14.10.2026, 11:16am , بدھ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا
 

سیاسی پناہ کے یورپی قوانین میں نئی تبدیلیاں
14.07.2016, 04:10am , جعمرات (GMT+1)

یورپی یونین نے سیاسی پناہ کے اپنے قوانین میں نئی اصلاحات کا فیصلہ کیا ہے جن کا مقصد یورپ کا رخ کرنے والے تارکین وطن کو ان کی مرضی کے مطابق مختلف یورپی ممالک کا رخ کرنے سے روکنا ہے

وز ایجنسی اے ایف پی کی بدھ تیرہ جولائی کے روز برسلز سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق یورپی یونین کے رکن ممالک میں سیاسی پناہ کے یکساں قوانین نہ ہونے کے باعث اب تک اٹھائیس رکنی یونین میں داخل ہونے والے تارکین وطن زیادہ تر اپنی پسند کے ممالک کا رخ کرتے ہیں۔ یہ بات اس بلاک میں یکساں قوانین کی عدم موجودگی یونین کے رکن ممالک کے مابین اکثر تناؤ کا باعث بنتی ہے۔

یورپی یونین کے مہاجرین سے متعلقہ امور کے نگران کمشنر دیمیتریس آوراموپولوس نے برسلز میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’ہم اپنی پالیسیوں میں اصلاحات لانا چاہتے ہیں۔ سیاسی پناہ کے یورپی قوانین میں نئی تبدیلیوں کا مقصد صرف کم از کم مطلوبہ معیارات ہی کو یقینی بنانا نہیں ہے بلکہ ان کا مقصد سیاسی پناہ کے موجودہ ’بکھرے ہوئے‘ قوانین کو یکساں، مؤثر اور منصفانہ بنانا ہے۔‘‘

دیمیتریس آوراموپولوس کے مطابق قوانین میں مجوزہ تبدیلیوں کا مقصد سیاسی پناہ کی تلاش میں یورپ کا رخ کرنے والے تارکین وطن کو قانونی تحفظ اور نابالغ پناہ گزینوں کو یقینی تحفظ کی فراہمی کے علاوہ یورپ بھر میں ایسے عمومی معیارات کا تعین ہے جن کے ذریعے یونین کا ہر رکن ملک پناہ گزینوں کی میزبانی کرنے اور انہیں اپنے ہاں پناہ دینے کا یکساں طور پر پابند ہو گا۔
نئی قانونی تبدیلیوں کو منظور کرنے کے لیے یونین کے رکن ممالک اور یورپی پارلیمان میں بحث کی جائے گی اور منظوری کے بعد یہ قوانین نافذ العمل ہو جائیں گے۔ نئی اصلاحات میں یونین کے رکن ممالک سے یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ وہ تارکین وطن کی سیاسی پناہ کی درخواستیں منظور ہونے کے چھ ماہ کے بعد انہیں روزگار کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے بھی اقدامات کریں۔

علاوہ ازیں آئندہ تارکین وطن کے لیے یہ بھی لازمی ہو گا کہ وہ اسی یورپی ملک میں قیام کریں، جہاں انہوں نے سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا رکھی ہوں گی۔ اس سے قبل رواں برس مئی کے مہینے میں بھی سیاسی پناہ کے یورپی قوانین میں تبدیلیاں کی گئی تھیں، جن میں تارکین وطن پر عائد یہ پابندی اٹھا لی گئی تھی کہ وہ صرف اسی ملک میں سیاسی پناہ کی درخواستیں دے سکتے ہیں، جہاں سے وہ یورپی یونین کی حدود میں داخل ہوئے ہوں۔

اس منصوبے کے تحت تارکین وطن کو یونان اور اٹلی جیسے ممالک سے نکال کر یونین کے دیگر رکن ممالک میں ’منصفانہ طور پر تقسیم‘ کرنا بھی شامل تھا، تاہم مشرقی یورپ سے کئی رکن ریاستوں نے تارکین وطن کو اپنی سرزمین پر پناہ دینے سے انکار کر دیا تھا۔

:دیگر مضامین
(13.07.2016) اٹلی میں دو مسافر ٹرینیں آپس میں ٹکرانے کی وجہ سے 20 افراد ہلاک
(12.07.2016) سریبرینیتسا کے قتل عام کو اکیس سال ہو گئے
(11.07.2016) برلن میں پر تشدد مظاہرے، ایک سو تئیس پولیس اہل کار زخمی
(11.07.2016) برطانیہ کے اینڈی مرے نے دوسری مرتبہ ومبلڈن چیمپئن شپ جیت لی ۔
(10.07.2016) عبدالستار ایدھی کے ایصال ثواب کے لیئے عالمی اخبار کی قرآن خوانی
(10.07.2016) شمالی کوریا کی جانب سے آب دوز سے بیلیسٹک میزائل کا تجربہ
(08.07.2016) اٹلی: نسل پرستانہ حملے میں نائجیریا کا ایک مہاجر ہلاک
(07.07.2016) تائیوان کے نرسنگ ہوم میں آگ لگنے سے 6 ہلاک، 28 زخمی
(06.07.2016) آسٹریا میں صدارتی الیکشن دوبارہ دو اکتوبر کو ہوں گے
(05.07.2016) بریگزٹ کے حامی سیاستدان نائجل فاراج بھی پارٹی قیادت سے دستبردار
(04.07.2016) بریگزٹ نے قوم پرستوں میں متحدہ آئر لینڈ کی سوچ پیدا کر دی
(03.07.2016) جرمنی میں بھی استنبول ایئر پورٹ جیسے حملوں کا خطرہ موجود ہے
(02.07.2016) اسپین میں ’شدت پسندی کو فروغ دینے والے‘ تین پاکستانی بھائی گرفتار
(01.07.2016) کروشیا نے ہمسایہ ملک سربیا سے متصل سرحد پر رکاوٹیں نصب کر دی ہیں
(30.06.2016) روسی صدرکی اپنے ترک ہم منصب رجب طیب ایردوآن کے ساتھ فون پر گفتگو
(29.06.2016) جرمن کابینہ نے خفیہ ایجنسی پر زیادہ کنٹرول پر اتفاق کر لیا
(28.06.2016) زیادہ گہری ’سیاسی یونین‘ یورپی یونین پر مشرقی رکن ریاستوں کا اعتراض
(27.06.2016) اسکاٹ لینڈ یورپی یونین میں رہنا چاہتا ہے، فرسٹ منسٹر
(27.06.2016) پوپ فرانسس نے اپنا آرمینیا کا دورہ مکمل کر لیا
(26.06.2016) برطانوی ریفرنڈم کے بعد یورپی یونین کے بانی ممالک کا برلن میں اجلاس ہوا 



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں