16.10.2026, 03:09pm , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
مضامین/تجزیات » شمس جیلانی
 

اب بد زبانوں کو لگام دینے کی ضرورت ہے۔ از۔۔ شمس جیلانی
09.07.2016, 01:05am , ہفتہ (GMT+1)

از۔۔ شمس جیلانی
  چند دن پہلے تین خبریں ایک ساتھ آئیں جن میں ایک اندوہناک خبر یہ تھی کہ حضور (ص) کے روضہ مبارک اور جنت البقیع کے درمیا ں جو پولس چوکی تھی اس پر ایک شدت پسند پھٹ پڑا ؟ یہ انتہا ہے اور نتیجہ ہے اس شدت پسندی کا جو سعودی عرب کی تاسیس کے ساتھ شروع ہوئی؟جوکہ بڑی مشکل سے خوارج کے فتنہ کی شکل میں کئی سو سال تک جاری رہنے کے بعد چنگیزیوں نے بمشکل ختم کیاتھا۔ جبکہ اس سے پہلے مسلمان اور عیسائی ملک کر اسے ختم کرنے میں ناکام رہے تھے۔ میں نے دوسری قوموں کا ذکر اس لیے نہیں کیا کہ اسوقت ہندؤں اوریہودیوں کی حکومت اول تو تھی نہیں اور کہیں تھی تو خود مختار نہیں تھی۔ بدھ مت کو ماننے والے خود کو امن پرست کہتے تھے اور دنیا کے سامنے ان کاوہ رخ ابھی تک نہیں آیا تھا جو کہ آج کل برما میں دیکھا جا رہا ہے؟ صرف دو ہی قومیں شدت پسندوں سے نبرد آزما ہوئیں۔ دوسری بھی اس وقت جبکہ خارجیوں نے مسلمانوں با دشاہوں اور علماءکو قتل کرتے کرتے فرانس کے بادشاہ کو بھی قتل کر ڈالا ۔ خارجی فرقہ بھی عمال کی نا انصافیوں کی وجہ سے شروع ہوا تھا جبکہ آج بھی نا انصافیوں کا دور دورہ ہے خاص طور پر عالم اسلام اس میں زیادہ مبتلا ہے۔ شدت پسندی کی ابتداء یہ ہے کہ  اسلام کے ابتدائی زمانہ تھا اور حضرت عثمان  (رض)خلیفہ تھے؟ اسوقت علماءکے بجائے حفاظ کازور تھا اور وہی ہر مسجد میں سرکاری طور پر حضرت عمر (رض) کے تراویح کو موجودہ شکل میں رائج کرنے کی وجہ سے امام بنے اور ہر مسجد میں تعینات ہوئے تھے؟ 

 یہ قدرتی امر تھا کہ انہیں وفادار حکومت کا ہونا چاہیئے تھا اور کچھ عرصہ وہ رہے بھی، لیکن مروان بن الحکم کی ریشہ دوانیوں کی وجہ سے وہ حکومت کے خلاف صف آرا ہو گئے ۔ اور چاروں طرف سے اپنی چھوٹی چھوٹی ٹولیاں لیکر دارالخلافہ پہونچے جو کے اسوقت تک مدینہ منورہ تھا۔ ویسے توا ن کے بہت سے مطالبات تھے مگر اس میں پہلا مطالبہ یہ تھا کہ مروان کو اس کے عہدے سے بر طرف کیا جائے اور انہیں جن عمال کے خلاف شکایت ہے ان کو بھی تبدیل کیا جا ئے؟ خارجیوں میں مصر ی زیادہ تھے ۔ جن میں سب سے زیادہ بیچینی تھی۔ کیونکہ ان پر موجودہ دور میں ٹیکسوں کا بار بہت زیادہ کردیا گیا تھا اور وہ اس کا ذمہ دار موجودہ عامل مصرکو سمجھتے جو حضرت عبد اللہ بن رواحہ تھے ۔ جبکہ اس سے پہلے حضرت عمر و بن عاص تھے انہیں اس وجہ سے بر طرف کردیا گیا تھا کہ انہوں نے مصریوں پر ٹیکس لگانے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا تھا کہ اب اس اونٹنی کے تھنوں میں دودھ نہیں ہے؟ حضرت عبد اللہ بن رواحہ ان تبدیلیوں کے نتیجہ بر سر ِ اقتدار آئے اور انہوں نے مرکز ی ہدایت کے مطابق ٹیکس دگنا کرکے دکھا دیا؟ اس پر کسی مورخ  نےتو روشنی نہیں ڈالی ہے مگر اس میں درپردہ ہاتھ مروان کا ہونا چاہیئے؟ جوکہ حضرت عثمان (رض) کے نام سے جعلی فرمان جاری کرنے کا ماہر تھا اور اکثر عمال کو جاری کرتا رہتا تھا َ۔ ورنہ حضرت عثمان (رض) سے ایسی توقع کرنا میری لیے تو ناممکن ہے ؟ نہ جانے کیوں تاریخ دانوں نے مروان کو اس معاملے میں با لکل نظر انداز کردیا جو کہ حضور (ص) سے ذاتی پر خاش رکھتا تھا اور بعد میں میں وہ سلطنت بنو امیہ کا بانی بھی بنا ، مدینہ کا عامل بھی بنا اور کچھ عرصہ خلیفہ بھی رہا؟ 

