تازہ ترین
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فرانس کے وزیر خارجہ جین مارک ایرولٹ نے بورس جانسن کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی ممالک سے تعلقات کے حوالے سے ان کی پشت دیوار کے ساتھ ہے۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق جین مارک ایرولٹ نے مقامی ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے برطانوی ہم منصب بورس جانسن نے حالیہ ریفرنڈم مہم میں اپنے عوام سے جھوٹ بولا، جس کے باعث وہ اب اپنے ملک کے دفاع میں دباؤ کا شکار ہوں گے
لندن کے سابق میئر اور برطانیہ کے نئے وزیر خارجہ بورس جانسن نے یورپی یونین سے انخلا کے لیے چلائی گئی مہم کی قیادت کی تھی لیکن نئی کابینہ میں تھریسا مے نے انکو وزیر خارجہ مقرر کیا ہے اور اس فیصلے پر کئی حلقوں سے سخت تنقید ہو رہی ہے
ان کا کہنا تھا کہ فرانس کو ایک ایسے پارٹنر سے مذاکرات کی ضرورت تھی جو معتبر اور قابل اعتماد ہو۔
لندن کے سابق میئر اور برطانیہ کے نئے وزیر خارجہ بورس جانسن نے یورپی یونین سے انخلا کے لیے چلائی گئی مہم کی قیادت کی تھی۔
ایرولٹ کا کہنا تھا کہ 'میں بورس جانسن سے کسی طور پریشان نہیں لیکن آپ ان کے انداز اور مہم کے دوران ان کے طریقہ کار کو جانتے ہیں، انھوں نے برطانوی عوام کے ساتھ بڑا جھوٹ بولا۔‘
بورس جانسن کے حوالے سے توقع کی جارہی تھی کہ وہ ریفرنڈم کے نتائج کے بعد کنزرویٹو پارٹی کی قیادت کے لیے مقابلہ کریں گے لیکن اہم ساتھیوں کی جانب سے حمایت واپس لینے پر وہ اس مقابلے سے دستبردار ہوئے۔
.............................
برطانیہ کی نئی وزیر اعظم تھریسا مے نے حکو متی معاملات سنبھال لیے ہیں اور وزیر اعظم کا عہدہ پر فائز ہونے کے گھنٹے بعد ہی انھوں نے بدھ کی شام اپنی کابینہ کے ارکان کے ناموں کا اعلان کردیا ہے۔
چھ برسوں سے برسر اقتدار ٹوری جماعت کی نئی رہنما وزیر اعظم تھریسا مے کی جانب آج کابینہ کی اہم ترین وزارتوں میں ردوبدل کا اعلان کیا گیا ہے۔
وزیر اعظم تھریسا مے نے کابینہ کو تشکیل دیا ہے اور پہلے دو اہم اعلانات کے مطابق وزیر خارجہ فلپ ہیمنڈ کو ملک کا وزیر خزانہ مقرر کیا گیا ہے، ان کی تقرری وزیر خزانہ جارج اوسبورن کی جگہ کی گئی ہے۔
وزیر خارجہ برطانیہ کی ہائی پروفائل تقرری ہےجس کے لیے تھیریسا مے نے لندن کے سابق میئر اور بریگزٹ کے چیف بورس جانسن کو وزارت خارجہ کا قلمدان سونپا گیا ہے۔
بورس جانسن نے ملک کے وزیر خارجہ فلپ ہیمنڈ کی جگہ لی ہے۔
کنزرویٹیو کے معروف سیاست دان بورس جانسن نے یورپی یونین کے ریفرینڈم کے لیے بریگزٹ یعنی یونین چھوڑنےکی مہم کی قیادت کی تھی اور بریگزٹ کی کامیابی کے باوجود انھوں نے ٹوری کے قائدانہ انتخاب میں حصہ نہیں لیا تھا۔
سابق وزیر دفاع لائم فوکس کو بین الاقوامی کاروبار کے لیے محکمہ کے سربراہ کے طور پر کابینہ میں شامل کیا گیا ہے۔
جبکہ ڈیوڈ ڈیوس کو بریگزٹ سیکریٹری مقرر کیا گیا ہے۔
وزارت داخلہ کا اہم ترین قلمدان سابق توانائی کی وزیر امبر رڈ کو سونپا گیا ہے جبکہ تھریسا مے وزیر اعظم بننے سے پہلے خود چھ برس تک اس عہدے پر خدمات انجام دے رہی تھیں۔
کہا جا رہا ہےکہ یہ برطانیہ کی تاریخ کا پہلا موقع ہےجب ملک کے دو اہم ترین دفاتر کی سربراہ خواتین ہوں گی۔
توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ خاتون وزیر اعظم کی جانب سے کیابینہ میں ان تبدیلیوں کا مقصد حکومت میں خواتین کو زیادہ کردار دینا ہے۔
وزارت عظمی کے عہدے سے سبکدوش ہونے والے ڈیوڈ کیمرون کی 22 رکنی کابینہ میں سات خواتین وزراء شامل تھیں۔
............................
سابق میئر لندن بورس جانسن وزیر خارجہ مقرر کر دیئے گئے
جارج آسبورن کی جگہ فلیپ ہیمنتھ نئے وزیر خزانہ مقرر
عنبر رود وزیر داخلہ
مائیکل فیلن بدستور وزیر دفاع
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
برطانیہ میں ڈیوڈ کیمرون نے وزیر اعظم کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ کیمرون چھ سال دو ماہ اور دو دن تک برطانیہ کے وزیر
اعظم رہے۔ ان کی نامزد کردہ جانشین اور چھ سال تک وزیر داخلہ رہنے والی تھریسا مے سے ملکہ برطانیہ نے وزارت عظمیٰ کا حلف لے لیا اور وہ مارگریٹ تھیچر کے بعد برطانیہ کی دوسری خاتون وزیر اعظم بن گئیں
۔ اس سے پہلے وزیر اعظم کی رہائش گاہ 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ سے رخصتی کے وقت ڈیوڈ کیمرون نے بطور وزیر اعظم آخری خطاب کیا۔ انہوں نے اپنے دور اقتدار کو کامیاب قرار دیا اور برطانوی عوام کا شکریہ ادا کیا۔ -
ڈیوڈ کیمرون نے برطانوی عوام کی جانب سے یورپی یونین سے نکلنے کے فیصلے کے بعد اپنے عہدے سے مستعفیٰ ہونے کا اعلان کیا تھا۔ ڈیوڈ کیمرون یورپی یونین کا حصہ رہنے کے حق میں تھے جب کہ ان کی کابینہ کے اراکین برطانیہ کے یورپی یونین سے نکلنے کے حامی تھے۔
ڈیوڈ کیمرون نے بدھ کو آخری بار دارالعوام میں سوالات کے جواب کے سیشن میں شرکت کے بعد واپس سرکاری رہائش گاہ ٹین ڈاؤننگ سٹریٹ آئے جہاں سے کچھ وقت کے بعد اپنے خاندان کے ہمراہ بکنگھم پیلس میں ملکہ برطانیہ سے ملاقات کے لیےگئے جہاں انھوں نے اپنا استعفیٰ پیش کیا۔
ڈیوڈ کیمرون جب ملکہ برطانیہ سے ملنے گئےتو ان کی اہلیہ سمانتھا کمیرون اور ان کے تین بچے بھی بکنگھم پیلس گئے۔ ڈیوڈ کیمرون کے مستعفیٰ ہونے کے بعد کنزرویٹیو پارٹی کی نئی سربراہ ٹریسا مے نے ملکہ برطانیہ سے ملاقات کی جس میں ملکہ نے انھیں حکومت بنانے کی دعوت دی۔
برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون جب بدھ کو آخری بار داالعوام سے بطور وزیراعظم شرکت کے بعد جانےلگے تو سپیکر جان برکو سمیت کنزرویٹو پارٹی کےاراکین نے انھیں اپنی سیٹوں پر کھڑے ہو کر تالیاں بجا کر الوادع کیا۔