آل پارٹیز حریت کانفرنس نے خبردار کیا ہے کہ اگر ہندوستان نے نہتے کشمیریوں پر ظلم و ستم بند نہ کیے تو وہ خطے میں تباہی کا ذمہ دار ہوگا۔
'یوم شہداء' کے موقع پر اپنے پیغام میں آل پارٹیز حریت کانفرنس کے مرکزی رہنما میر واعظ عمر فاروق نے کہا کہ ہندوستان کے زیرِ انتطام کشمیر کے لوگ 85 برس سے اپنی آزادی کے لیے جدوجہد کررہے ہیں، آزادی کے لیے اس سفر میں ہماری پانچویں نسل بھی شامل ہوچکی ہے اور آزادی کے لیے کئی ہزار کشمیری قرنیاں دے چکے ہیں۔
خیال رہے کہ 13 جولائی کو ہندوستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں 'یوم شہداء' منایا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کا دل گولیوں سے نہیں محبت سے جیتنے کی ضرورت ہے کیونکہ کشمیری عوام خطے میں انسانیت، امن اور خوشحالی چاہتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ مسئلہ کشمیر کوئی حکمرانی یا اقتصادی پیکیج نہیں، دنیا کو سچ تسلیم کرنا ہوگا کہ روزگار اور سہولیات میسر نہ ہونے کے باعث کشمیری نوجوان سڑکوں ہر مر رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ کشمیریوں کا اصل مسئلہ ہے یہ کہ ان کو حق خود ارادیت دیا جائے۔
میر واعظ عمر فاروق نے کہا کہ ہندوستانی فورسز کی جارحیت سے کشمیریوں کے جذبہ آزادی اور حریت کو دبایا نہیں جاسکتا اور 1931 سے شروع ہونے والی تحریک اسی جذبے سے جاری رہے گی۔
انہوں نے ہندوستانی فورسز کی فائرنگ سے کشمیریوں کی حالیہ ہلاکتوں پر مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستانی فوج کی کشمریوں پر ظلم وستم کی وجہ سے صورتحال مزید خراب ہوگئی ہے اور خطے میں اس کے خطرناک نتائج سامنے آسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستانی حکومت نے پہلے ہی سیکیورٹی فورسز کو کشمیریوں کے قتل عام کی کھلی چھٹی دے رکھی ہے اور اس نے کشمیر میں مزید فوجیں بھیجنے کا فیصلہ کیا تاکہ مزید کشمیریوں کو ظلم وستم کا نشانہ بناکر اپنی طاقت کا مظاہرہ کرے لیکن اس سے کشمیریوں میں آزادی کی تحریک کے جذبے میں مزید اضافہ ہوگا۔
میر واعظ عمر فاروق کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر کو فوجی طاقت کے بجائے سیاسی طور پر حل کیا جانا چاہیے، جس میں تمام اسٹیک ہولڈرز یعنی پاکستان، ہندوستان اور جموں و کشمیر کے لوگ شامل ہوں۔
دوسری جانب دی ہندو کی ایک رپورٹ کے مطابق ہندوستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں کشیدگی برقرار ہے اور سیکیورٹی فورسز نے سری نگر، پلواما اور دیگر علاقوں میں کرفیو نافذ کردیا، جبکہ وزیراعظم نریندر مودی نے کشمیر کے حوالے سے ہنگامی اجلاس کی صدارت کے دوران کشمیری عوام سے پر امن رہنے کی اپیل کی۔
ہندوستان میں کئی انسانی حقوق کی تنظیموں اور بائیں بازوں کی جماعتوں نے جموں و کشمیر میں نہتے شہریوں کے قتل عام کو فوری طور پر روکنے کی مطالبہ کیا ہے۔
اس حوالے سے انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکن اور مصنف شدھابراتا سین گپتا نے حال ہی میں ہندوستانی فورسز کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کی گذشتہ زندگی کے بارے میں پوسٹ کیا۔
انھوں نے لکھا، '2010 میں 16 سالہ برہان وانی اپنے بھائی خالد وانی اور ایک دوست کے ساتھ موٹر سائیکل پر ترال کے علاقے سے گزر رہے تھے کہ ہندوستانی سیکیورٹی فورسز نے ان کو روک کر ان سے سگریٹ مانگا، خالد وانی سگریٹ لینے چلا گیا جبکہ برہان اور اس کا دوست خالد کا انتظار کرتے رہے، بعدازاں پولیس نے ان لڑکوں کو بلاوجہ مارنا شروع کردیا اور موٹر سائیکل کو شدید نقصان پہنچایا، پولیس کی مارپیٹ سے خالد وانی کی یاداشت چلی گئی جبکہ برہان وانی شدید زخمی ہوگیا تھا۔ ہندوستانی فورسز کی بلاوجہ مارپیٹ سے برہان وانی کی عزت نفس کو شدید ٹھیس پہنچی تھی۔'
واضح رہے کہ برہان وانی کی ہلاکت کے بعد کشمیر میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا، جن کے دوران 20 سے زائد کشمیری ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ متعدد زخمی بھی ہوئے۔