   وجہ پرخاش یہ تھی کہ حضور (ص) نے اس کے باپ الحکم بن امیہ کو مدینہ بدر کردیا تھا اور اسکو تاحیات معاف نہیں فرمایا ، جبکہ حضرت عثمان (رض) کا وہ رشتہ دار تھا اور وہ بہت ہی نرم طبیعت کے انسان تھے ۔ انہوں نے حضور (ص) کے بعد حضرت ابو بکر (رض) دور میں اس کے لیے معافی کی کوشش کی مگر انہوں نے اسے واپسی کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ، پھر حضرت عمر (رض) دور میں بھی کوشش کی مگر اسے معافی نہیں ملیِ جب حضرت عثمان (رض)  کا دور آیا تب کہیں جاکر اس کے خاندان کو واپسی کی اجازت ملی نہ صرف اجازت ملی، بلکہ اس کو حضرت عثمان (رض) نے اسے اپنے شرف دامادی سے نوازا اوراسے اپنا کاتب (سکریٹری ) بھی بنا دیا ، مزید یہ کہ اس کو ایک لاکھ درہم جہیز میں عطا کیے اور اتنی ہی رقم ا سے بطور عطیہ عطا فرما ئی۔ اسی زمانے میں دربار ِ ِ خلافت سے مصریوں پر ٹیکس بڑھا نے کا خط لکھا گیا اور حکم عدولی پر عبد اللہ بن رواحہ جو کہ پہلے سے متنازعہ شخصیت تھے کو مصر کا عامل بنادیا گیا، جبکہ وہ ان میں شامل تھے جو آٹھ افراد فتح مکہ کے موقعہ پر واجب قتل قرار دیے گئے تھے ؟ انہیں حضرت عثمان (رض) اس دن اس صورت میں حضور (ص) کے سامنے پیش کیاکے وہ انہیں پناہ دے چکے تھے جبکہ اصول یہ تھا کہ ایک مسلمان کی پناہ دینا سب کی طرف سے پناہ دینا تھا۔لیکن ان کے جرائم بڑے سنگین تھے، کہ وہ مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ آئے اور وہاں آکر حضور (ص) کے درباری شاعروں میں شامل ہو ئے ۔ لیکن انہوں نے ایک غلام کے ساتھ زیادتی کی، جب انہیں قریش کی فرسودہ روایات کے مطابق حضور (ص) سے معافی کی امید نہ رہی تو وہ سزا کے خوف سے مکہ واپس چلے گئے ؟ اور وہاں جاکر حضور (ص) کے بارے میں الٹا پروپیگنڈہ اور جھوٹی اختراع پردازی شروع کردی اور سکو وہ اپنی دولونڈیوں کے ذریعہ ہر میلے ٹھیلے میں اور عکاظ کے بازار میں گھما پھراکراتا رہا؟ حضور (ص) نے اسے حضرت عثمان (رض) کی دی گئی پناہ کی وجہ سے با کراہیت معاف تو کردیا ،مگر اکثر صحابہ کرام (رض) نے  اسےمعاف نہیں کیا اور انہیں “  حکم “ماننے سے انکاری رہے ۔ جن میں حضرت محمد بن ابوبکر (رض) بھی شامل تھے، جب حضرت عثمان (ص) کے دور میں حضرت معاویہ کو قبرص فتح کرنے کی اجازت ملی تو وہ پہلے اسلامی بحری بیڑے کے  “امیرالبحر“ بنا دیے گئے۔ تو فوجی سرداروں کے ایک گروہ نے انہیں “ حکم  “ماننے اور کے زیر کمان جہاد کرنے سے انکارد کردیا، جس کی قیادت حضرت محمد بن ابوبکر (رض) کر رہے تھے؟ ۔ان کے علاوہ خارجیوں کو کوفہ ، موصل کے عمال سے بھی شکایات تھیں، حضرت عثمان (رض) نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو بیچ میں ڈالا اور انہوں نے اس یقین دہانی کی بنا پر ان کو واپس بھیجدیا کہ جو ان کے مطالبات ہیں وہ حضرت عثمان (رض) پورے کریں گے؟ ابھی وہ راستے ہی میں تھے کہ انہیں ایک سوار ملاجوکہ حضرت عثمان (رض) کا غلام تھا ملا جوکہ سوار بھی ان کی مخصوص اونٹنی پر تھا۔ انہوں نے اسے روکا تو اس کے پاس سے ایک خط ملا بر آمد ہواجو کہ گورنر مصر کے نام تھا کہ جب یہ لوگ تمہارے پاس پہونچیں تو انہیں قتل کردو ؟ خارجی واپس آگئے اور یہ سفارت بغاوت میں بدل گئی ؟ یہاں سے خارجی تحریک نے جنم لیا اور پھر صدیوں تک چلتی رہی ان میں سے چار ہزار مارے گئے جبکہ بیس ہزار حضرت علی کرم اللہ وجہہ کیی عام معافی سے فائدہ اٹھا کر وہاں سے پوری مملکت اسلامیہ میں پھیل گئے ۔ ان کا بھی شدت پسندی میں یہ ہی عالم یہ تھا کہ وہ اپنے سوا ئے سب کو کافر سمجھتے تھے۔ ان کے پاس بھی ہمیشہ فدائین موجو رہے ،جن سے وہ ناخوش ہوئے وہ جان سے جاتے حتیٰ کہ دو خلیفہ راشد  (رض) کے بعد خود حضرت معاویہ َ بھی ان کے ہاتھوں زخمی ہو ئے زندگی تھی بچ گئے؟ اس تفصیل میں میرے جانے کا مقصد تاریخ سے یہ ثابت کرنا ہے کہ شدت پسند ی وہ جن ہے جس کا نشانہ خود سرپرستی کرنے والے ہی بنتے ہیں۔ یہاں میں نے جومختصر اً بیان کیا ہے وہ تاریخ ابن کثیر  (البدایہ النہایہ ) کی جلد نمبر4 سے 10 تک پھیلی ہوا ہے ) تاریخ یہ ہی ہے جس نے بھی شدت پسندی کی سر پرستی وہ اس کے دشمن ہوتے رہے او ر دوست کسی نہ بن سکے ؟ اسی شدت اور سوچ کو “ ہمارے سوا سب کافر یا بدعتی ہیں سعودی عرب نے اپنے یوم ِ تاسیس سے اپنایا اور دنیا بھر میں رواج دیا اور آج وہ انہیں کو نشانہ بنا نے پر تلے ہیں جنہوں نے ان کی دامے درہے سرپرستی۔ تازہ خبر یہ ہے کہ وزیر اعظم ہند مودی صاحب کی حکومت کے ایک اُپ منتری (وزیر مملکت) پریشان ہیں اور پریشانی وجہ سعودی اعزاز یافتہ جناب ذاکر نائیک ہیں جو ایک ایک دن میں لاکھوں کے مجمع کو خطاب کرتے ہیں اور اس میں چند لازمی طور پر روزانہ اسلام قبول کر لیتے  ہیں اور شبہ یہ ہے کہ بنگلہ دیش میں جو سات شدت پسند ہوٹل پر حملہ آور ہوئے ان میں سے  کم از کم دو نائیک صاحب کے پیرو ہیں۔

