بنگلا دیش کے دارالحکومت ڈھاکا کے علاقے کشورگنج کی عیدگاہ کے داخلی دروازے پر دھما کے میں پولیس اہلکار سمیت 4 افراد ہلاک اور7 افراد زخمی ہو گئے، عید گاہ میں تقریباً3 لاکھ افراد موجود تھے۔
دھماکا عیدالفطر کے بڑے اجتماع کے نزدیک ہوا، بنگلا دیشی وزیراعظم حسینہ واجد نے دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسلام لوگوں کے قتل عام کی اجازت نہیں دیتا۔
بھارت اوربنگلادیش میں آج عید الفطر منائی جا رہی ہے، بھارتی دارالحکومت نئی دلی کی جامع مسجد میں نماز عید کا بڑا اجتماع منعقد کیا گیا۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق ضلع کشور گنج میں مسلح افراد کے گروہ نے پولیس کی چیک پوسٹ پر پٹرول بم پھینکے اور یہ چیک پوسٹ اُس میدان کے قریب تھی جہاں نماز عید کا اجتماع ہو رہا تھا۔
بم دھماکے کے وقت میدان میں عید کی نماز ادا کی جا رہی تھی۔ضلع کشور گنج ڈھاکہ دارلحکومت سے 100 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔اطلاعات کے مطابق دھماکے کے وقت فائرنگ بھی ہوئی ہے۔
خیال رہے کہ گذشتہ جمعے کو دارالحکومت ڈھاکہ میں مسلح حملہ آوروں نے ایک کیفے پر حملہ کر کے 20 کے قریب افراد کو یرغمال بنا لیا تھا اور اس کے تقریباً 12 گھنٹے بعد فوج کے آپریشن میں پانچ حملہ آور مارے گئے تھے جبکہ یرغمال بنائے گئے غیر ملکیوں سمیت 20 افراد ہلاک ہو گئے