (GMT+1)

تازہ ترین 

 
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اتوار کے روز حلب میں تشدد کی مہلک کارروائیوں میں اضافے کے معاملے پر ہنگامی مذاکرات کیے، ایسے میں جب شام اور روس کے لڑاکا طیاروں نے باغیوں کے زیر کنٹرول شامی شہر کے مشرقی علاقے پر بمباری کی۔

امریکی سفیر سمنتھا پاور نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ ''یہ بات عیاں ہے کہ اسد حکومت صرف فوجی حل میں یقین رکھتی ہے''۔

سفیر نے کہا کہ ''وہ کہتی ہے کہ وہ شام کا ہر مربع انچ رقبہ فوجی طریقے سے فتح کرکے دم لے گی۔ اور ایسے میں، فوجی حل کا راستا جاری رکھتے ہوئے، اِسے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ شام میں بچا ہی کیا ہے''۔

امریکہ، فرانس اور برطانیہ نے ہنگامی نشست کا مطالبہ کیا تھا تاکہ روس پر دبائو بڑھایا جاسکے کہ وہ اپنے اتحادی شام کو کنٹرول کرے، اور شہر میں پھنسے ہوئے 275000 افراد کے خلاف حملے بند کروائے۔

اِن حملوں میں میزائل داغنا، بیرل بم گرانا اور توب خانے سے فائر کرنا شامل ہے، جن کے نتیجے میں عمارتیں زمین بوس ہوچکی ہیں، گلیوں میں ملبہ جمع ہے جب کہ علاقہ پتھروں کا ڈھیر بن چکا ہے۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اس کارروائی میں 213 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

امریکی سفیر پاوز نے کہا کہ گذشتہ تین روز کے دوران شہر میں 150 سے زائد فضائی حملے کیے گئے ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ حلب پر دوبارہ قبضے کے حصول کے لیے روس اور شام ''شدید کارروائی'' کر رہے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ ''امن کی کوششیں کرنے کے برعکس، روس اور اسد لڑائی لڑ رہے ہیں۔ شہری آبادی تک زندگی بچانے کے لیے ضروری ادویات پہنچانے میں مدد فراہم کرنے کی جگہ، روس اور اسد انسانی ہمدردی کی بنیاد پر قافلوں، اسپتالوں اور امدادی کارکنوں پر بم برسا رہے ہیں، جو بیباکانہ طور پر لوگوں کو زندہ رکھنے کی کوششیں جاری رکھےہوئے ہیں''۔

برطانوی سفیر، میتھیو رائیکروفٹ نے کہا کہ ''روس کو چاہیئے کہ وہ پھر سے سیاسی مذاکرات کو جاری کرنے کے لیے درکار صورت حال پیدا کرنے میں مدد دے نا کہ اسے تباہ کرے۔ اگر وہ یہ اقدامات نہیں کرتا، تو پھر روس بمشکل بین الاقوامی اچھوت کی سطح کی سوچ تسلیم کروا پائے گا''۔

فرانس کے سفیر فرانسواں دیترے نے کہا کہ ''حلب میں جنگی جرائم سرزد ہو رہے ہیں''۔ اُنھوں نے اس شہر کا موازنہ، ہسپانوی خانہ جنگی کے دور سے، بوسنیا کی لڑائی میں سراجیوو اور گارنیکا سے کیا۔ اُنھوں نے کہا کہ حلب ''شہید شہر'' بن چکا ہے۔

روسی ایلچی، وٹالی چرکن کے الفاظ میں ''اس کی وجہ سے، ملک کے علاقوں کو بلامتیاز بم حملوں کا نشانہ بنایا جارہا ہے، جب کہ اب امن بحال کرنا تقریباً ناممکن بنا دیا گیا ہے''۔

اقوام متحدہ کے ایلچی برائے شام، استفان ڈی مستورا نے صورت حال کا مایوس کُن نقشہ کھینچتے ہوئے کہا کہ فضائی حملوں کا شمار ناممکن ہوچکا ہے۔

......................
اقوام متحدہ کی ایک عہدیدار نے کہا ہے کہ شام کے مشرقی شہر حلب میں تقریباً 20 لاکھ لوگ پانی سے محروم ہو گئے ہیں اور یہاں صورتحال خاصی تشویشناک ہو سکتی ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال "یونیسف" کی شام میں نمائندہ ہنا سنگر نے ایک بیان میں کہا کہ جمعرات کو دیر گئے شہر کے باغیوں کے زیر تسلط حصے میں ہونے والے حملوں سے ڈھائی لاکھ لوگوں کو پانی کی فراہم کرنے والے اسٹیشن متاثر ہوا۔

ان کے بقول حملے کے جواب کے نتیجے میں شہر کے اس حصے میں واقع پانی کا ایک پمپنگ اسٹیشن جس سے سرکاری فورسز کے زیر کنٹرول علاقے کو پانی فراہم کیا جاتا تھا اسے بند کر دیا گیا جس سے 15 لاکھ افراد پانی سے محروم ہو گئے ہیں۔

بیان میں عہدیدار نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ خاص طور پر پانی کی عدم فراہمی سے بچوں میں خطرناک بیماریاں پھیلنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔

امریکہ اور روس کی حمایت سے ایک ہفتے قبل کروائی گئی جنگ بندی کامیاب نہ ہونے کے باعث یہاں لڑائی میں ایک بار پھر شدت آئی ہے۔

شام کی صورتحال پر نظر رکھنے والی تنظیم "سریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق گزشتہ دو روز کے دوران ہونے والے فضائی حملوں کے دوران یہاں بچوں سمیت 47 افراد مارے جا چکے ہیں اور تنظیم کے بقول بظاہر یہ حملے شام اور روس کے طیاروں نے کیے۔

عینی شاہدین کے مطابق یہ حملے شام کی حکومت کی طرف سے نئی کارروائیوں کے اعلان کے بعد بدھ کو دیر گئے شروع ہوئے تھے۔

حلب شام کا دوسرا بڑا شہر ہے جس کے مشرقی حصے پر باغیوں کا قبضہ ہے جب کہ مغرب میں سرکاری فورسز کا کنٹرول ہے۔

شام کے شہری دفاع کے ایک کارکن کے مطابق حلب میں ہونے والی تازہ فضائی کارروائیاں اب تک کے فضائی حملوں میں سب سے زیادہ شدید تھیں۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,
شام کے حالات و واقعات پر نگاہ رکھنے والے بین الاقوامی ادارے سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے کہا ہے کہ شام میں امریکا اور روس کی کوششوں سے طے پانے والا فائربندی کا معاہدہ ختم ہو گیا ہے۔ 

متحارب فریقین کے درمیان حلب میں شدید مسلح کارروائیاں جاری ہیں۔ حلب کے باغیوں کے قبضے والے علاقوں میں کم از کم 173 افراد لقمہٴ اجل بن گئے ہیں۔ ان علاقوں پر روس اور شام کے جنگی جہاز مسلسل حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ 

حلب کے باغیوں کے زیر قبضہ علاقے کے ایک امدادی کارکن کے مطابق دو سو زخمی ہسپتالوں میں پہنچائے گئے ہیں اور اُن کی مرہم پٹی میں مشکلات کا سامنا ہے۔ ان علاقوں میں واقع ہسپتال مسلسل محاصرے کی وجہ سے ادویات کی شدید قلت کا سامنا کر رہے ہیں
..................
روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوورف نے کہا کہ شام کی متعدل حزب مخالف خود کو شدت پسند گروپوں سے الگ کرے۔

نیویارک کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب میں روس کے وزیر خارجہ نے کہا کہ ’’ہم سب جنگ بندی کے حق میں ہیں، لیکن حزب مخالف اور (شدت پسند تنظیم) نصرہ کے الگ ہوئے بغیر یہ جنگ بندی بے معنی ہو گی۔‘‘

اُن کے بقول امریکہ کی قیادت میں قائم اتحاد نے کہا تھا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ شام کی حزب مخالف اور نصرہ الگ ہو جائیں گے لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔

جولائی میں جباہت النصرہ نے کہا کہ تھا کہ اُس کے القاعدہ سے رابطے ہیں اور یہ جماعت خود کو اب جباہت فتح الشام کے نام سے تشکیل کر رہی ہے۔ لاوورف نے شکایت کی 12 ستمبر سے جب شام میں جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا، اُس وقت سے حزب مخالف کے اتحاد کی طرف سے حلب میں 350 حملے کیے گئے۔

رواں ہفتے امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری نے کہا تھا کہ شامی حزب مخالف کے کچھ عناصر نصرہ پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں۔

روس کے وزیر سرگئی لاووروف نے کہا کہ اُن کے ملک کی فوجی معاونت شام منتشر سے بچا۔

اُنھوں نے کہا کہ شام کا تنازع اور وہاں انسانی بحران اُس وقت تک ختم نہیں ہو سکتا جب تک داعش، جباہت النصرہ اور دیگر شدت پسندوں کو ختم نہیں کیا جاتا۔

نیویارک میں جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر امریکہ اور روس کے سفارت کار روزانہ ملتے رہے ہیں، لیکن شام سے متعلق کوئی واضح پیش رفت نہیں ہو سکی۔

روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ شام میں جنگ بندی کے معاہدے کی حفاظت ضروری ہے۔

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
شام کے باغیوں کے زیر قبضہ شہر، حلب کے مکینوں نے اطلاع دی ہے کہ فضائی حملوں میں تیزی آگئی ہے، جس کے لیے مقامی مبصرین نے بتایا ہے کہ اس دوران کم از کم 30 افراد ہلاک ہوئے۔

حکومت شام نے اعلان کیا ہے کہ شہر پر تازہ حملہ ہوا ہے، جس سے قبل امریکہ اور روس جنگ بندی کے معاہدے کو بچانے میں ناکام رہے، جس کے تحت تقریباً ایک ہفتے تک مخاصمانہ کارروائیاں بند رہی ہیں۔

عینی شاہدین نے کہا ہے کہ حلب میں بم باری میں آنے والی شدت، جو اطلاعات کے مطابق شامی ہیلی کاپٹروں اور روسی لڑاکا طیاروں نے کیے، گذشتہ بدھ کی شام گئے سے جاری ہیں، جس میں رہائشی علاقوں اور عمارات کو نشانہ بنایا گیا، جو ’وائٹ ہلمیٹس‘ نامی رضاکار گروپ کے زیرِ استعمال تھیں۔

حلب ملک کا دوسرا بڑا شہر ہے، جو 2012ء سے حکومت کی فوجوں، باغی میلیشیاؤں، اسلامی انتہاپسندوں اور کُرد لڑاکوں کے زیر استعمال ہے۔

شام کے شہری دفاع کے گروپ کے ایک رکن نے ’ایسو سی ایٹڈ پریس‘ کو بتایا کہ اس ہفتے ہونے والی بمباری اب تک کی گھمسان کی لڑائی ہے۔

اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ یہ حملے اس گروپ کے خلاف ہونے والی زیادتی کےبدلے میں تھے، جنھیں وائٹ ہلمیٹس کے نام سے بھی جانا جاتا ہے،جس نے جمعرات کو بین الاقوامی ’رائٹ لائیولی ہُڈ ایوارڈ‘ جیتا، جو اِن حملوں میں زخمی ہونے والوں کو بچانے اور طبی امداد کی کوششوں کے اعتراف میں دیا گیا۔

.........................
 روسی فوج نے کہا ہے کہ شام کی صورتحال مزید بگڑتی جا رہی ہے اور انتہائی نازک موڑ اختیار کر گئی ہے ۔ روسی جنرل ولادیمیر ساوشینکو نے باغیوں پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ اپنے حملوں میں تیزی لے آئے ہیں۔ انہوں نے اپنی ایک نشریاتی بریفنگ میں کہا کہ اس صورتحال میں سیز فائر ڈیل کی ناکامی کا ذمہ دار امریکا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران حکومتی پوزیشنوں اور شہریوں پر پچپن حملے کیے جا چکے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ ان کارروائیوں میں دو بچوں سمیت بارہ شہری ہلاک بھی ہو گئے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ شامی باغی جنگ بندی وقفے کو اپنی تنظیم نو کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

-----------------------------------------------------------
امریکا کے محکمہ دفاع (پنٹاگون) نے ایک فضائی کارروائی میں دولت اسلامیہ برائے عراق و شام (داعش) کے 'وزیر اطلاعات' وائل عادل حسن سلمان الفیاد کی ہلاکت کی تصدیق کردی۔

پنٹاگون کے پریس سیکریٹری پیٹر کک نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ وائل عادل حسن سلمان الفیاد داعش کے سینئر کمانڈروں میں سے ایک اور داعش کی سینئر شوریٰ کونسل کے رکن تھے، جنھیں 'ڈاکٹر وائل' کے نام سے جانا جاتا تھا۔انھوں نے بتایا کہ مذکورہ فضائی کارروائی رواں ماہ 7 ستمبر کو شام کے شہر رقہ کے قریب کی گئی۔

پریس سیکریٹری کے مطابق وائل عادل حسن داعش کی پروپیگنڈا ویڈیوز بنانے میں مہارت رکھتے تھے، جن میں تشدد اور لوگوں کا قتل عام دکھایا جاتا تھا۔پیٹر کک کے مطابق وائل عادل حسن، داعش کے ترجمان ابو محمد العدنانی کے قریبی ساتھی تصور کیے جاتے تھے، جو گذشتہ ماہ 30 اگست کو ایک امریکی فضائی کارروائی میں ہلاک ہوگئے تھے۔
برطانوی اخبار ٹائمز کے مطابق داعش تنظیم کے ٹھکانوں پر حالیہ بم باری میں تنظیم کے زیر انتظام مسٹرڈ گیس تیار کرنے والی ایک فیکٹری بھی تباہ ہو گئی ، یہ گیس کیمیائی ہتھیاروں کی تیاری میں کام آتی ہے۔
----------------------------------------------
اخبار نے بتایا ہے کہ کچھ عرصہ قبل حملوں میں داعش کے 50 ٹھکانے تباہ ہو گئے جن میں عراق کے شہر موصل کے نزدیک دواؤں کی ایک سابق فیکٹری بھی شامل ہے جس کو کیمیائی ہتھیار تیار کرنے کے کارخانے میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔

اخبار نے امریکی فضائیہ کے کمانڈر جنرل جيفری ہرگین کے حوالے سے بتایا ہے کہ مذکورہ کمپلیکس کو "کلورین اور مسٹرڈ گیس" تیار کرنے کے لیے تبدیل کر دیا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ حملے میں 12 طیاروں نے شرکت کی اور کارروائی میں اس کارخانے کو اس کے تمام تر سازوسامان کے ساتھ ملبے کا ڈھیر بنا دیا گیا۔

یہ معلومات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب کہ عراقی اور کرد فورسز آنے والے ہفتوں کے دوران داعش تنظیم کے ٹھکانوں کے خلاف ایک بڑے حملے کی تیاری کر رہی ہیں۔ اخبار کے مطابق حملے میں عراقی فوج اور پیشمرگہ کے 30 ہزار سے زیادہ جنگجوؤں کے شریک ہونے کی توقع ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مغربی ممالک کو یقین ہے کہ "داعش" تنظیم کئی ماہ سے کیمیائی ہتھیار تیار کرنے کی صلاحیت حاصل کرنے میں مصروف ہے۔
کیمیائی ہتھیاروں کے پھیلاؤ پر پابندی کی تنظیم نے اپنی ایک تحقیق میں انکشاف کیا تھا کہ داعش نے 2015 میں شمالی شام کے قصبے مارع میں اپنے حملے کے دوران مسٹرڈ گیس کا استعمال کیا۔
............................
...........................
عراقی وزیر دفاع خالد العبیدی نے کہا ہے کہ عراقی فورسز نے جو داعش تنظیم کے زیرقبضہ شہر موصل کی جانب پیش قدمی کر رہی ہیں، منگل کے روز ایک گاؤں کو تنظیم کے قبضے سے آزاد کرا لیا۔ اس کے بعد یہ فورسز ایک دوسری سمت سے آگے بڑھنے والے فوجی یونٹوں کے ساتھ مل گئی ہیں۔

یہ پیش قدمی جو رواں ہفتے ایک اہم فضائی اڈہ واپس لیے جانے کے بعد سامنے آئی ہے ، موصل کے گرد گھیرا تنگ کرنے میں مددگار ثابت ہوئی۔ یہ عراق کا دوسرا بڑا شہر واپس لینے کے لیے سرکاری فورسز کے آئندہ حملے کی تیاری کے سلسلے میں اہم پیش رفت ہے۔

العبیدی نے ٹوئیٹر کے ذریعے بتایا کہ "صلاح الدین صوبے سے روانہ ہونے کے بعد آرمرڈ ڈویژن 9 کے دستوں اور انسداد دہشت گردی کے ادارے نے القیارہ اڈے کے شمال میں واقع گاؤں اِجحلہ کو آزاد کرا لیا"
انہوں نے مزید بتایا کہ مذکورہ فورسز دریائے دجلہ کے کنارے پہنچ گئیں جہاں وہ نینویٰ صوبے کو آزاد کرانے کے آپریشنز میں شریک یونٹوں سے جا ملیں۔

فوجی ترجمان کے مطابق آخری عرصے میں واپس لیے جانے والے علاقوں کو اب بھی تحفظ فراہم کرنے کی ضرورت ہے کیوں کہ متعدد شہروں میں داعش کے عناصر چُھپے ہوئے ہیں۔

عراقی سرکاری فورسز نے گزشتہ ہفتے کے روز امریکا کے زیرقیادت اتحاد کی فضائی سپورٹ کے ساتھ القیارہ کے فضائی اڈے کو واپس لے لیا تھا جو موصل پر بنیادی حملے کے لیے امدادی مقام کی حیثیت رکھتا ہے۔

امریکی وزیردفاع ایشٹن کارٹر نے پیر کے روز 560 اضافی فوجیوں کو عراق بھیجنے کا اعلان کیا تھا۔ ان اہل کاروں کی اکثریت القیادہ کے اڈے پر فرائض انجام دیں گے تاکہ موصل کی جانب عراقی پیش قدمی کی سپورٹ کی جاسکے۔ موصل داعش تنظیم کے زیرکنٹرول سب سے بڑا شہر ہے۔

عراقی وزیراعظم حیدر العبادی کی جانب سے رواں سال کے اختتام سے قبل موصل شہر کو واپس لیے جانے کا عہد کیا گیا تھا۔
..........................
سعودی عرب کی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ مدینہ میں مسجد نبوی کے قریب خودکش دھماکہ کرنے والا شخص سعودی شہری تھا جو منشیات کا عادی تھا۔ سعودی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ پانچ جولائی کو ہونے والے تین خودکش حملوں کی تحقیقات میں 19 افراد کو حراست میں لیا گیا جن میں سے 12 پاکستانی ہیں۔

زارت داخلہ کا کہنا ہے کہ مسجد نبوی کے قریب دھماکہ کرنے والا 26 سالہ سعودی شہری نائر مسلم حماد النجیدی تھا جو منشیات کا عادی تھا۔
وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ مدینہ میں کیے گئے خود کش دھماکے میں نائٹروگلیسرین کے نمونے ملے ہیں۔
واضح رہے کہ پانچ جولائی کو سوعدی عرب کے تین شہروں میں خودکش حملے کیے گئے۔ سب سے پہلا جدہ میں امریکی قونصلیٹ کے باہر، دوسرا شیعہ اکثریتی علاقے قطیف اور تیسرا مدینہ میں مسجد نبوی کے قریب۔
سعودی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ قطیف میں حملہ کرنے والے 23 سالہ عبدالرحمان العمر، 20 سالہ ابراہیم العمر اور 20 سالہ عبدالکریم الحسنی تھی۔
یاد رہے کہ سعودی حکام کا کہنا تھا کہ جدہ میں امریکی قونصل خانے کے باہر خودکش دھماکہ کرنے والا شخص ایک پاکستانی تھا تاہم پاکستان کی وزارتِ داخلہ نے فی الحال اس امر کی تصدیق سے انکار کیا ہے کہ مذکورہ شخص پاکستانی شہری ہے۔

 پاکستان کی وزارتِ داخلہ کے حکام نے تاحال اس بات کی تصدیق نہیں کی ہے کہ عبداللہ گلزار خان نامی یہ شخص پاکستانی ہے۔
................
مدینہ میں مسجد نبوی کے قریب خودکش بم دھماکے کے بعد سعودی عرب کے شاہ سلمان نے کہا ہے کہ حملے کے ذمہ داروں سے ’آہنی ہاتھ‘ سے نمٹا جائے گا۔

عید کے موقع پر ایک پیغام میں شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے کہا کہ جو عناصر ہمارے نوجوانوں کے دل و دماغ کو ہدف بناتے ہیں اُن سے ’آہنی ہاتھ‘ سے نمٹنے کے لیے سعودی حکومت پرعزم ہے۔

پیر کو مسجد نبوی کے قریب خودکش بم حملے میں سعودی عرب کے چار سکیورٹی اہلکار مارے گئے تھے جب کہ پانچ زخمی ہوئے۔

مسجد نبوی میں پیغمبر اسلام کی تدفین ہوئی اور مکہ میں مسجد الحرام کے بعد مسجد نبوی مسلمانوں کا سب سے مقدس مقام سمجھا جاتا ہے۔

مدینہ میں خودکش حملے کی کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

مسجد نبوی کے قریب ہونے والے خودکش دھماکے کی شدید مذمت کا سلسلہ جاری ہے اور کئی ممالک کی طرف سامنے آنے والے بیانات میں مسلمانوں میں یکجہتی کا پیغام دیتے ہوئے کہا گیا کہ دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔

پاکستان کی حکومت کی طرف سے مدینہ اور سعودی عرب کے دو دیگر علاقوں میں پیر کو ہونے والے خودکش دھماکوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی حکومت اور عوام سے یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔

پاکستان میں مذہبی رہنماؤں نے بھی مدینہ میں حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے تمام مسلمان ممالک کی حکومت سے کہا ہے کہ یہ وقت کا تقاضا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف متحد ہو کر عملی اقدامات کیے جائیں۔۔

..................
سعودی عرب کے شہر جدہ میں امریکی قونصل خانے پر حملہ کرنے والے خودکُش بمبار کی شناخت ہوگئی۔

سعودی وزارت داخلہ کے مطابق امریکی قونصل خانے کے قریب خود کو اڑانے والا خود کش بمبار پاکستانی تھا، جس کی شناخت عبداللہ گلزار خان کے نام سے کی گئی۔

سعودی وزارت داخلہ نے ٹوئٹر پر حملہ آور کی تصویر بھی جاری کر دی۔

وزارت داخلہ کے مطابق 35 سالہ عبداللہ گلزار خان 12 سال سے اپنی اہلیہ اور والدین کے ہمراہ جدہ میں مقیم تھا اور پیشے کے لحاظ سے ڈرائیور تھا۔

یاد رہے کہ گذشتہ روز (4 جولائی کو ) علی الصبح سعودی عرب کے شہر جدہ میں امریکی قونصل خانے کے قریب خودکش دھماکے کے نتیجے میں 2 سیکیورٹی اہلکار زخمی ہوگئے تھے۔

عرب میڈیا کے مطابق سیکیورٹی اہلکاروں کے روکنے پر خودکش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑایا۔

دوسری جانب امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ترجمان نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا تھا کہ امریکی حکام جدہ میں خودکش حملے کے واقعے سے آگاہ ہیں اور وہ سعودی حکام سے اس حوالے سے معلومات لے رہے ہیں۔

خیال رہے کہ 2004 میں بھی جدہ میں امریکی سفارت خانے کو حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا جس کے نتیجے میں 9 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

جدہ دھماکے کے علاوہ گذشتہ روز سعودی عرب کے شہر قطیف اور مدینہ منورہ میں مساجد کے قریب بھی 3 خود کش دھماکے ہوئے، جن کے نتیجے میں 4 سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہوگئے۔

غیر ملکی خبر رساں اداروں نے عرب نیوز چینل العربیہ کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ مدینہ منورہ میں مسجد نبوی اور جنت البقیع کے درمیان قائم سیکیورٹی ہیڈکوارٹر پر ایک خود کش بمبار نے خود کو زور دار دھماکے سے اڑا لیا۔

دھماکے کے نتیجے میں 5 افراد ہلاک ہوئے، جن میں ایک خود کش بمبار اور 4 سیکیورٹی گارڈز شامل تھے۔

دوسری جانب سعودی عرب کے شہر قطیف میں قائم ایک مسجد فراج العمران کے باہر خود کش بمبار نے خود کو زور دھماکے سے اڑایا۔

سعودی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق پہلے خود کش دھماکے کے کچھ ہی دیر بعد متاثرہ مسجد کے قریب دوسرا خود کش دھماکا بھی ہوا۔

تاہم ان دونوں دھماکوں کے نتیجے میں کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
...........................
سعودی عرب کے شہر مدینہ میں مسجد نبوی کے حرم کے قریب سیکیورٹی چیک پوسٹ پر ایک خودکش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ اس بزدلانہ کارروائی میں ابتک دو سیکیورٹی اہلکاروں کے شہادت کی تصدیق ہو چکی ہے۔ حملہ آور بھی دھماکے میں ہلاک ہو گیا جبکہ دوسری جانب مشرقی شہر قطیف میں مسجد کے باہر دو خودکش حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

العربیہ نیوز چینل کے مطابق پیر کی شام قطیف شہر کی مسجد عمران کے قریب ہونے والے دھماکوں میں ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ دھماکے کاروباری علاقے میں ہئے جہاں بڑی تعداد میں لوگوں کے جمع ہو گئے ہیں۔ امدادی اور سیکیورٹی اہلکاروں کی بڑی تعداد جائے حادثہ کی طرف روانہ کر دی گئی ہے۔

ادھر مقدس شہر مدینہ میں ہونے والے دھماکے کا ہدف مسجد نبوی کا کار پارکنگ ایریا تھا۔ دھماکے کے وقت سیکیورٹی چیک پوسٹ پر اہلکار افطار کر رہے تھے اور مسجد نبوی میں افطار کے بعد نماز مغرب کی اقامت ادا کی جا رہی تھی۔

سیکیورٹی اہلکاروں نے مسجد نبوی کے قریب دھماکے کی جگہ پر رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں اور ناکہ لگا کر ابتدائی شواہد جمع کرنا شروع کر دیئے ہیں۔
بیس لاکھ افراد مسجد نبوی اور روضہ رسول کی روحانی فضا سے استفادہ کے لئے آئے۔ دھماکے کے بعد صورتحال پرسکون ہے کوئی افراتفری نہیں ہے۔ نمازی عشاء اور تراویح کے لئے جوق در جوق
مسجد نبوی آ رہے ہیں۔

ایک اور ذریعہ کے مطابق سعودی عرب کے مقدس شہر مدینہ منورہ میں دو دھماکوں میں 10افراد کی شہادت کی اطلاعات ہیں۔چینل 92کے مطابق حملہ آوروں نے مدینہ منورہ کے سکیورٹی اداروں کے ہیڈ کوارٹرز کو نشانہ بنایا۔ایک دھماکہ اطواری کے علاقے میں ہوا جس میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔ چینل کے مطابق جنت البقیع کے قریب دو خودکش دھماکے ہوئے ایک دھماکہ پارکنگ میں ہوا۔جیو نیوز کے مطابق العربیہ ٹی وی کا کہنا ہے کہ دو افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔ ٹی وی کے مطابق حملہ آور کو جب مسجد نبوی کے اندر داخل ہونے سے روکا گیا تو اس نے پارکنگ میں خود کو اڑا لیا۔ دوسری طرف سعودی حکام کا کہناہے کہ مدینہ منورہ میں کوئی دھماکہ نہیں ہوا ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے مشق کی گئی ہے ۔

عرب میڈیا کے مطابق  سعودی حکام کا کہناتھا کہ مدینہ منورہ میں سیکیورٹی اہلکاروں نے ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے مشق کی ہے


:دیگر مضامین
(26.09.2016) بوکو حرام کے لیڈر ابوبکر شیکاؤ نے زخمی ہونے کی تردید کر دی
(25.09.2016) امریکا:شارلٹ کے سیاہ فام شخص کی ہلاکت کی ویڈیو جاری
(25.09.2016) مصر میں سات ملزمان کو پھانسی کی سزا سنا دی گئی
(24.09.2016) برطانیہ کی لیبر پارٹی نے جیرمی کوربن کو دوبارہ بھاری اکثریت سے قائد منتخب کر کیا
(24.09.2016) واشنگٹن کے برلنگٹن شاپنگ مال میں فائرنگ سے4 افراد ہلاک ہوگئے
(24.09.2016) مقبوضہ کشمیر،شرکائے آزادی مارچ پر بھارتی فوج کا وحشیانہ تشدد
(23.09.2016) صدارتی انتخابات، ٹیڈ کروز کا ٹرمپ کی حمایت کا اعلان
(23.09.2016) بھارت فرانس سے 36 جنگی طیارے خریدے گا، معاہدے پر دستخط ہو گئے
(23.09.2016) اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں فلسطین اور اسرائیل کے راہنماؤں کی طرف سے ایک دوسرے کے خلاف تندوتیز بیانات سامنے آئے۔
(23.09.2016) مقبوضہ کشمیر میں77 ویں روز بھی مسلسل  کشیدگی برقرار
(23.09.2016) افغان حکومت نے حزب اسلامی کے ساتھ امن ڈیل پر دستخط کر دیے
(22.09.2016) امریکہ کی ریاست شمالی کیرولائنا کے شہر شارلٹ میں ایک سیاہ فام شخص کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد احتجاجی مظاہرے جاری
(22.09.2016) حلب واقعہ، سلامتی کونسل میں روس اور امریکا کے درمیان لفظوں کی جنگ
(22.09.2016) بنگلہ دیش. دریا میں مسافر کشتی الٹنے کے نتیجے میں 13 افراد ہلاک
(21.09.2016) کیرولائنا: سیاہ فام شخص کی ہلاکت کے بعد مظاہرے
(21.09.2016) اقوام متحدہ: اوباما کا عالمی سیاست کے بارے میں تفصیلی بیان
(20.09.2016) مین ہیٹن بم دھماکے کے شبہے میں احمد خان راحمی گرفتار
(20.09.2016) یورپی یونین بریگزٹ کو برطانیہ کے لیے تکلیف دہ بنا دے گی، سلواک وزیراعظم
(19.09.2016) پوٹن کی جماعت کی پارلیمانی انتخابات میں واضح فتح
(19.09.2016) صومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو میں خود کش حملے، جنرل سمیت 6 ہلاک



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں