14.10.2026, 07:40pm , بدھ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا
 

سریبرینیتسا کے قتل عام کو اکیس سال ہو گئے
12.07.2016, 08:03am , منگل (GMT+1)

ہزاروں کی تعداد میں افراد سریبرینیتسا کے مقام پر جمع ہوئے اور انہوں نے اکیس برس پہلے ہولوکاسٹ کے بعد یورپ میں ہونے والے بد ترین قتل عام کی یاد تازہ کی۔ حال ہی میں اس قتل عام کا شکار ایک سو ستائیس افراد کی لاشیں ملیں۔
 
سریبرینیتسا کے مقام پر ہلاک شدگان کے عزیز و اقارب نے آنسوؤں کے ساتھ ان افراد کو قبر میں اتارا جن کی لاشیں حال ہی میں دریافت کی گئی ہیں۔ انہیں قبرستان میں ان چھ ہزار تین سو تینتیس افراد کے پہلو میں دفنایا گیا جو سن انیس سو بانوے اور پچانوے کے دوران مشرقی بوسنیا میں ہونے والی جنگ میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ اس برس دفنائے گئے افراد میں کم عمر ترین فرد کی عمر چودہ برس جب کہ معمر ترین کی ستّتر برس تھی۔

فاطمہ ڈؤریک نے پیر کے روز اپنے باون سالہ شوہر کو دفنایا۔ اپنے خاوند کو آخری بار انہوں نے جنگ کے دوران اس وقت دیکھا تھا جب سربوں نے بوسنیا کے مشرقی حصے پر دھاوا بول دیا تھا۔
اکیس برس قبل گیارہ جولائی کو سریبرینیتسا میں مسلمانوں کے قتل عام میں ہزاروں لڑکے اور مرد لقمہ اجل بنے تھے۔ اس واقعے میں بوسنیا کی سرب نسل سے تعلق رکھنے والی ملیشیا نے ہزاروں مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتارا تھا۔
مسلمانوں کی محدود آبادی 11 جولائی 1995ء تک اقوام متحدہ کے تحفظ میں تھی۔ تاہم اس کے بعد راڈکو ملاڈچ کی سربراہی میں سربیائی فورسز اس علاقے پر چڑھ دوڑی تھیں۔ ان میں سریبرینیتسا کا قتل عام بھی شامل ہے۔
ملاڈچ کے فوجیوں نے ہلکے اسلحے سے لیس ڈچ امن فوجیوں کو اس محفوظ علاقے سے نکال دیا تھا جہاں قریبی علاقوں کے مسلمان تحفظ حاصل کرنے کے لیے جمع ہوئے تھے۔ اس کے بعد کے دنوں کے دوران قریب 8000 مسلمان مردوں اور لڑکوں کو قتل کر کے ان کی لاشیں اجتماعی قبروں میں دفن کر دی گئی تھیں۔ دو بین الاقوامی عدالتوں کی طرف سے اسے بوسنیائی مسلمانوں کی نسل کشی قرار دیا گیا ہے۔
چند برس قبل سن انیس سو پچانوے میں ہونے والے سریبرینیتسا میں قتل ہونے والوں کے لواحقین نے ڈچ حکومت کے خلاف ایک مقدمہ دائر کیا تھا۔ اس مقدمے میں ہالینڈ سے تعلق رکھنے والے امن فوجیوں پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ سرب فوجیوں کے ہاتھوں قتل کیے جانے والے مسلمانوں کی حفاظت میں ناکام رہے تھے۔ ان بوسنیائی مسلمانوں کو بوسنیا کی جنگ ختم ہونے سے پہلے چند ماہ کے دوران قتل کیا گیا تھا۔

:دیگر مضامین
(11.07.2016) برلن میں پر تشدد مظاہرے، ایک سو تئیس پولیس اہل کار زخمی
(11.07.2016) برطانیہ کے اینڈی مرے نے دوسری مرتبہ ومبلڈن چیمپئن شپ جیت لی ۔
(10.07.2016) عبدالستار ایدھی کے ایصال ثواب کے لیئے عالمی اخبار کی قرآن خوانی
(10.07.2016) شمالی کوریا کی جانب سے آب دوز سے بیلیسٹک میزائل کا تجربہ
(08.07.2016) اٹلی: نسل پرستانہ حملے میں نائجیریا کا ایک مہاجر ہلاک
(07.07.2016) تائیوان کے نرسنگ ہوم میں آگ لگنے سے 6 ہلاک، 28 زخمی
(06.07.2016) آسٹریا میں صدارتی الیکشن دوبارہ دو اکتوبر کو ہوں گے
(05.07.2016) بریگزٹ کے حامی سیاستدان نائجل فاراج بھی پارٹی قیادت سے دستبردار
(04.07.2016) بریگزٹ نے قوم پرستوں میں متحدہ آئر لینڈ کی سوچ پیدا کر دی
(03.07.2016) جرمنی میں بھی استنبول ایئر پورٹ جیسے حملوں کا خطرہ موجود ہے
(02.07.2016) اسپین میں ’شدت پسندی کو فروغ دینے والے‘ تین پاکستانی بھائی گرفتار
(01.07.2016) کروشیا نے ہمسایہ ملک سربیا سے متصل سرحد پر رکاوٹیں نصب کر دی ہیں
(30.06.2016) روسی صدرکی اپنے ترک ہم منصب رجب طیب ایردوآن کے ساتھ فون پر گفتگو
(29.06.2016) جرمن کابینہ نے خفیہ ایجنسی پر زیادہ کنٹرول پر اتفاق کر لیا
(28.06.2016) زیادہ گہری ’سیاسی یونین‘ یورپی یونین پر مشرقی رکن ریاستوں کا اعتراض
(27.06.2016) اسکاٹ لینڈ یورپی یونین میں رہنا چاہتا ہے، فرسٹ منسٹر
(27.06.2016) پوپ فرانسس نے اپنا آرمینیا کا دورہ مکمل کر لیا
(26.06.2016) برطانوی ریفرنڈم کے بعد یورپی یونین کے بانی ممالک کا برلن میں اجلاس ہوا 
(25.06.2016) یورپی یونین سے مزید ملک نہ نکل جائیں، جرمنی فکر مند
(24.06.2016) کولمبیا کی حکومت اور فارک باغی فائر بندی پر متفق



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں