پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ ن لیگ کے خاتمے کا آغاز راولا کوٹ سے ہوگیا ہے،ن لیگ کی دھونس اور دھاندلی نہیں چلنے دیں گے۔
راولہ کوٹ میں پیپلز پارٹی کے جلسےسے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ آزادی کی جنگ لڑنے والے باشعور ہوتےہیں،کشمیری شہری اپناحق چھینناجانتےہیں۔
انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے ظلم و ستم کا بازار گرم کر رکھا ہے، موجودہ دورحکومت میں مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی پامالی ہورہی ہے،بھارت بڑےڈیم بناکرہمارے حصے کاپانی روک رہا ہے،مقبوضہ کشمیرمیں انسانی جانوں کاضیاع ہورہاہے،موجودہ دورحکومت میں مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی پامالی ہورہی ہے،اقوام متحدہ ابھی تک کشمیرمیں رائے شماری نہیں کرا سکا، بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں ظلم کی حدود پارکرلیں ۔
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ڈوگراراج سے آزادی کا آغاز راولا کوٹ سے ہوا ،راولا کوٹ کے لوگ ظالم کے آگے سر نہیں جھکاتے،وہ ن لیگ کی دھونس دھاندلی اور جھرلو بھی نہیں چلنے دیں گے، مودی وزیراعظم نواز شریف کا دوست ہے،کشمیرکےشہری ن لیگ اورمودی کی پالیسی کوسپورٹ نہیں کرتے،ہم کشمیر کو پیپلز پارٹی کا نصب العین سمجھتے ہیں ،پیپلز پارٹی اور ناکام لیگ میں بنیادی فرق ہے، 35کشمیریوں کے قتل پر وزیراعظم نے 4دن بعد بیان دے کر جان چھڑالی،مودی کو اس دہشت گردی پر میاں صاحب کی خاموش حمایت حاصل ہے ،ہم مسئلہ کشمیرپررائےشماری کامطالبہ کرتےہیں،اقوام متحدہ کشمیر میں رائے شماری کا وعدہ پورا کرے ۔
انہوں نے کہا کہ الیکشن میں راولاکوٹ سے(ن)لیگ کے خاتمے کا آغاز ہو گا، آزادی کی جنگ لڑنے والے باشعور ہوتے ہیں، پارٹی خواتین کو معاشی، سماجی، سیاسی طور پر مضبوط دیکھنا چاہتی ہے، سیاسی جماعتوں نےصوبوں میں عورتوں کے لیےمضبوط قانون سازی نہیں کی، پیپلزپارٹی مرداورعورت کوبرابرکےحقوق دیناچاہتی ہے،وسیلہ حق ،بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام پیپلز پارٹی نے شروع کیے ، پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ پیپلز پارٹی نے شروع کیا،میاں صاحب آپ نے کون سا منصوبہ شروع کیا ؟
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ نواز شریف لیڈر نہیں بزنس مین ہیں ،کشمیرمیں پہلے1یونیورسٹی تھی،اب6 یونیورسٹیاں ہیں، حکومت کے مہنگے منصوبے عوام کی فلاح کے لیے نہیں اتفاق فاؤنڈری کی ترقی کے لیے ہیں ،2سال میں کشمیرڈاکٹروں کےمعاملےمیں خودکفیل ہوجائےگا،بہت جلدکشمیرکےڈاکٹرملک اوربیرون ملک میں خدمات انجام دیں گے،نواز شریف نے 3 سال میں آف شور کے علاوہ کوئی یونیورسٹی نہیں بنائی،نواشریف کوتعلیم کااحساس نہیں،کتابوں میں لوہااستعمال نہیں ہوتا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ چاہتے تو کشمیر میں نئے ہائیڈل منصوبے شروع کر سکتے تھے ، میاں صاحب آپ نے پیپلز پارٹی کے جاری منصوبے بھی روک لیے،تخت لاہور کے خلاف بھی انقلاب آسکتاہے ، مہنگائی عروج پر پہنچا کر وزیر خزانہ کہتےہیں دال مہنگی ہے تو مرغی کھاؤ،بجٹ این ایف سی کے بغیر پیش کیاگیا کیایہ غیر آئینی نہیں ، غیر آئینی بجٹ کی کیا اہمیت ہے ؟صوبوں کوبجٹ کا جائز حصہ نہیں دیا گیا،پیپلز پارٹی نے نوجوانوں کیلئے 50ہزار نوکریاں پیدا کیں ، 30ارب روپے کا 10فیصد بھی کسان پر خرچ نہیں کیا،زرعی اجناس بھارت سے منگوائی جا رہی ہیں ،میاں صاحب بزنس مین ہیں جو اپنا مفاد دیکھتے ہیں ،میاں صاحب ہر طرح سے جھوٹے ثابت ہوچکے ہیں،پنجاب میں بےروزگاری 6اعشاریہ 3فیصدر ہے،میں آپ کو نون لیگ نہیں ناکام، ناکام، ناکام لیگ کہتا ہوں۔
بلاول نے اس موقع پر نعرے لگائے کہ جیت کا نشان تیر کا نشان،گرتی ہوئی دیوار کو ایک دھکا اور دو،مودی کے یار کو ایک دھکا اور دو