پاکستان نے مصباح الحق کی انگلینڈ کی سرزمین پر پہلے ٹیسٹ میچ میں شاندار سنچری کی بدولت سیریز کے پہلے میچ کے پہلے روز 6 وکٹوں کے نقصان پر 282 رنز بنا لیے۔
پاکستان اور انگلینڈ 6 سال بعد لارڈ کے کرکٹ گراؤنڈ میں مدمقابل ہیں جہاں پاکستانی کپتان مصباح الحق نے بیٹنگ کیلئے سازگار وکٹ پر ٹاس جیت کر پہلے بلے بازوں کو آزمانے کا فیصلہ کیا اور اپنی ذمہ دارانہ اننگز کے ذریعے فیصلے کو درست ثابت کر دیا۔
طویل عرصے بعد انگلینڈ کا دورہ کرنے والی قومی ٹیم کی جانب سے محمد حفیظ اور شاند مسعود نے محتاط انداز میں اننگز کا آغاز کیا اور ابتدائی دس اوورز میں کوئی وکٹ نہ گرنے دی لیکن اس دوران شان مسعود مسلسل جدوجہد کرتے نظر آئے۔
بالآخر 38 کے مجموعی اسکور پر شان مسعود کی ہمت جواب دے گئی اور سات رنز بنانے کے بعد پویلین لوٹے۔
محمد حفیظ اچھی فارم میں نظر آئے لیکن ایک غیر ضروری شاٹ کھیلنے کی کوشش میں 40 رنز کی اننگز کھیل کر وکٹ گنوا بیٹھے۔
اس کے بعد اظہر علی اور یونس وکٹ پر یکجا ہوئے اور کھانے کے وقفے تک مزید کوئی وکٹ نہ گرنے دی، جب کھانے کا وقفہ ہوا تو پاکستان نے دو وکٹ کے نقصان پر 76 رنز بنائے تھے تاہم وقفے کے فوری اظہر علی ایک رن کا اضافہ کرکے آؤٹ ہوئے۔
یونس خان اور مصباح الحق نے ٹیم کا اسکور آگے بڑھایا اور دونوں تجربہ کار کھلاڑیوں نے انگلینڈ کے باؤلرز کا مقابلہ کیا لیکن یونس خان 134 کے مجوعے پر معین علی کو کیچ دے کر پویلین لوٹ گئے، وہ 33 رنز بنا کر آؤٹ ہونے والے چوتھے کھلاڑی تھے۔
مصباح الحق کا ساتھ دینے کے لیے اسد شفیق میدان میں آئے اور چائے کے وفقے تک دونوں کھلاڑیوں نے مزید کوئی وکٹ نہیں گرنے دی جبکہ اس دوران کپتان نے اپنی نصف سنچری بھی مکمل کی۔
پاکستان نے چائے کے وقفے تک 4 وکٹوں پر 158 رنز بنا لیے تھے۔
مصباح الحق نے چائے کے وقفے کے بعد اسد شفیق کے ساتھ مل کر اننگز کو ذمہ داری کے ساتھ آگے بڑھایا جبکہ اسد شفیق نے اپنی نصف سنچری مکمل کرتے ہوئے کپتان کا بھرپور ساتھ دیا اور ٹیم کو اچھی پوزیشن پر لاکھڑا کیا۔
واضح رہے مصباح الحق انگلینڈ کے خلاف انگلینڈ کی سرزمین میں اپنا پہلا ٹیسٹ میچ کھیل رہے ہیں اور اپنے پہلے ٹیسٹ میں سنچری بنائی۔
مصباح الحق لارڈز میں سنچری بنانے والے ساتویں پاکستانی بلے باز ہیں۔
اسد شفیق اور مصباح نے چھٹی وکٹ کی شراکت میں 148 رنز کا اضافہ کیا اور اسد 73 رنز بنا کر 282 کے مجموعی اسکور پر آؤٹ ہوئے جس کے بعد راحت علی کو نائٹ واچ مین کے طورپر بیٹنگ کے لیے بھیجا گیا لیکن وہ کسی اضافے کے بغیر آؤٹ ہو کر پویلین لوٹ گئے۔
لارڈز ٹیسٹ کے پہلے روز کے کھیل کے اختتام پر پاکستان نے 6 وکٹوں کے نقصان پر 282 رنز بنا لیے، مصباح الحق 110 رنز بنا کر کریز پر موجود ہیں۔
انگلینڈ کی جانب سے کرس ووکس نے 4 وکٹیں حاصل کیں۔
قبل ازیں کپتان مصباح الحق نے کہا کہ وکٹ بیٹنگ کے لیے سازگار نظر آ رہی ہے اسی لیے ہم ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کر رہے ہیں۔
ایک جائزہ
اس میچ کی خاص بات فاسٹ باؤلر محمد عامر کی ٹیسٹ کرکٹ میں دوبارہ واپسی ہے جن سے چھ سال قبل اسی گراؤنڈ پر اسپاٹ فکسنگ کا جرم سرزد ہوا تھا اور وہ 2010 کے لارڈز ٹیسٹ کے بعد پہلی مرتبہ ٹیسٹ میچ کیلئے میدان میں اتریں گے۔
چھ سال قبل 2010 کے لارڈز ٹیسٹ کے دوران برطانوی ٹیبلائیڈ اخبار نیوز آف دی ورلڈ نے اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل کا بھانڈا پھوڑ کر دنیائے کرکٹ کو ہلا دیا تھا جس میں اس وقت کے پاکستانی ٹیم کے کپتان سلمان بٹ اور ساتھی کھلاڑی محمد آصف اور محمد عامر ملوث تھے۔
جرم ثابت ہونے پر تینوں کھلاڑیوں کو جیل کاٹنے کے ساتھ ساتھ پانچ سال پابندی بھی بھگتنی پڑی تاہم اب عامر کرکٹ میں واپسی کرنے جا رہے ہیں اور قومی ٹیم کو ان سے خاصی توقعات وابستہ ہیں۔
پاکستان کیلئے سب سے بڑا چیلنج انگلینڈ کی فارم اور سرد موسم سے نمٹنا ہو گا تاہم ساتھ ساتھ قومی ٹیم کیلئے انجری کا شکار جیمز اینڈرسن کی عدم موجودگی ٹیسٹ میچ میں فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے جو ناصرف انگلینڈ کی تاریخ کے سب سے کامیاب باؤلر بلکہ اس وقت اچھی فارم میں ہیں۔
یہ میچ کپتان مصباح الحق کیلئے خاصی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ وہ پہلی مرتبہ انگلینڈ میں کوئی ٹیسٹ میچ کھیل رہے ہیں جبکہ یہ اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ نئے ہیڈ کوچ مکی آرتھر کا پاکستان کے ساتھ پہلا انٹرنیشنل میچ ہے۔
میچ کے لیے پاکستان نے چھ بلے بازوں اور چار باؤلرز کے کمبی نیشن کے ساتھ میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ٹیم میں محمد حفیظ، شان مسعود، اظہر علی، مصباح الحق، یونس خان، اسد شفیق، سرفراز احمد، یاسر شاہ، راحت علی، محمد عامر اور وہاب ریاض شامل ہیں۔
انگلینڈ کی ٹیم ایلسٹر کک، ایلکس ہیلز، جو روٹ، جیمز ونس، گیری بیلنس، جونی بیئراسٹو، معین علی، کرس ووکس، اسٹورٹ براڈ، جیک بال اور اسٹیون فن۔