احمد ندیم قاسمی کی وفات
٭10جولائی 2006ء کواردو کے نامور افسانہ نگار‘ شاعر‘ ناقد‘ کالم نگار‘ محقق‘ مترجم اور صحافی جناب احمد ندیم قاسمی لاہور میں وفات پاگئے۔
جناب احمد ندیم قاسمی کا اصل نام احمد شاہ تھا اور وہ 20 نومبر 1916ء کو انگہ ضلع خوشاب میں پیدا ہوئے تھے۔ جناب احمد ندیم قاسمی ایک ہمہ جہت ادبی شخصیت تھے ان کی تصانیف کا دائرہ ہر صنف ادب تک پھیلا ہوا ہے۔ ان کے شعری مجموعوں میں دھڑکنیں‘ رم جھم‘ جلال و جمال‘ شعلہ گل‘ دشت وفا‘ محیط‘ دوام، لوح خاک‘جمال اور ارض وسما، افسانوی مجموعوں میں چوپال‘ بگولے‘ طلوع و غروب‘ آنچل‘ آبلے‘ آس پاس‘ درودیوار‘ سناٹا‘ بازار حیات‘ برگ حنا‘ سیلاب و گرداب،گھر سے گھر تک‘ کپاس کا پھول‘ نیلا پتھراور کوہ پیما‘ تنقیدی مضامین کے مجموعوں میں تہذیب و فن،پس الفاظ اور معنی کی تلاش اور خاکوں کے دو مجموعے میرے ہم سفراور میرے ہم قدم شامل ہیں۔
احمد ندیم قاسمی کا شمار انجمن ترقی پسند مصنّفین کے بانیوں میں ہوتا تھا۔ انہوں نے اس جماعت کی وابستگی کے حوالے سے کئی مرتبہ قید و بند کی صعوبت بھی برداشت کی۔ وہ پھول‘ تہذیب نسواں‘ ادب لطیف‘ نقوش‘ سویرا‘ فنون اور روزنامہ امروز کے مدیر رہے اورمتعدد اخبارات میں کالم نگاری بھی کرتے رہے۔ 1974ء سے اپنی وفات تک مجلس ترقی ادب کے ناظم کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے۔ حکومت پاکستان نے انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی ‘ ستارہ امتیاز اور نشان امتیاز سے نوازا تھا۔ پاکستان رائٹرز گلڈ نے انہیں تین مرتبہ آدم جی ادبی انعام عطا کیا تھا۔ بزم فروغ اردو ادب قطر نے انہیں اپنے ایوارڈ سے نوازا تھا اور اکادمی ادبیات پاکستان نے انہیں 1997ء کا کمال فن ایوارڈ اور2007ء میں شائع ہونے والے بہترین شعری مجموعے کا علامہ محمد اقبال ایوارڈ عطا کیا تھا۔انہیں پنجاب کا پریم چند بھی کہا جاتا تھا۔
احمد ندیم قاسمی لاہور میں ملتان روڈ پر ملت پارک کے نزدیک شیخ المشائخ قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
ان کا ایک شعر ملاحظہ ہو:
کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جائوں گا
میں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جائوں گا
------------------------------------------------------------------------------------------
احمد ندیم قاسمی کے یادگاری ڈاک ٹکٹ کا اجرأ
* 10جولائی 2009ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے پاکستان کے معروف شاعر اور افسانہ نگار جناب احمد ندیم قاسمی کی تیسری برسی کے موقع پر ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا جس پراحمد ندیم قاسمی کا ایک خوب صورت پورٹریٹ شائع کیا گیا تھا۔ پانچ روپیہ مالیت کا یہ ڈاک ٹکٹ فیضی امیر صدیقی نے ڈیزائن کیا تھااوراس پر انگریزی میں
3RD DEATH ANNIVERSARY OF AHMAD NADEEM QASMI 1916-2006
کے الفاظ تحریر تھے۔
------------------------------------------------------------------------------------------
ماسٹر افضال حسین کی وفات
٭10جولائی 1987ء کو پاکستان کا پہلا پرچم تیار کرنے والے خیاط ماسٹر افضال حسین کراچی میں وفات پاگئے۔
ماسٹر افضال حسین 1907ء میں بلند شہر میں پیدا ہوئے تھے بعدازاں وہ دہلی منتقل ہوئے جہاں انہوں نے اپنے بھائی الطاف حسین کے ساتھ حسین برادرز کے نام سے خیاطی کی دکان کھول لی۔ اپنے علاقے کے مسلم لیگ کے سرگرم کارکن ڈاکٹر عبدالغنی قریشی کے مشورے پر وہ مسلم لیگ کی تنظیم نیشنل گارڈ میں شریک ہوگئے۔ جون 1947ء میں ان کے بھائی الطاف حسین نے انہیں آکر کہاکہ ہمیں پاکستان کا پہلا پرچم سینا ہے، چنانچہ ماسٹر افضال حسین نے پیمائش اور رنگوں کے تناسب سے کپڑے کی تراش خراش کرکے الطاف حسین کو دیا جسے انہوں نے سی کر مسلم لیگ کے دفتر میں پہنچا دیا۔ اتفاق سے اسی وقت ایک انگریز فوٹو گرافر نے ان کی تصویر کھینچ لی جو بعد میں لائف میگزین میں چھپی۔ ماسٹر افضال حسین اور الطاف حسین کو اس پرچم کی سلائی کا معاوضہ بھی ملا تھا مگر وہ انہوں نے مسلم لیگ کے فنڈ میں دے دیا۔ ماسٹر افضال حسین کراچی میں نیوکراچی کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔ ۔