آغا خان سوم کی وفات
٭11جولائی1957ء مسلمانوں کے اسماعیلی فرقے کے موروثی پیشوا اور تحریک پاکستان کے ایک عظیم رہنما ہزرائل ہائی نس سرسلطان محمد شاہ آغا خان سوم نے وفات پائی۔انہیں ان کی وصیت کے مطابق مصر میں اسوان کے مقام پر دفن کیا گیا۔
سر آغا خان2نومبر1877ء کو کراچی میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ محض ایک مذہبی رہنما ہی نہیں تھے بلکہ اپنے زمانے کے ایک عظیم سیاستدان اور مدبر بھی تھے۔ انہوں نے نہ صرف یہ کہ برصغیر پاک و ہند کی خوشحالی کے لئے عظیم خدمات انجام دیں بلکہ بین الاقوامی سیاست میں بھی اہم کردار ادا کیا۔وہ آل انڈیا مسلم لیگ کے بانیوں میں سے ایک تھے اور1907ء سے1913ء تک اس کی صدارت پر فائز رہے تھے۔ انہی کی کوششوں سے ایم اے او کالج علی گڑھ کو یونیورسٹی کا درجہ ملا اور وہ اس یونیورسٹی کے پروچانسلر بھی رہے۔1930ء میں جب لندن میں گول میز کانفرنسوں کا آغاز ہوا تو سر آغا خان نے وہاں بھی مسلمانان برصغیر کی نمائندگی کی۔1937ء میں انہیں لیگ آف نیشنز کی جنرل اسمبلی کا صدر بھی منتخب کیا گیا تھا
-----------------------------------------------------------------------------------
استاد سلامت علی خان کی وفات
٭11 جولائی 2001ء کو پاکستان کے نامور کلاسیکی موسیقار اور گلوکار استاد سلامت علی خان لاہور میں وفات پاگئے۔
استاد سلامت علی خان 12 دسمبر 1934ء کو شام چوراسی ضلع ہوشیارپور میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنے بڑے بھائی استاد نزاکت علی خان کے ساتھ اپنے والد استاد ولایت علی خان سے موسیقی کی تربیت حاصل کی اور نہایت کم عمری میں ہندوستان گیر شہرت حاصل کی۔ قیام پاکستان کے بعد انہوں نے پہلے ملتان اور پھر لاہو رمیں اقامت اختیار کی۔
استاد سلامت علی کا گھرانہ دھرپد گائیکی کے لئے مشہور تھا لیکن استاد سلامت علی خان نے اپنے ایک بزرگ میاں کریم بخش مجذوب سے خیال گائیکی میں بھی اختصاص حاصل کیا۔ 1983ء میں استاد نزاکت علی خان کی وفات کے بعد استاد سلامت علی خان کی گائیکی کا سلسلہ خاصا کم ہوگیا تھا۔ حکومت پاکستان نے انہیں دو مرتبہ صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی اور ستارۂ امتیاز عطا کیا تھا۔ استاد سلامت علی خان لاہور میں قبرستان اسکیم موڑ، ملتان روڈ میں آسودۂ خاک ہیں
------------------------------------------------------------------------------------------
قتیل شفائی کی وفات
٭ اردو کے ممتاز شاعر قتیل شفائی کا اصل نام اورنگزیب خان تھا اور وہ 24 دسمبر 1919ء کو ہری پور ہزارہ میں پیدا ہوئے تھے۔
قتیل شفائی نے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ہائی اسکول ہری پور میں حاصل کی تھی۔ بعدازاں وہ راولپنڈی میں قیام پذیر ہوئے جہاں انہوں نے حکیم محمد یحییٰ شفا سے اپنے کلام پر اصلاح لینا شروع کی اور انہی کی نسبت سے خود کو شفائی لکھنا شروع کیا۔
قیام پاکستان سے کچھ عرصہ قبل وہ لاہور منتقل ہوگئے جہاں احمد ندیم قاسمی کی قربت نے ان کی علمی اور ادبی آبیاری کی۔ 1948ء میں ریلیز ہونے والی پاکستان کی پہلی فلم ’’تیری یاد‘‘ کی نغمہ نگاری سے ان کے فلمی سفر کا آغاز ہوا۔ جس کے بعد انہوں نے مجموعی طور پر 201 فلموں میں 900 سے زائد گیت تحریر کئے۔ وہ پاکستان کے واحد فلمی نغمہ نگار تھے جنہیں بھارتی فلموں کے لئے نغمہ نگاری کا اعزاز بھی حاصل ہوا تھا۔ انہوں نے کئی فلمیں بھی بنائیں جن میں پشتو فلم عجب خان آفریدی کے علاوہ ہندکو زبان میں بنائی جانے والی پہلی فلم ’’قصہ خوانی‘‘ شامل تھی۔ انہوں نے اردو میں بھی ایک فلم ’’اک لڑکی میرے گائوں کی‘‘ بنانی شروع کی تھی مگر یہ فلم مکمل نہ ہوسکی تھی۔ فلمی مصروفیات کے ساتھ ساتھ قتیل شفائی کا ادبی سفر بھی جاری رہا اور وہ اردو کے ممتاز شاعروں میں شمار ہوئے۔ ان کے شعری مجموعوں میں ہریالی، گجر، جل ترنگ، روزن، گھنگرو، جھومر، مطربہ، چھتنار، پیراہن، برگد، آموختہ، گفتگو، آوازوں کے سائے اور سمندر میں سیڑھی کے نام شامل ہیں۔ ان کی آپ بیتی ان کی وفات کے بعد ’’گھنگرو ٹوٹ گئے‘‘ کے نام سے اشاعت پذیر ہوئی۔ حکومت پاکستان نے انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی کا اعزاز عطا کیا تھا۔
٭11 جولائی 2001ء کو قتیل شفائی لاہور میں وفات پاگئے اور علامہ اقبال ٹائون کے کریم بلاک کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے