پاکستان کا 200 واں ٹیسٹ کرکٹر
٭13 جولائی2010ء کو جب لارڈز کے میدان میں پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان ٹیسٹ میچ کا آغاز ہوا تو اس ٹیسٹ میں پاکستان کے دو کھلاڑیوں اظہر علی اور عمر امین نے بھی ٹیسٹ ڈیبیو کیا۔ عمر امین پاکستان کی جانب سے ٹیسٹ کھیلنے والے 200 ویں کھلاڑی تھے۔ وہ 16 اکتوبر 1989ء کو راولپنڈی میں پیدا ہوئے تھے اور اپنا پہلا ٹیسٹ کھیلتے وقت ان کی عمر 20 سال 334 دن تھی۔
یہاں اس بات کا ذکر بے محل نہ ہوگا کہ ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کی جانب سے نمائندگی کرنے والے پہلے کھلاڑی (بہ اعتبار حروف تہجی) عبدالحفیظ کاردار تھے جبکہ100ویں کھلاڑی محسن کمال تھے جنہوں نے یہ اعزاز 19 مارچ 1984ء کو انگلستان کے خلاف لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں حاصل کیا تھا۔
------------------------------------------------------------------------------------------
ڈاکٹر شہید اللہ کی وفات
٭13 جولائی 1969ء کو پاکستان کے نامور ماہر لسانیات ڈاکٹر شہید اللہ ڈھاکا میں وفات پاگئے اور اسی شام انہیں ڈھاکا یونیورسٹی سائنس کیمپس کے احاطے میں سپرد خاک کردیا گیا۔
ڈاکٹر شہید اللہ 10 جولائی 1885ء کو چوبیس پرگند کے مقام پر پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے کلکتہ سٹی کالج اور کلکتہ یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور 1912ء میں کلکتہ یونیورسٹی سے تقابلی فلسفہ میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ بعد ازاں انہوں نے پیرس یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کیا اور 1920ء میں ڈھاکا یونیورسٹی کے شعبہ بنگالی سے وابستگی اختیار کی۔ اس کے بعد وہ کئی اور تعلیمی اور علمی اداروں سے وابستہ رہے۔ وہ پاکستان میں ایشیاٹک سوسائٹی کے بانی تھے اور تین مرتبہ اس کے صدر منتخب ہوئے۔
ڈاکٹر شہید اللہ بنگالی کے علاوہ عربی‘فارسی اور سنسکرت پر عبور رکھتے تھے اور بنگالی مسلمانوں کے پہلے ماہر لسانیات تھے۔ انہوں نے علامہ اقبال کے شکوہ‘ جواب شکوہ کو بنگالی زبان میں منتقل کیا تھا۔