15.10.2026, 08:39am , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
اہم ترین   
ریڈیو پاکستان نے لاہور کے تاریخی ریڈیو اسٹیشن کا ایک اہم اسٹوڈیو اولیں ناشر اعلان قیام پاکستان مصطفیٰ علی ھمٰدانی کے نام سے موسوم کر دیا
یکم نومبر دو ہزار بارہ عالمی اخبار کی چوتھی سالگرہ ہے۔آن لائن اردو اخبارات میں عالمی اخبار سنجیدہ صحافت کا معیار بن چکا ہے
 
رپورٹس/ملٹی میڈیا
 

عبدالستار ایدھی اس عہد میں دنیا بھر میں پاکستان کی پہچان تھے
10.07.2016, 09:25am , اتوار (GMT+1)

عالمی اخبار شعبہ خبر
عبدالستار ایدھی (1928 – 2016ء) خدمت خلق کے شعبہ میں پاکستان اور دنیا کی جانی مانی شخصیت تھے، جو پاکستان میں ایدھی فاؤنڈیشن کے تاحیات صدر رہے۔ 

ایدھی فاؤنڈیشن کی شاخیں تمام دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں۔ ان کی بیوی محترمہ بلقیس ایدھی بلقیس ایدھی فاؤنڈیشن کی سربراہ ہیں۔ دونوں کو 1986ء میں عوامی خدمات کے شعبہ میں رامون ماگسےسے ایوارڈ  سے نوازا گیا۔

ابتدائی حالات
مولانا ایدھی 1928ء میں بھارت کی ریاست گجرات کے شہر بانٹوا میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کپڑا کے تاجر تھے جو متوسط طبقہ سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ پیدائشی لیڈر تھے اور شروع سے ہی اپنے دوستوں کی چھوٹے چھٹوے کام اور کھیل تماشے کرنے پر حوصلہ افزائی کرتے تھے۔ جب انکی ماں انکو اسکول جاتے وقت دو پیسے دیتی تھی تو وہ ان میں سے ایک پیسا خرچ کر لیتے تھے اور ایک پیسا کسی اور ضرورت مند کی ضرورت پوری کرنے کے لیے۔ گیارہ سال کی عمر میں انہوں نے اپنی ماں کی دیکھ بھال کا کام سنبھالا جو شدید قسم کے ذیابیطس میں مبتلا تھیں۔ چھوٹی عمر میں ہی انہوں نے اپنے سے پہلے دوسروں کی مدد کرنا سیکھ لیا تھا، جو آگے کی زندگی کے لیے کامیابی کی کنجی
آغاز
1947ء میں تقسیم ہند کے بعد ان کا خاندان بھارت سے ہجرت کر کے پاکستان آیا اور کراچی میں آباد ہوئے۔ 1951ء میں آپ نے اپنی جمع پونجی سے ایک چھوٹی سی دکان خریدی اور اسی دکان میں آپ نے ایک ڈاکٹر کی مدد سے چھوٹی سی ڈسپنسری کھولی جنہوں نے ان کو طبی امداد کی بنیادات سکھائیں۔ اسکے علاوہ آپ نے یہاں اپنے دوستوں کو تدریس کی طرف بھی راغب کیا۔ آپ نے سادہ طرز زندگی اپنایا اور ڈسپنسری کے سامنے بنچ پر ہی سو لیتے تاکہ بوقت ضرورت فوری طور پر مدد کو پہنچ سکیں۔
1957ء میں کراچی میں بہت بڑے پیمانے پر فلو کی وبا پھیلی جس پر ایدھی نے فوری طور پر رد عمل کیا۔ انہوں نے شہر کے نواح میں خیمے لگواۓ اور مفت مدافعتی ادویہ فراہم کیں۔ مخیر حضرات نے انکی دل کھول کر مدد کی اور ان کے کاموں کو دیکھتے ہوئے باقی پاکستان نے بھی۔ امدادی رقم سے انہوں نے وہ پوری عمارت خرید لی جہاں ڈسپنسری تھی اور وہاں ایک زچگی کے لیے سنٹر اور نرسوں کی تربیت کے لیے اسکول کھول لیا، اور یہی ایدھی فاؤنڈیشن کا آغاز تھا۔
ایدھی فاؤنڈیشن کی ترقی
آنے والوں سالوں میں ایدھی فاؤنڈیشن پاکستان کے باقی علاقوں تک بھی پھیلتی گئی۔ فلو کی وبا کے بعد ایک کاروباری شخصیت نے ایدھی کو کافی بڑی رقم کی امداد دی جس سے انہوں نے ایک ایمبولینس خریدی جس کو وہ خود چلاتے تھے۔ آج ایدھی فاؤنڈیشن کے پاس 600 سے زیادہ ایمبولینسیں ہیں، جو ملک کے طول و عرض میں پھیلی ہوئیں ہیں۔ کراچی اور اندرون سندھ میں امداد کے لیے وہ خود روانہ ہوتے ہیں اور ایدھی فاؤنڈیشن کی حادثات پر ردعمل میں کی رفتار اور خدمات میونسپل کی خدمات سے کہیں زیادہ تیز اور بہتر ہے۔ ہسپتال اور ایمبولینس خدمات کے علاوہ ایدھی فاؤنڈیشن نے کلینک، زچگی گھر، پاگل خانے، معذوروں کے لیے گھر، بلڈ بنک، یتیم خانے، لاوارث بچوں کو گود لینے کے مراکز، پناہ گاہیں اور اسکول کھولے ہیں۔ اسکے علاوہ یہ فاونڈیشن نرسنگ اور گھر داری کے کورس بھی کرواتی ہے۔ ایدھی مراکز کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ ہر ایدھی مرکز کے باہر بچہ گاڑی کا اہتمام ہے تا کہ جو عورت بچے کی دیکھ بھال نہیں کر سکتی اپنے بچے کو یہاں چھوڑ کر جا سکے۔ اس بچے کو ایدھی فاونڈشن اپنے یتیم خانہ میں پناہ دیتی ہے اور اسکو مفت تعلیم دی جاتی ہے۔
ایدھی انٹرنیشنل ایمبولینس فاونڈیشن
فاونڈیشن نے صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی ترقی کی ہے۔ اسلامی دنیا میں ایدھی فاؤنڈیشن ہر مصیبت اور مشکل وقت میں اہم مدد فراہم کرتی ہے۔ جہاں امداد اور نگرانی ایدھی بزات خود متاثرہ ممالک میں جا کر کرتے ہیں۔ پاکستان کے علاوہ فاونڈیشن جن ممالک میں کام کر رہی ہے ان میں سے چند نام افغانستان، عراق، چیچنیا، بوسنیا، سوڈان، ایتھوپیا اور قدرتی آفت سماٹرا اندامان کے زلزلہ (سونامی) سے متاثرہ ممالک کے ہیں۔
16 اگست 2006ء کو بلقیس ایدھی اور کبریٰ ایدھی کی جانب سے ایدھی انٹرنیشنل ایمبولینس فاؤنڈیشن کے قیام کااعلان کیا گیا۔ جس کے تحت دنیا کے امیریاغریب ہویا دنیا کا کوئی بھی ملک امریکہ، یو کے، اسرائیل، شام، ایران، بھارت، بنگلہ دیش ہوں میں یہ ایمبولینس بطور عطیہ دی جا رہی ہے اورانہیں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ان ایمبولینس کو 5 سال تک استعمال کرنے کے بعد فروخت کرکے اس کی رقم خیراتی کاموں میں استعمال کریں۔
بیگم بلقیس ایدھی اور کبریٰ ایدھی نے اس موقع پر کہا کہ وہ دنیا کاامیر یاغریب ملک ہووہاں مریض مریض ہی ہوتا ہے ایمبولینس کامقصد انسانوں کی جانیں بچانا ہوتا ہے اور ہمیں اس بات کی خوشی ہوگی کہ ایدھی انٹرنیشنل ایمبولینس فاؤنڈیشن کی ایمبولینسیں دنیا بھرمیں انسانوں کی جانیں بچائیں خواہ وہ لندن، نیویارک، ٹوکیو، تل ابیب، بیروت اوردمشق ہوں انہوں نے کہا کہ انسانیت کی بین الاقوامی خدمت کے حوالے سے ہمارا ایک قدم اورآگے بڑھ رہا ہے۔
جدید میراث
آج پاکستان کے علاوہ اسلامی دنیا میں بھی ایدھی نے ایک غیر خود غرض اور محترم شخص کے طور شہرت پائی ہے۔ شہرت اور عزت کے باوجود انہوں نے اپنی سادہ زندگی کو ترک نہیں کیا، وہ سادہ روائتی پاکستانی لباس پہنتے ہیں، جو صرف ایک یا دو انکی میلکیت ہیں، اسکے علاوہ انکی ملکیت کھلے جوتوں کا ایک جوڑا ہے، جسکو وہ سابقہ بیس سال سے استعمال کر رہے ہیں۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ ایدھی فاؤنڈیشن کا بجٹ ایک کروڑ کا ہے جس میں سے وہ اپنی ذات پر ایک پیسا بھی نہیں خرچ کرتے۔ آپ کے بیٹے فیصل بتاتے ہیں، جب افغانستان میں مرکز کا افتتا ح کیا جا رہا تھا تو عملہ نے مہمانوں اور صحافیوں کے بیٹھنے کے لیے کرسیاں خرید لیں۔ جب ایدھی وہاں آۓ تو وہ اس بات پر سخت خفا ہوئے، کونکہ انکے خیال میں یہ رقم کسی ضرورت مند کی مدد پر خرچ کی جا سکتی تھی۔ اس رات آپ کلینک کے فرش پر ایمبولینسوں کے ڈرائیوروں کے ساتھ سوۓ۔
ایدھی فاؤنڈیشن کا مستقبل
آج ایدھی فاؤنڈیشن ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ ایدھی مستقبل کی طرف دیکھتے ہوئے کہتے ہیں، وہ پاکستان کے ہر 500 کلو میٹر پر ہسپتال تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔ گرچہ انکو احترام کے طور پر مولانا کا لقب دیا گیا ہے لیکن وہ ذاتی طور پر اس کو پسند نہیں کرتے۔ انہوں نے کبھی کسی مذہبی اسکول میں تعلیم حاصل نہیں کی۔ وہ اپنے آپ کو ڈاکٹر کہلوانا پسند کرتے ہیں، کیونکہ انسانیت کی خدمات پر پاکستان میں انسٹیٹوٹ آف بزنس ایڈمنسٹلریشن سے ڈاکٹری کی اعزازی سند دی گئی ہے۔ وہ اس بات کو بھی سخت ناپسند کرتے ہیں جب لوگ انکی یا انکے کام کی تعریف کرتے ہیں۔ وہ حکومت یا سابقہ مذہبی جماعتوں سے امداد بھی نہیں لیتے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی امداد مشروط ہوتی ہے۔ ضیاءالحق اور اطالوی حکومت کی امداد انہوں نے اسی خیال سے واپس کر دی تھی۔
1996ء میں انکی خودنوشت سوانح حیات شائع ہوئی۔
1997ء گینیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کے مطابق ایدھی فاؤنڈیشن کی ایمبولینس سروس دنیا کی سب سے بڑی فلاحی ایمبولینس سروس ہے۔ ایدھی بذات خود بغیر چھٹی کیے طویل ترین عرصہ تک کام کرنے کے عالمی ریکارڈ کے حامل ہیں۔ اور ریکارڈ بننے کے بعد بھی ابھی تک انہوں نے چھٹی نہیں لی۔
اعزازات
بین الاقوامی اعزازات
[[*1986ء عوامی خدمات میں رامون مگسےسے اعزاز 
1988ء لینن امن انعام
1992ء پال ہیریس فیلو روٹری انٹرنیشنل فاونڈیشن 
دنیا کی سب سے بڑی رضاکارانہ ایمبولینس سروس - گینیز بک ورلڈ ریکارڈز (2000)
ہمدان اعزاز برائے عمومی طبی خدمات 2000ء متحدہ عرب امارات 
بین الاقوامی بلزان اعزاز 2000ء برائے انسانیت، امن و بھائی چارہ، اطالیہ 
انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن کراچکی کی جانب سے اعزازی ڈاکٹریٹ ڈگری (2006)
یونیسکو مدنجیت سنگھ اعزاز 2009ء 
احمدیہ مسلم امن اعزاز (2010)
قومی اعزازات
کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان کی طرف سے سلور جوبلی شیلڈ (1962–1987)
حکومت سندھ کی جانب سے سماجی خدمتگزار برائے بر صغیر کا اعزاز (1989) 
نشان امتیاز، حکومت پاکستان کا ایک اعلیٰ اعزاز (1989) 
حکومت پاکستان کے محمکہ صحت اور سماجی بہبود کی جانب سے بہترین خدمات کا اعزاز (1989) 
پاکستان سوک سوسائٹی کی جانب سے پاکستان سوک اعزاز (1992) 
پاک فوج کی جانب سے اعزازی شیلڈ
پاکستان اکیڈمی آف میڈیکل سائنسز کی جانب سے اعزازِ خدمت 
پاکستانی انسانی حقوق معاشرہ کی طرف سے انسانسی حقوق اعزاز 
26 مارچ 2005ء عالمی میمن تنظیم کی جانب سے لائف ٹائم اچیومنٹ اعزاز 
(Life Time Achievement Award)
وفات
 آٹھ جولائی 2016ء کو گردوں کے فیل ہونے کی وجہ سے 88 سال کی عمر رحلت کرگئے۔ انہوں نے وفات سے قبل یہ وصیت کی تھی کہ ان کے دونوں آنکھیں ضرور مندوں کو عطیہ کر دی جائے۔

:دیگر مضامین
(08.07.2016) قران مجید میں 14 سجدہ تلاوت ہیں ۔۔ طریقہ سجدہ تلاوت و دعا ۔۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
(06.07.2016) شوال کا پہلا دن عید سعید فطر ہے : ایس ایچ بنگش
(05.07.2016) شب القدر۔۔بخشش و راحت والی شب۔۔۔ از۔ شاہین اشرف علی
(01.07.2016) رمضان المبارک کا آخری جمعہ یوم ال قدس کے طور پر منایا جاتا ہے
(30.06.2016) شبہائے قدر کس تاریخ کو ہوں گی کیا اس کی فضلیت ضد کی نزر نہیں کی گئی
(29.06.2016) رمضان المبارک کا آخری عشرہ ۔۔ عشرہ توبہ ۔از؛ نگہت نسیم
(27.06.2016) شان علی ۔۔ “جس جس کا میں مولا اس اس کا علی مولا “ از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
(25.06.2016) ارشاد رسول ہے۔ جس کا میں مولا ہوں اس کا علی مولا ہے
(24.06.2016) ڈربی میں ایشیائیوں خاص طور پر مسلمانوں میں جسمانی اعضا عطیہ کرنے کی مہم
(23.06.2016) سترہ رمضان فتح جنگ بدر کا دن، تاریخ اپنے آپ کو دہرانے جا رہی ہے
(21.06.2016) نواسہ رسول ،داعی امن ،امام حسن ابن علی کی سیرت ایک نمونہ عمل ہے
(18.06.2016) ام المومنین سیدہ خدیجۃالکبریٰ
(16.06.2016) آج 10 رمضان ہے ،آیئے ہم سب مل کر اپنے پروردگار سے دعا کرتے ہیں
(15.06.2016) آج 9 رمضان ہے ،آیئے ہم سب مل کر اپنے پروردگار سے دعا کرتے ہیں
(14.06.2016) رمضان المبارک کا ایک ایک لمحہ بخشش کی خاص ضمانت ہے
(12.06.2016) رمضان مبارک کی چھٹے دن کی دعا ۔ ڈاکٹر نگہت نسیم
(11.06.2016) رمضان مبارک کی پانچویں دن کی دعا ۔ ڈاکٹر نگہت نسیم
(10.06.2016) رمضان مبارک کی چوتھے دن کی دعا ۔ ڈاکٹر نگہت نسیم
(10.06.2016) ماہ رمضان المبارک درحقیقت قلب کا موسم بدلنے کی نوید ہے
(09.06.2016) رمضان مبارک کی تیسرے دن کی دعا ۔ ڈاکٹر نگہت نسیم



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
بیاد سید عاشور کاظمی  »
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
  بیاد سید عاشور کاظمی   
  مزید ++
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں