دو پل میں کسی پر میں کھُلا ہی نہیں کرتی
تنہا سوئے منزل میں چلا ہی نہیں کرتی
جب تک کہ نہ اترے کسی الہام کی صورت
میں شعر کبھی کوئی کہا ہی نہیں کرتی
الفاظ کے جگنو سرِ قرطاس جو چمکیں
قدرت تو یہ فن سب کو عطا ہی نہیں کرتی
نالاں ہوں بہت برف کے اس سرد مکاں سے
اور دھوپ نکلنے کی دعا ہی نہیں کرتی
یہ دورِ نمائش ہے یہ ہے بزمِ تصنع
آنسو سرِ مژگاں میں رکھا ہی نہیں کرتی
پتوں پہ لکھی زرد خیالوں کی کہانی
ہر اک کو سُنانا میں روا ہی نہیں کرتی
شبنم ہوں کبھی شعلہ ہوں خوشبو کبھی عینی
میں وادیء سنگ میں تو کھِلا ہی نہیں کرتی