  جیسے ایک میان میں دو تلواریں نہیں رہ سکتیں وہ زیادہ دنوں تک دوست نہیں رکھے جاکستے؟ بہتر ہے کہ دوسروں کے تجربات سے بشمول  ِ بھارت دنیا والے فائدہ اٹھائیں اور اس فتنہ کو سب ملکر ختم کرنے کی کوشش کریں ورنہ یہ خدائی فوج ہزاروں کی تعداد  میں ایسے بم بن چکے ہیں جو ان کی جنت موعودہ، یا غربت کی وجہ سے رقم کے عیوض خود کو ہلاک کرنے کے لیے اپنے مرشدوں کے حکم کے منتظر رہتے ہیں لہذا یہ تمام انسانیت کے لیے انتہائی خطرناک ہیں ۔  صرف فرق اتنا ہے کہ اگر آج ان کی تو کل تماری باری ہے اللہ سبحانہ انہیں ہدایت دے اور ہم سب کو اس طفلانہ خیال سے بعض رکھے کہ شدت پسند کسی کےدوست ہوسکتے ہیں۔  

دوسرے کہ جو لوگ زہریلا پروپیگنڈہ کر رہیں انہیں روکا جائے اقام متحدہ روکے۔ ایسی تمام کتابوں کو ضبط کرلیا جو ان مذموم مقاصد کے لیے شائع کی گئیں اور جن میں تحریف یاتخصیر کی گئی۔

 دوسرے  یہ کہ مقامات مقدسہ کو محفوظ رکھنے کا حل یہ ہے کہ انہیں سعودی عرب سے علا حدہ کرکے  کسی بین الاقوامی مسلم ٹرسٹ کے سپرد کردیا جائے جو بین الاقوامی سیاست سے بالا تر ہو ۔ کیونکہ یہ علاقہ اسلام سے پہلے بھی کسی باد شاہ کے زیر تسلط نہیں رہا ، اسلام آنے کے بعد نبوت (ص) کے اور پھر خلافت کے طابع رہا اب نبی آخر الزماں (ص) آنے کے بعد نبوت ختم ہوچکی ہے۔ دنیا میں کوئی اور موجود نہیں ہے جو تمام ممالک اسلامیہ پر اقتدارِ اعلیٰ کا خلیفہ کی طرح دعویدار ہو  ۔ لہذا اس پر کسی کا تسلط نہیں ہونا چاہیے۔ کیونکہ یہ جگہ تمام مسلمانوں کو جان سے زیادہ عزیز ہے ؟ خدا نخواستہ وہاں کوئی حادثہ ہوگیا تو اسلامی دنیا جان دیدے گی مگر برداشت نہیں کرے گی ؟ اور ممکن ہے کہ نتیجہ کے طور پر امن عالم تباہ ہوجائے ؟

:دیگر مضامین
(02.07.2016) پچاس مفتیان ِ کرام کا ایک جرات مندانہ فیصلہ۔۔۔ شمس جیلانی
(25.06.2016) ظالمو رمضان المبارک میں تو انسان بن جاؤ ۔۔۔از۔۔ شمس جیلانی
(19.06.2016) سب سے بڑا ظالم وہ ہے جو اللہ کو جھٹلائے۔۔ شمس جیلانی
(11.06.2016) تمام نائبان رسول (ص) کے لیے لمحہ فکریہ! از۔۔۔ شمس جیلانی
(04.06.2016) وہ ہلاک ہوا جس نے ماہ ِ رمضان گنوادیا؟ ۔۔از ۔۔۔شمس جیلانی
(28.05.2016) کیا  کسی نے جھوٹ سے ہے فیض پایا اب تلک؟ از۔۔۔ شمس جیلانی
(21.05.2016)  آئیں، بائیں ،شائیں از ۔۔ شمس جیلانی
(14.05.2016) شامتِ اعمال ما صورت ِ نادر گرفت؟ از ۔۔۔ شمس جیلانی
(07.05.2016) وہی پرانی کمیشن کہانی ۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(30.04.2016) یہ وبال ِ شخصیت پرستی۔۔۔از۔۔۔شمس جیلانی
(23.04.2016) انہونی بات ہوگئی جو پہلے نہیں سنی۔۔۔ از۔۔ شمس جیلانی
(16.04.2016) صراط مستقیم سے کجروی کی طرف مراجعت۔۔از ۔۔شمس جیلانی
(09.04.2016) وکی لیکس کے بعد اب پنامہ لیکس؟ از ۔۔۔شمس جیلانی
(03.04.2016) ان میں سچا کو ن ہے اور جھوٹا کون ہے؟از ۔۔۔شمس جیلانی
(26.03.2016) مصطفی کمال اور ساتھی کس سلوک کے مستحق ہیں؟ ۔۔۔از ۔۔شمس جیلانی
(19.03.2016) عبرت سے دیکھیے مجھے عبرت نگاہ ہوں؟ از ۔۔۔شمس جیلانی
(13.03.2016) ہاتھ کاٹے پاؤ کاٹا پھر بھی سر باقی رہا۔۔۔از۔۔۔شمس جیلانی
(05.03.2016) صعّرا “ اونٹ کی ٹیڑھی گردن (٢)از ۔۔ شمس جیلانی
(27.02.2016) صعر “یا اونٹ کی طرح ٹیڑھی گرد ن۔۔۔از ۔۔۔ شمس جیلانی
(20.02.2016) شہید ِعلم ثاقبہ حکیم؟..... از۔۔۔ شمس جیلانی



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
شمس جیلانی  »
صفدر ھمٰدانی  »
ماہ پارہ صفدر  »
ڈاکٹر نگہت نسیم  »
زرقا مفتی  »
سیدہ زائرہ عابدی۰بجو  »
محمد احمد ترازی  »
محمد عظیم اعظم  »
عالم آرا  »
سیدہ رافیعہ گیلانی  »
شاہین اشرف علی  »
اظہرالحق نسیم  »
فرخندہ رضوی  »
ڈاکٹر فاخرہ نورین  »
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں