امریکا میں 2سیاہ فام نوجوانوں کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت کےخلاف ڈیلاس میں مظاہرے کے دوران فائرنگ سے3پولیس اہلکار ہلاک جب کہ 10 زخمی ہوگئے۔
اس سال امریکی پولیس کے ہاتھوں مارے گئے سیاہ فام افراد کی تعداد 123 ہو گئی ۔صدر اوباما نے اس واقعے پراظہار تشویش کیا ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق امریکی ریاست ٹیکساس میں حکام کا کہنا ہے کہ گذشتہ دو دنوں میں پولیس کے ہاتھوں دو سیاہ فام فراد کی ہلاکت کے خلاف ڈیلاس میں احتجاجی مظاہرے کے دوران تین پولیس اہلکاروں کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا گیا ہے۔
ڈیلاس میں احتجاجی مظاہرے کے دوران دس پولیس اہلکاروں کو فائرنگ کر کے زخمی کیا گیا جن میں تین ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ پولیس مشتبہ افراد کو تلاش کر رہی ہے۔
گذشتہ دو دنوں میں دو سیاہ فام افراد کی پولیس کی جانب سے گولیاں مار کر ہلاک کرنے کے واقعات کے بعد امریکہ بھر میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر باراک اوباما کا کہنا ہے کہ تمام امریکیوں کو پولیس کے ہاتھوں سیاہ فام افراد کی بڑھتی ہوئی ہلاکتوں پر تشویش ہونی چاہیے۔انہوں نے یہ بیان نیٹو کے اجلاس میں شرکت کے لیے پولینڈ پہنچنے پر دیا ہے۔ امریکی صدر نے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے اس تعصبانہ رویے کو جڑ سے اکھاڑنے کا کہا،امریکی صدر باراک اوباما نے مزید کہا کہ امریکہ کو یہ کہنا چاہیے کہ ہم اس کہیں بہتر ہیں اور اس کے اہمیت نسل سے آگے ہے۔
باراک اوباما نے کہا کہ ’یہ صرف سیاہ فاموں کا مسئلہ نہیں اور نہ ہسپانیوں کا مسئلہ۔ یہ ایک امریکی مسئلہ ہے اور ہم سب کو اس کا خیال رکھنا ہوگا۔تمام صحیح سوچ والے افراد کو تشویش ہونی چاہیے۔‘
وائس آف امریکہ کے مطابق
امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر ڈیلاس میں فائرنگ سے چار پولیس اہلکار ہلاک اور سات زخمی ہو گئے اور بظاہر انھیں ایک مظاہرے کے دوران دو ماہر نشانہ بازوں کی طرف سے گولیوں کا نشانہ بنایا گیا۔
رواں ہفتے ہی ایک بار پھر دو مختلف علاقوں میں سیاہ فام مردوں کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت کے خلاف مظاہرے شروع ہوئے تھے اور جمعرات کو دیر گئے ہونے والے ایسے ہی ایک مظاہرے کے دوران پولیس اہلکاروں کے جانی نقصان کا واقعہ پیش آیا۔
پولیس کے سربراہ ڈیوڈ براون نے کیموفلاج لباس میں ملبوس ایک سیاہ فام شخص کی تصویر دکھاتے ہوئے کہا کہ عینی شاہدین نے بتایا کہ یہ شخص فائرنگ میں ملوث ہے۔ ان کے بقول ہو سکتا ہے کہ علاقے میں کوئی بم بھی نصب کیا گیا ہو۔
ڈیلاس پولیس کے مطابق تاحال کوئی مشتبہ شخص گرفتار نہیں ہوا اور واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
فائرنگ کا یہ مہلک واقعہ ایک ایسے وقت پیش آیا جب چند گھنٹے قبل ہی صدر براک اوباما نے قانون نافذ کرنے والوں پر زور دیا تھا کہ وہ اپنے اندر موجود نسلی امتیاز رکھنے والوں کو ہٹا دیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم سب کو بحیثیت امریکی رواں ہفتے مینیسوٹا میں ایک سیاہ فام شخص کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت پر تشویش میں مبتلا ہونا چاہیے۔
یہ بات انھوں نے جمعہ کو وارسا میں نیٹو کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے پولینڈ پہنچنے پر کہی۔ "ہم اس طرح کے بہت سے سانحات دیکھتے آئے ہیں۔"
ان کے بقول اس واقعے نے انھیں مجبور کر دیا کہ وہ ٹی وی پر بیان دیں۔