17.10.2026, 06:57pm , ہفتہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
مضامین/تجزیات » ڈاکٹر نگہت نسیم
 

مینڈیلا ڈے ہو سکتا ہے تو ایدھی ڈے کیوں نہیں ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم‎
10.07.2016, 04:41am , اتوار (GMT+1)

اللہ پاک کا عجیب نظام ہے کہ اس نے دو طرح کے گروہ پیدا کیئے ہیں ۔۔ ایک گروہ جو خدمت کرتا ہے اور ایک گروہ جو خدمت کرواتا ہے ۔ یہ بات بھی روشن دلیل کی طرح ہے کہ خدمت کرنے والوں کو زندگی  میں بھی عزت ملتی ہے چاہے دیر سے ملے اور مرنے کے بعد بھی سرخرو رہتے ہیں اور صدی کا حوالہ بن جاتے ہیں ۔ انہیں ناموں میں سے دو نام ایسے ہیں جو خدمت گزاروں کی فہرست میں سر فہرست ہیں اور اس صدی کی پہچان ہیں ۔ 

حریت پسند انقلابی رہنما 18 جولائی 1918ء کو جنوبی افریقا کے علاقے مویزو میں پیدا ہوئے۔ جنوبی افریقہ کے سابق اور پہلے جمہوری منتخب صدر ہیں جو 99-1994 تک منتخب رہے۔ صدر منتخب ہونے سے پہلے تک نیلسن منڈیلا جنوبی افریقہ میں نسلی امتیاز کے کٹر مخالف اور افریقی نیشنل کانگریس کی فوجی ٹکڑی کے سربراہ بھی رہے۔ جنوبی افریقہ میں سیاہ فاموں سے برتے جانے والے نسلی امتیاز کے خلاف انھوں نے تحریک میں بھرپور حصہ لیا اور جنوبی افریقہ کی عدالتوں نے ان کو مختلف جرائم جیسے توڑ پھوڑ، سول نافرمانی، نقص امن اور دوسرے جرائم کی پاداش میں قید با مشقت کی سزا سنائی۔ 

نیلسن منڈیلا اسی تحریک کے دوران لگائے جانے والے الزامات کی پاداش میں تقریباً 27 سال پابند سلاسل رہے، انھیں جزیرہ رابن پر قید رکھا گیا۔ 11 فروری 1990ء کو جب وہ رہا ہوئے تو انھوں نے پر تشدد تحریک کو خیر باد کہہ کہ مذاکرات کا راستہ اپنانے کا فیصلہ کیا جس کی بنیاد پر جنوبی افریقہ میں نسلی امتیاز کو سمجھنے اور اس سے چھٹکارا حاصل کرنے میں مدد حاصل ہوئی۔ نسلی امتیاز کے خلاف تحریک کے خاتمے کے بعد نیلسن منڈیلا کی تمام دنیا میں پذیرائی ہوئی جس میں ان کے مخالفین بھی شامل تھے۔ جنوبی افریقہ میں نیلسن منڈیلا کو “ماڈیبا“ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے جو منڈیلا خاندان کے لیے اعزازی خطاب ہے۔

آج نیلسن منڈیلا جنوبی افریقہ اور تمام دنیا میں ایک تحریک کا نام ہے جو اپنے طور پر بہتری کی آواز اٹھانے میں مشہور ہے۔ نیلسن منڈیلا کو ان کی چار دہائیوں پر مشتمل تحریک و خدمات کی بنیاد پر 250 سے زائد انعامات سے نوازا گیا جن میں سب سے قابل ذکر 1993ء کا نوبل انعام برائے امن ہے۔ نومبر 2009ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 18 جولائی (نیلسن منڈیلا کا تاریخ پیدائش) کو نیلسن منڈیلا کی دنیا میں امن و آزادی کے پرچار کے صلے میں “یوم منڈیلا“ کے طور پر منانے کا اعلان کیا۔ 

نیلسن منڈیلا ڈے منانے کا مقصد ان کی پوری دنیا کے لیے کی گئی جمہوری کوششوں اور امن کو آگے بڑھانے کی کاوشوں اور دنیا میں آزادی کے لیے اہم کردار ادا کرنے پر خراج تحسین پیش کرنے کے لیے منایا جا رہا ہے۔ اس موقع پر لوگوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس دن کے موقع پر کچھ وقت کے لیے کمیونٹی کے فلاح کے لیے کام کریں۔ منڈیلا نے جنوبی افریقہ میں جمہوریت کے قیام کے لیے 67 برس تک جدوجہد کی تھی۔ اس لیے اقوام متحدہ نے اپنی اپیل میں لوگوں سے کہا ہے کہ ’دنیا بھر میں لوگ نیلسن منڈیلا کی سالگر کے موقع کم از کم 67 منٹ کے لیے اپنی کمیونٹی کی فلاح کے لیے کام کریں۔

آیئے اس صدی کی دوسری بڑی شخصیت کی بات کرتے ہیں ۔۔

مولانا عبدالستار  ایدھی 1928ء میں بھارت کی ریاست گجرات کے شہر بانٹوا میں پیدا ہوۓ۔ آپ کے والد کپڑوں کے تاجر تھے جو متوسط طبقہ سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ پیدائشی لیڈر تھے اور شروع سے ہی اپنے دوستوں کی چھوٹے چھٹوے کام اور کھیل تماشے کرنے پر حوصلہ افزائی کرتے تھے۔ جب انکی ماں انکو سکول جاتے وقت دو پیسے دیتی تھی تو وہ ان میں سے ایک پیسہ خرچ کر لیتے تھے اور ایک پیسہ کسی اور ضرورت مند کی ضرورت پوری کرنے کے لیے۔ گیارہ سال کی عمر میں انہوں نے اپنی ماں کی دیکھ بھال کا کام سنبھالا جو شدید قسم کے ذیابیطس میں مبتلا تھیں۔ چھوٹی عمر میں ہی انہوں نے اپنے سے پہلے دوسروں کی مدد کرنا سیکھ لیا تھا، جو آگے کی زندگی کے لیے کامیابی کی کنجی ثابت ہوئی ۔


1947ء میں تقسیم ہند کے بعد ان کا خاندان بھارت سے ہجرت کر کے پاکستان آیا اور کراچی میں آباد ہوۓ۔ 1951ء میں آپ نے اپنی جمع پونجی سے ایک چھوٹی سی دکان خریدی اور اسی دکان میں آپ نے ایک ڈاکٹر کی مدد سے چھوٹی سی ڈسپنسری کھولی جنہوں نے ان کو طبی امداد کی بنیادات سکھائیں۔ اسکے علاوہ آپ نے یہاں اپنے دوستوں کو تدریس کی طرف بھی راغب کیا۔ آپ نے سادہ طرز زندگی اپنایا اور ڈسپنسری کے سامنے بنچ پر ہی سو لیتے تاکہ بوقت ضرورت فوری طور پر مدد کو پہنچ سکیں۔

1957ء میں کراچی میں بہت بڑے پیمانے پر فلو کی وبا پھیلی جس پر ایدھی نے فوری طور پر رد عمل کیا۔ انہوں نے شہر کے نواح میں خیمے لگواۓ اور مفت مدافعتی ادویہ فراہم کیں۔ مخیر حضرات نے انکی دل کھول کر مدد کی اور ان کے کاموں کو دیکھتے ہوۓ باقی پاکستان نے بھی۔ امدادی رقم سے انہوں نے وہ پوری عمارت خرید لی جہاں ڈسپنسری تھی اور وہاں ایک زچگی کے لیے سنٹر اور نرسوں کی تربیت کے لیے سکول کھول لیا، اور یہی ایدھی فاؤنڈیشن کا آغاز تھا۔ عبدالستار ایدھی نے صرف 5000 روپے کے ساتھ ان کا پہلا فلاح و بہبود مرکز قاٗئم کیا اور پھر ایدھی ٹرسٹ قائم کیا۔ آج، ایدھی فاؤنڈیشن پاکستان میں سب سے بڑی فلاح و بہبود کی تنظیم ہے. فاؤنڈیشن کے ملک بھر میں 300 سے زائد مراکز اور 600 سے زیادہ ایمبولینسیں ہیں۔

 کراچی اور اندرون سندھ میں امداد کے لیے وہ خود روانہ ہوتے ہیں اور ایدھی فاؤنڈیشن کی حادثات پر ردعمل میں کی رفتار اور خدمات میونسپل کی خدمات سے کہیں زیادہ تیز اور بہتر ہے۔ ہسپتال اور ایمبولینس خدمات کے علاوہ ایدھی فاؤنڈیشن نے کلینک، زچگی گھر، پاگل خانے، معذوروں کے لیے گھر، بلڈ بنک، یتیم خانے، لاوارث بچوں کو گود لینے کے مراکز، پناہ گاہیں اور سکول کھولے ہیں۔ اسکے علاوہ یہ فاونڈیشن نرسنگ اور گھر داری کے کورس بھی کرواتی ہے۔ ایدھی مراکز کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ ہر ایدھی مرکز کے باہر بچہ گاڑی کا اہتمام ہے تا کہ جو عورت بچے کی دیکھ بھال نہیں کر سکتی اپنے بچے کو یہاں چھوڑ کر جا سکے۔ اس بچے کو ایدھی فاونڈشن اپنے یتیم خانہ میں پناہ دیتی ہے اور اسکو مفت تعلیم دی جاتی ہے۔

فاونڈیشن نے صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی ترقی کی ہے۔ اسلامی دنیا میں ایدھی فاؤنڈیشن ہر مصیبت اور مشکل وقت میں اہم مدد فراہم کرتی ہے۔ جہاں امداد اور نگرانی ایدھی بزات خود متاثرہ ممالک میں جا کر کرتے ہیں۔ پاکستان کے علاوہ فاونڈیشن جن ممالک میں کام کر رہی ہے ان میں سے چند نام افغانستان، عراق، چیچنیا، بوسنیا، سوڈان، ایتھوپیا اور قدرتی آفت سماٹرا اندامان کے زلزلہ (سونامی) سے متاثرہ ممالک کے ہیں۔

16 اگست 2006ء کو بلقیس ایدھی اور کبریٰ ایدھی کی جانب سے ایدھی انٹرنیشنل ایمبولینس فاؤنڈیشن کے قیام کااعلان کیا گیا۔ جس کے تحت دنیا کے امیریاغریب ہویا دنیا کا کوئی بھی ملک امریکہ، یو کے، اسرائیل، شام، ایران، بھارت، بنگلہ دیش ہوں میں یہ ایمبولینس بطور عطیہ دی جا رہی ہے اورانہیں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ان ایمبولینس کو 5 سال تک استعمال کرنے کے بعد فروخت کرکے اس کی رقم خیراتی کاموں میں استعمال کریں۔


آج پاکستان کے علاوہ اسلامی دنیا میں بھی ایدھی نے ایک غیر خود غرض اور محترم شخص کے طور شہرت پائی ہے۔ شہرت اور عزت کے باوجود انہوں نے اپنی سادہ زندگی کو ترک نہیں کیا، وہ سادہ روائتی پاکستانی لباس پہنتے ہیں، جو صرف ایک یا دو انکی میلکیت ہیں، اسکے علاوہ انکی ملکیت کھلے جوتوں کا ایک جوڑا ہے، جسکو وہ سابقہ بیس سال سے استعمال کر رہے ہیں۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ ایدھی فاؤنڈیشن کا بجٹ ایک کروڑ کا ہے جس میں سے وہ اپنی ذات پر ایک پیسہ بھی نہیں خرچ کرتے۔ آپ کے بیٹے فیصل بتاتے ہیں، جب افغانستان میں مرکز کا افتتا ح کیا جا رہا تھا تو عملہ نے مہمانوں اور صحافیوں کے بیٹھنے کے لیے کرسیاں خرید لیں۔ جب ایدھی وہاں آۓ تو وہ اس بات پر سخت خفا ہوۓ، کونکہ انکے خیال میں یہ رقم کسی ضرورت مند کی مدد پر خرچ کی جا سکتی تھی۔ اس رات آپ کلینک کے فرش پر ایمبولینسوں کے ڈرائیوروں کے ساتھ سوۓ۔

 پاکستان کے ہر 500 کلو میٹر پر ہسپتال تعمیر کروانے کی خواہش رکھنے والے عبدالستاکو احترام  کے طور پر مولانا کا لقب دیا گیا اورانسانیت کی خدمات پر پاکستان میں انسٹیٹوٹ آف بزنس ایڈمنسٹلریشن سے ڈاکٹری کی اعزازی سند دی گئی ہے۔ وہ اس بات کو بھی سخت ناپسند کرتے ہیں جب لوگ انکی یا انکے کام کی تعریف کرتے ہیں۔ وہ حکومت یا سابقہ مذہبی جماعتوں سے امداد بھی نہیں لیتے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی امداد مشروط ہوتی ہے۔ ضیاءالحق اور اطالوی حکومت کی امداد انہوں نے اسی خیال سے واپس کر دی تھی۔

1996ء میں انکی خودنوشت سوانح حیات شائع ہوئی۔

1997ء گینیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کے مطابق ایدھی فاؤنڈیشن کی ایمبولینس سروس دنیا کی سب سے بڑی فلاحی ایمبولینس سروس ہے۔ ایدھی بذات خود بغیر چھٹی کیے طویل ترین عرصہ تک کام کرنے کے عالمی ریکارڈ کے حامل ہیں۔ اور ریکارڈ بننے کے بعد بھی ابھی تک انہوں نے چھٹی نہیں لی۔

انہیں متعدد قومی اور بین الاقوامی اعزازات سے نوازا گیا ۔ اور آج مولا عبدلستار ایدھی بھی سخت علیل رہنے کے بعد اس دنیا سے رخصت ہو گئے ۔ پر سچ تو یہ ہے کہ ہماری قوم جنوبی افریکہ جیسی قوم نہیں ہے جو اپنے ہیرو کی قدر کر سکیں ۔ اور نہ ہی حکومت کا اقوام متحدہ میں کوئی عمل دخل ، قابل فخر ہے کہ وہ “ ایدھی ڈے “ کی منظوری لے سکیں ۔ 

چلیئے کچھ ایسا ہی ہو جائے کہ حکومت جہاں اتنی ہڑتالیں اور کسی نہ کسی کا دن مناتی رہتی ہے وہاں  پر آج ایک یہ اعلان کر دے  کہ جوملک و قوم کی خدمت کرے گا اعزازی طور پر   ان کے جنم دن پر ان کا  دن منایا جائے گا ۔ اور  اس رسم کا آغاز88 سالہ مولانا عبدالستار  ایدھی  کی 64 برس  کی خدمات کے اعتراف میں “ ایدھی ڈے “ سے ہو رہا ہے  اور اس دن  پاکستان کا ہر شہری  66 منٹ اپنی کمیونٹی کے لیئے کام کرے گا ۔۔ 

کاش ہم  خدمت کرنے والوں کے اعتراف میں ایک اعترافی دن ہی منا سکتے ! 

( معلومات کے لئے وکیپیڈیا سے استفادہ کیا گیا ہے ) 

:دیگر مضامین
(06.07.2016)  ہائے ڈینائل میں  ڈوبی  مسلمان قوم ۔۔۔ از: ڈاکٹر نگہت نسیم 
(04.07.2016) باضمیر اہل قلم کا دہشت گردی کے خلاف قلمی جہاد جاری ۔ ڈاکٹر نگہت نسیم
(16.06.2016) فیس بُک کےادبی بونے اپنے قد سے بھی آگاہ نہیں۔ ڈاکٹر نگہت نسیم
(12.06.2016) میں “ کاپی پیسٹ زندگی “ کیوں گزاروں . ڈاکٹر نگہت نسیم 
(30.05.2016) دین سے نفرت پیدا کرنے والے شیرانی جیسے ملا مولوی ہیں۔از: ڈاکٹر نگہت نسیم
(20.05.2016) شہوت کا بےلگام گھوڑا ۔۔ یہ ہے آج کے مسلمان مرد کا چہرہ ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم 
(13.05.2016) اردو شاعری کیا صرف عروض کا نام ہے۔از ؛ ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی
(29.03.2016) تازہ غم ۔۔۔ تازہ کالم ۔۔۔۔از: ڈاکٹر نگہت نسیم ۔ سڈنی 
(15.03.2016) کردار سازی کیوں اور کیسے ممکن ہے ۔۔ از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم 
(08.03.2016) معاشرہ امیر کو عزت کی نگاہ اور غریب کو حقارت سے کیوں دیکھتا ہے؟از:‌ڈاکٹر نگہت نسیم
(04.01.2016) صدیوں بعد بھی نہ ہم بدلے اور نہ ہماری خونی تاریخ ۔ از ؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
(01.01.2016) مجھے اس برس شجر ثمر بار بننا ہے ۔۔ از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
(25.12.2015) میرے خدا یہ ترے کرم کی نشانی ہے ۔۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم 
(29.11.2015) ہائے میری غمگسار ، خبر گیر ، دلدار ماں‌۔۔۔۔۔۔ از:‌ڈاکٹر نگہت نسیم 
(15.11.2015) خوشبو ؤں کے دیس میں خون و بارود کی بارش ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم 
(06.11.2015) گوگو گا گے گا ، اتنا بھاگے گا ۔۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم 
(25.10.2015) نواسہ رسول امام حسین علیہ السلام اتحاد کی علامت ہیں۔ از۔ ڈاکٹر نگہت نسیم
(19.10.2015) بچے ، والدین اور اساتذہ ایک تکون ہیں ۔ از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم 
(02.10.2015) رسول اور آل رسول پر گفتگو تلوار کی دھار پر چلنا ہے ۔ از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم 
(30.09.2015) نفس کی سازش ۔۔۔اپنا محاسبہ نہیں کرنے دیتی ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم 



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
شمس جیلانی  »
صفدر ھمٰدانی  »
ماہ پارہ صفدر  »
ڈاکٹر نگہت نسیم  »
زرقا مفتی  »
سیدہ زائرہ عابدی۰بجو  »
محمد احمد ترازی  »
محمد عظیم اعظم  »
عالم آرا  »
سیدہ رافیعہ گیلانی  »
شاہین اشرف علی  »
اظہرالحق نسیم  »
فرخندہ رضوی  »
ڈاکٹر فاخرہ نورین  »
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں