برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے اپنے استعفے کے بعد وزیر داخلہ تھریسا مے کو اپنا جانشین مقرر کیا ہے اور وہ آج وزیر اعظم کے عہدے کا حلف اٹھائیں گی۔
برطانیہ کے عوام نے گزشتہ ماہ ریفرنڈم میں یورپی یونین سے علیحدگی کا فیصلہ دیا تو وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے استعفے کا اعلان کر دیا تھا۔
اس کے بعد حکمران جماعت کنزرویٹو پارٹی کی قیادت اور وزارت ا عظمیٰ کے لیے کئی لو گوں کے نام لیے جانے لگے تاہم ڈیوڈ کیمرون نے اپنا جانشین برطانیہ کی وزیر داخلہتھریسا مے کو نامزد کیا ہے۔
یکم اکتوبر 1956 کو پیدا ہونے والی تھریسا 1997 میں پہلی بار میڈن ہیڈ کے حلقے سے رکنِ پارلیمنٹ بنیں۔ وہ 2002 میں کنزرویٹو پارٹی کی پہلی خاتون چیئرپرسن منتخب ہوئیں۔
میں وزیر داخلہ بنیں تو برطانوی تاریخ میں اس عہدے پر فائز رہنے کا نیا ریکارڈ قائم کر دیا۔
یورپی یونین سے برطانیہ کے الگ ہونے کے عوامی فیصلے پرلی تھریسا مے کا کہنا ہے کہ اب یورپی یونین میں رہنے کی کوئی کوشش نہیں ہونی چاہیے اور نہ ہی کوئی دوسرا ریفرنڈم ہوگا۔
تھریسا مے اکتوبر 2010، نومبر 2011 اور پھر موجود دور حکومت میں بھی پاکستان کے سرکاری دورے کر چکی ہیں۔
تھریسا مے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے آپریشن ضرب کی معترف ہیں اور پاکستان کی قربانیوں کو خراج تحسین بھی پیش کرتی رہتی ہیں۔