14.10.2026, 10:44pm , بدھ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
شخصیات، انٹرویوز » شمس جیلانی۔وینکور
 

روشنی حرا سے (109)۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
12.07.2016, 01:01am , منگل (GMT+1)

از۔۔شمس جیلانی

گزشتہ قسط میں ہم یہا ں تک پہو نچے تھے کہ جب بنو خزا عہ کا وفد حضو رصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شکا یت کر کے واپس جا رہا تھا کہ ابو سفیا ن اسے راستے میں ملا ،وہ اس ارا دے سے مدینہ آرہا تھا کہ کسی طر ح معا ہدہ صلح کی تجدید کرا لے ،اور تا دیبی کا روا ئی سے بچ جا ئے ۔دوسری طرف اللہ نے اپنے نبی (ص)  کواس سا زش سے خبر دار کر دیا تھا۔  انہوں (ص) نے پہلے ہی اپنے صحا بہ کرا م  کو اس کی آمد سے با خبر کر دیا ۔ ایک دن حضور (ص) اپنے صحا بہ  کرام میں تشریف فر ما تھے کہ فر ما یا کہ عنقریب ابو سفیا ن معا ہدہ صلح کی تجدید کے لیئے آنے والا ہے ۔اس کے بعد آپ خامو ش ہو گئے۔ اور مز ا ج شنا سان ِ رسو ل  (ص) سن کر سمجھ گئے کہ حضو ر (ص) کیا فر ما نا چاہتے ہیں ۔لہذا اس معا ملہ میں سب محتا ط ہو گئے ۔ابن ِ ہشا م نے لکھا ہے کہ اس کی خو د جرا ءت حضو ر (ص) کے پا س جا نے کی نہیں ہو ئی ،تو وہ پہلے اپنی صاحبزادی ام المو نین اُم ِ حبیبہ (رض) کے پاس گیا ۔لیکن جب ابو سفیان نے رسو ل (ص) اللہ کے بستر پر بیٹھنے کا ارادہ کیا تو انہو ں نے روک دیا اور فر ما یا کہ یہ بستر رسو ل (ص) اللہ کا ہے، اور آپ کا فر ہو نے کی وجہ سے نجس ہیں اس لیئے مجھے یہ پسند نہیں ہے ،کہ آپ اس بستر پر بیٹھیں ۔اس پر وہ نارا ض ہو گیا اور یہ کہہ کر چلا گیا کہ بیٹی ! خدا کی قسم مجھ سے جدا ہو نے کے بعد تجھ میں شر پیدا ہو گیا ہے ۔اور یہ وہاں سے بے نیل و مرام واپس چلا آیا۔ اس واقعہ کو دو سرے مور خین نے بھی بیا ن کیا ہے ۔ لیکن ابن ِ ہشام (رح) نے لکھا ہے کہ وہ شا ید ان سے سفا رش کے لیے کہتا ۔مگر ان  کارویہ دیکھ کر وہ بغیر کچھ کہے چلا آیا۔ پھر وہ خو د ہی ہمت کر کے حضور (ص) کی خد مت اقدس میں حا ضر ہو گیااور تجدید ِمعا ہدہ کی بات کی۔ مگر حضور (ص) نے کو ئی جوا ب نہیں دیا۔پھر وہ حضرت ابوبکر (رض) کے پاس پہنچا تو حضرت ابو بکر (رض) نے حتمی طو ر پر جوا ب دیا کہ یہ کا م میں نہیں کر ونگا ۔ پھر حضرت عمر (رض)بن خطا ب کے پا س گیا اور یہ ہی در خواست ان سے کی مگرانہو ں نے جواب میں فر مایا کہ ”میں اور تیری رسول (رض) اللہ سے سفا رش کرو نگا ؟ اگر مجھے اذن مل جا ئے تو میں تمہارے خلا ف خود جہا د کروں گا “۔  اس کے بعد وہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے پاس گیا مگر کچھ مورخین کے مطا بق وہ گھر پر مو جو د نہیں تھے ،اور کچھ نے لکھا ہے کہ وہ بھی مو جو د تھے اور حضرت ِ فا طمہ  (س)اور حسین (ع) بھی تشریف فر ما تھے ۔اس نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ  سے عرض کیا کہ تم مجھ پر ہمیشہ مہربا نی کا بر تا ؤ کر تے رہے ہو، لہذا تم بیچ میں پڑ کر ہما ری صلح کرا دو ۔ حضرت علی نے فرمایا ”ابو سفیا ن تیرا برا ہو ! خدا کی قسم ! رسول (ص) اللہ نے ایک با ت پر پختہ ارادہ کر لیا ہے۔ میں تو اس مسئلہ پر کو ئی با ت حضور (ص) سے نہیں کر سکتا۔ پھر اس نے یہ ہی در خواست حضرت ِ فا طمہ (س) سے کی مگر انہو ں نے بھی جواب نفی میں دیا ۔تو اس نے حضرت حسین (ع) کی طرف دیکھ کر کہا کہ کیا تم نہیں چاہو گی کہ تمہا را یہ بیٹا عرب کا سردار کہلا ئے ؟ تم اس سے کہو کہ یہ اپنے نا نا (ص) سے جا کر سفا رش کر ے، اور صلح کرا دے ۔تو انہو ں نے جواب دیا کہ یہ تو ابھی بچہ ہے ۔اور اس قابل کہاں کہ لو گو ں میں صلح صفا ئی کرا سکے ۔اس پر وہ دوبارہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے مخا طب ہو ا اور کہنے لگا کہ مجھے لگتا ہے کہ میرے معا ملا ت بہت بگڑ گئے ہیں۔ لہذا تم مجھے مخلصا نہ مشورہ دو کہ میں کیا کرو ں ؟ انہو ں نے جواب دیا کہ خدا کی قسم !میں تمہا رے لیے کچھ نہیں کر سکتا جس سے تمہیں فا ئدہ پہنچ سکے ۔لیکن تم بنو کنا نہ کےسردار ہو اس لیئے مسجد کے سا منے جاکر معا ہدے کی تجدید کا (یک طرفہ ) اعلان کر دو اور پھر مکہ کا راستہ لو ۔ابو سفیان نے پو چھا کہ کیا اس سے کو ئی فا ئدہ پہنچے گا ؟ علی کرماللہ وجہہ نے فر ما یا کہ خدا کی قسم نہیں ۔لیکن اس کے سوا کو ئی دوسری صورت بھی نہیں ہے ۔لہذا ابو سفیا ن مسجد نبوی (ص) کے سا منے گیا اور یہ اعلان کر کے مکہ روانہ ہو گیا۔جب وہ قریش کے پا س پہنچا اور سارا معا ملہ بیا ن کیا تو انہو ں نے اس سے کہا کہ تو تو سب کچھ ہا ر آیا ہے اور مکہ میں اس خبر سے عام ما یو سی پھیل گئی ۔                                      
 فتح مکہ :
ابن ِ اسحا ق نے لکھا ہے کہ اسی دوران حضرت جبر ئیل  آکر حضو ر (ص) کو بنی کعب پر قبیلہ قریش کے مظالم کی خبر دے گئے تھے ۔یہاں یہ نکتہ غو ر طلب ہے کہ جبر ئیل جب بھی تشریف لا تے تھے جب انکو کو ئی خبر یا قر آن پا ک کا کو ئی حصہ ، کو ئی سورت ،یا کو ئی آیت پہنچا نی ہو تی تھی ۔لہذا اغلب ہے کہ معا ہدے کی تنسیخ کے با رے میں آیتیں اسی وقت نا زل ہو گئیں ہو ں۔لیکن حضو ر (ص) نے حسب روایت کسی کولکھنے یا حفظ کر نے کو نہیں فرمایا۔ کیو نکہ یہ جنگی حکمت عملی کا تقا ضہ تھا کہ حضو ر (ص) اس فیصلے کا کسی کو علم نہ ہو نے دیں ۔ لہذا حضو ر (ص) نے تیا ری کا حکم تو صا در فر ما دیا ۔مگر یہ نہیں بتا یا کہ کہا ں کا ارادہ ہے حتیٰ کہ اپنے سب سے قریبی سا تھیو ں کو بھی نہیں ۔جیسا کہ اس روایت سے ظا ہر ہے کہ حضور (ص) نے سب سے پہلے یہ حکم اپنے اہل ِ خا نہ کو دیاکہ وہ تیا ری شروع کر یں ۔حضرت عا ئشہ حضور (ص)کا رخت سفر تیا ر کر رہی تھیں کہ اسی دو ران ان کے والد ِ محترم حضرت ابو بکر (رض)  تشریف لے آئے، انہو ں نے ان سے پو چھا کہ کیاحضو ر (ص) نے تم کو تیا ری کا حکم دیا فر ما یا ہاں! پھر پو چھا کہ کہا ں کی تیا ری ہے۔ تو انہو ں نے لا علمی کا اظہا ر کیا۔ مگر مزا ج شنا س تھیں فر ما یا کہ آپ بھی گھر تشریف لے جا ئیے اور تیا ری شروع کرد یں۔ اس لئے کہ انہیں اس با ت کا علم تھا کہ کو ئی بہت ہی اہم مہم در پیش ہے۔ لہذا حضو ر (ص) اپنے اس یارِ ِ غا ر کے بغیر تشریف نہیں لے جا ئیں گے ۔اس کے بعد حضور (ص) نے اعلان عا م کا ارادہ فر ما یا اور ان سے کہا کہ مکہ کا قصد ہے اور وہ بھی خو ب تیا ری کرلیں۔ مگر سا تھ ہی یہ جملے بھی اپنی زبا ن ِ مبارک سے ادا فر ما ئے ”اللھم ! خذ العیون و الا خبار عن قریش حتیٰ نبغتھا فی بلاد ھا“۔ ترجمعہ با محاورہ: ”اے اللہ ! قریش کی آنکھوں اور کا نو ں سے اس خبر کواس وقت تک محفو ط رکھ جب تک ہم ان کی سر زمین پر اچا نک نہ پہنچ جائیں“ ابن ِاسحاق (رح) نے حضرت محمد جعفر  بن زبیر (رض) اور دیگر بہت سے حوالہ جا ت کے سا تھ تحریر کیا ہے کہ رسول (ص) اللہ نے جب مکہ کا قصد فر ما یا تو حضرت حا طب (رض) بن ابی بلتعہ نے ایک خط قریش کو لکھا ،جس میں انہو ں نے قریش کو مطلع کیا تھا کہ حضو ر (ص) نے مکہ کا قصد فر ما لیا ہے ۔یہ خط لکھ کر حضرت حا طب (رض) نے ایک عو رت کو دیا ۔جس کے با رے میں اختلا ف ہے کہ وہ کو ن تھی ایک گرو ہِ مور خین کی رائے ہے کہ وہ سارا نامی لو نڈی تھی جو کہ خا ندان عبدالمطلب میں سے کسی کی ملکیت تھی۔ دوسرے گروپ نے لکھا ہے کہ وہ قبیلہ مزینہ کی کو ئی آزاد خا تو ن تھیں۔ بہر حا ل اس واقع پر سب متفق ہیں کہ اس کو حضرت حا طب (رض) نے کچھ اجرت پر تیا ر کیا تھا کہ وہ یہ خط قریش کو پہنچا دے ۔درایں اثنا ءحضور (ص) کو اللہ  سبحانہ تعا لیٰ نے حضرت حا طب (رض) کی اس کاروائی پر با خبر فر ما دیااور حضور (ص) نے حضرت علی اور زبیر (رض) کو اس کے تعاقب میں روانہ فرما یا۔  یہ لو گ بہت ہی تیزی سے روانہ ہو ئے اور اس کو مدینہ سے با رہ میل دور خلیقہ بنی ابی احمد میں جا لیا ۔اونٹ سے اس کو اتارا گیا اور ہر چیز کی تلا شی لی گئی ، سوائے اس کے بدن کے ۔اس سے پو چھ گچھ کر تے رہے مگر اس نے کہا کہ آپ کو کو ئی غلط فہمی ہوئی ہے ۔اس پر انہو ں نے تنگ آکر کہا کہ اب ہم تمہا ری جسمانی تلا شی لیں گے۔ بہتر ہے کہ تم خو د ہی خط دیدو ۔تب وہ گھبرا گئی اور کہنے لگی اچھا آپ ایک طرف ہٹ جا ئیے تو میں نکا ل کر دیتی ہوں۔لہذا یہ لو گ ہٹ گئے تو اس نے اپنے سر کے با لوںکی مینڈھیو ں میں سے نکا ل کر خط ان کے حوالے کر دیا۔یہ خط حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اپنے پا س رکھا اور حضور (ص) کی خد مت اقدس میں لا کر پیش کر دیا۔اس پر آپ (ص) نے حضرت حا طب  کو طلب فر ما یا اور پوچھا: ”یاحاطب! ما حملک علیٰ ھذا“۔اردو ترجمہ: ”اے حا طب تمہیں کس چیز نے اس پر ابھا را؟“۔  حاطب نے جواب دیا یا رسو ل (ص) اللہ آپ جا نتے ہیں سوائے میرے ،میرا پو را خا ندان وہا ں ہے اس لئے میں نے چا ہا کہ قریش کے اوپر یہ احسا ن کر دوں، تا کہ ان کا رویہ میرے بچوں کے سا تھ بہتر رہے۔  ورنہ میری وفاداری اور ایما ن میں کو ئی تبدیلی نہیں واقع ہو ئی ہے ۔اس پر حضر ت عمر (رض) بر ہم ہو گئے اور حضو ر (ص) سے در خوا ست کی کہ مجھے اجا زت مر حمت فر ما ئیے کہ میں اس کی گر دن اڑا دوں ۔اس شخص نے منا فقت کی ہے۔ لیکن حضور  (ص)نے فر ما یا کہ عمر (رض) تم اس سے واقف نہیں ہو کہ اللہ سبحانہ تعا لیٰ کی نظر ِ لطف و کرم اہل ِ بدر پر بہت زیا دہ ہے ۔پھر حضرت حا طب (رض) سے مخا طب ہو کر فر ما یا ”جو تمہا را دل چا ہے کرو میں  (ص)نے تمہیں معا ف کر دیا۔“  اللہ سبحانہ تعا لیٰ نے حضو ر (ص) کے اس فیصلے کے بعد اس سلسلہ میں سو رہ الممتحنہ (60) کی چھ آیا ت نازل فر ما ئیں۔ جن میں رہتی دنیا تک ان مسلما نو ں کے لیے بصیرت ہے جو غیرمسلمو ں ،افراد اور قوموں کو اپنا راز ظا ہر کر تے ہیں اور ان سے بھلا ئی کی امید رکھتے ہیں۔   باقی آئندہ)                              





:دیگر مضامین
(03.07.2016) روشنی حرا سے (108)۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(27.06.2016) روشنی حرا سے (107)۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(22.06.2016) ولادت حضرت امام حسن علیہ السلام ۔۔۔ شمس جیلانی
(18.06.2016) روشنی حرا (106)۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(11.06.2016) روشنی حراسے (105)۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(04.06.2016) ۔روشنی حرا سے (104)۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(27.05.2016) روشنی حرا سے (103)۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(21.05.2016) ۔روشنی حرا سے (102)۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(13.05.2016) روشنی حرا سے (101)۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(07.05.2016) روشنی حرا سے (100)۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(01.05.2016) روشنی حرا سے (99)۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(22.04.2016) ۔روشنی حراسے (98)۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(16.04.2016) روشنی حراسے (97)۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(09.04.2016) سیرتِ پاک ۔۔۔روشنی حراسے(96)۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(03.04.2016) سیرتِ پاک ۔۔۔روشنی حراسے(95)۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(25.03.2016) سیرتِ پاک ۔۔۔روشنی حرا سے (94)۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(19.03.2016) سیرتِ پاک ۔۔۔روشنی حرا سے (93)۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(13.03.2016) سیرتِ پاک حضورصلی اللہ علیہ وآلہ ۔۔۔روشنی حرا سے (92)۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(05.03.2016) سیرتِ پاک حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ۔۔۔روشنی حرا سے (91)۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(29.02.2016) سیرتِ پاک حضور صلی اللہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حرا سے (90)۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
شمس جیلانی۔وینکور  »
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں