ماہ رمضان کا اہتمام ختم ہونے کو ہے، مہنگائی کے طوفان کے باوجود کراچی سے لاہور، اسلام آباد، کوئٹہ، پشاور ہر جگہ ہر شہر میں عید کی خریداری کا زور ہے، جس میں زیادہ تعداد خواتین اور بچوں کی اشیاء کی خرید و فروخت کی ہے۔ اس ہفتے عیدالفطر بھی آرہی ہے۔ ملکی سلامتی کے حوالے سے ہر جگہ حکومتی اور عسکری ادارے پوری طرح چوکس اور فعال نظر آرہے ہیں کہ کسی بھی جگہ کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما نہ ہو۔ یہی دعا ہماری بھی ہے کہ اللہ کرے آنیوالے دن خوشگوار طریقے ہی سے گزر جائیں اور پورے ملک میں آنیوالے دنوں میں امن اور سکون رہے۔
اسی طرح یہ بھی دعا کرنی چاہئے کہ آنے والے چند ہفتوں میں ملکی حالات میں جو بھی تبدیلی متوقع ہے وہ کام احسن طریقے سے مکمل ہو۔ اس کے لئے تمام سیاسی قائدین کو ذاتی مفادات سے ہٹ کر قومی مفاد کو ترجیح دینا ہوگی، کیونکہ ہمارا ملک اب مزید سیاسی محاذ آرائی کا متحمل نہیں ہوسکتا بلکہ اب تو حالات محاذ آرائی کے ماحول کو ختم کرنے کا تقاضا بھی کررہے ہیں۔ اسی طرح وزیر اعظم نواز شریف کی پاکستان واپسی ایک سوالیہ نشان بنتی جارہی ہے۔ ان کا قیام بیرون ملک جتنا بڑھتا جارہا ہے کوئی مانے یا نہ مانے ان کے لئے سیاسی حالات بھی اتنے ہی ناہموار اور ناسازگار ہوتے جارہے ہیں۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ ان کے لاتعداد مشیر یہی آواز بلند کررہے ہیں کہ ہمارا شیر آنے والا ہے۔ میاں صاحب آئیں گے تو سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا۔
ایسے لگتا ہے کہ اب شاید سب کچھ ان کی خواہشات اور مرضی کے مطابق نہ ہو بلکہ پہلی بار شریف فیملی کو کوئی قربانی دینی پڑسکتی ہے جس سے سیاسی حالات کا رخ بدل سکتا ہے اور معاملات مسلم لیگ ہی کی زیر نگرانی قومی حکومت کی طرف جاسکتے ہیں، تاہم شریف فیملی کے مشیران کا کہنا ہے کہ میاں نواز شریف نے جیسے بیماری سے پہلے پاناما لیکس کے حوالے سے سارے کارڈز صحیح طریقے سے کھیلے ہیں وہ اب وطن واپسی کے بعد سیکنڈ رائونڈ میں بھی اپنے پتے صحیح طرح سے استعمال کریں گے ۔ اللہ کرے ان کی خواہش کے مطابق ایسا ہو مگر زمینی حقائق حالات میں تبدیلی کے اشارے دے رہے ہیں۔
خدا کرے یہ ملک و قوم کیلئے بہتر ہو، خاص کر یہ حالات فرینڈلی بزنس اور انویسٹمنٹ کے لئے بھی اچھے ثابت ہوں۔ اس وقت بھی مختلف بین الاقوامی اداروں کی سپورٹ کے باوجود مقامی سرمایہ کاروں اور بزنس مینوں کی اکثریت غیر یقینی صورتحال پر تشویش کا اظہار کررہی ہے۔ نئے بجٹ کے اعلان کے باوجود ملک میں صحیح طریقے سے کاروباری سرگرمیوں کاآغاز نہیں ہورہا ،البتہ عید کی خریداری اور جوش و خروش سے ماہ رمضان میں تو مجموعی طور پر کئی سو کروڑ روپے کی عید سیل ہوجاتی ہے مگر ایک ماہ کے بعد صورتحال بدل بھی جاتی ہے۔
اب چونکہ عید آرہی ہے یہی دعا کرنی چاہئے کہ عید کے دن خیریت سے گزر جائیں اور عید کے بعد سیاسی حالات کے حوالے سے جو اقدامات بھی ہوں وہ ملکی مفاد اور عوامی خواہشات کے مطابق ہوں، خاص کر اس سے ملک میں بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی کے خاتمہ میں بھرپور مدد مل سکے۔
بشکریہ جنگ