یورپی یونین نے سیاسی پناہ کے اپنے قوانین میں نئی اصلاحات کا فیصلہ کیا ہے جن کا مقصد یورپ کا رخ کرنے والے تارکین وطن کو ان کی مرضی کے مطابق مختلف یورپی ممالک کا رخ کرنے سے روکنا ہے
وز ایجنسی اے ایف پی کی بدھ تیرہ جولائی کے روز برسلز سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق یورپی یونین کے رکن ممالک میں سیاسی پناہ کے یکساں قوانین نہ ہونے کے باعث اب تک اٹھائیس رکنی یونین میں داخل ہونے والے تارکین وطن زیادہ تر اپنی پسند کے ممالک کا رخ کرتے ہیں۔ یہ بات اس بلاک میں یکساں قوانین کی عدم موجودگی یونین کے رکن ممالک کے مابین اکثر تناؤ کا باعث بنتی ہے۔
یورپی یونین کے مہاجرین سے متعلقہ امور کے نگران کمشنر دیمیتریس آوراموپولوس نے برسلز میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’ہم اپنی پالیسیوں میں اصلاحات لانا چاہتے ہیں۔ سیاسی پناہ کے یورپی قوانین میں نئی تبدیلیوں کا مقصد صرف کم از کم مطلوبہ معیارات ہی کو یقینی بنانا نہیں ہے بلکہ ان کا مقصد سیاسی پناہ کے موجودہ ’بکھرے ہوئے‘ قوانین کو یکساں، مؤثر اور منصفانہ بنانا ہے۔‘‘
دیمیتریس آوراموپولوس کے مطابق قوانین میں مجوزہ تبدیلیوں کا مقصد سیاسی پناہ کی تلاش میں یورپ کا رخ کرنے والے تارکین وطن کو قانونی تحفظ اور نابالغ پناہ گزینوں کو یقینی تحفظ کی فراہمی کے علاوہ یورپ بھر میں ایسے عمومی معیارات کا تعین ہے جن کے ذریعے یونین کا ہر رکن ملک پناہ گزینوں کی میزبانی کرنے اور انہیں اپنے ہاں پناہ دینے کا یکساں طور پر پابند ہو گا۔
نئی قانونی تبدیلیوں کو منظور کرنے کے لیے یونین کے رکن ممالک اور یورپی پارلیمان میں بحث کی جائے گی اور منظوری کے بعد یہ قوانین نافذ العمل ہو جائیں گے۔ نئی اصلاحات میں یونین کے رکن ممالک سے یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ وہ تارکین وطن کی سیاسی پناہ کی درخواستیں منظور ہونے کے چھ ماہ کے بعد انہیں روزگار کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے بھی اقدامات کریں۔
علاوہ ازیں آئندہ تارکین وطن کے لیے یہ بھی لازمی ہو گا کہ وہ اسی یورپی ملک میں قیام کریں، جہاں انہوں نے سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا رکھی ہوں گی۔ اس سے قبل رواں برس مئی کے مہینے میں بھی سیاسی پناہ کے یورپی قوانین میں تبدیلیاں کی گئی تھیں، جن میں تارکین وطن پر عائد یہ پابندی اٹھا لی گئی تھی کہ وہ صرف اسی ملک میں سیاسی پناہ کی درخواستیں دے سکتے ہیں، جہاں سے وہ یورپی یونین کی حدود میں داخل ہوئے ہوں۔
اس منصوبے کے تحت تارکین وطن کو یونان اور اٹلی جیسے ممالک سے نکال کر یونین کے دیگر رکن ممالک میں ’منصفانہ طور پر تقسیم‘ کرنا بھی شامل تھا، تاہم مشرقی یورپ سے کئی رکن ریاستوں نے تارکین وطن کو اپنی سرزمین پر پناہ دینے سے انکار کر دیا تھا۔