کیا کیا عقدہ کھل رہا ہے ٹونی بلئیر ایک پورے ملک کو تباہ کرنے کے زمے دار ٹہرائے گئے ہیں ،ہم جب بھی حیران تھے کہ جب عراق کے پاس ایسے ہتھیار ہیں تو مار کیوں کھا رہا ہے لیکن اُس وقت طاقت کا نشہ ایسا تھا کہ کسی نے نہیں سوچا کہ ساری دنیا کا امن داؤ پر لگ جائیگا ۔اور اب تک عراق بے سکون ہے خونم خون ہے ۔
ہر طرف طاقت کی دوڑ ہے اور طاقت کے پیمانے بدل دئے گئے ہیں ۔پہلے طاقت تہذیب میں تھی ،ایمانداری میں تھی ،انسانیت میں تھی ،اخلاق میں تھی ،سچائی میں تھی حُسنِ سلوک میں تھی رواداری اور مخلصی میں تھی ۔مگر اب طاقت اصلحہ میں ہے سیاسی اُکھاڑ پچھاڑ میں ہے جھوٹ اور غلط بیانی میں ہے ،دنیاوی داؤ پیچ میں ہے ،دوسروں سے چھین لینے میں ہے ،غلط بیانی میں ہے اور شاید دنیا پر حکومت کرنے میں ہے ۔جو کچھ ہم نے دیکھا اور دیکھ رہے ہیں وہ سب دنیا ہی دنیا ہے ۔عراق کو بھون ڈالا کہ وہاں سکون ہوگا اُس کے حاکم اور اُسکے پورے خاندان کا نام نشان ختم کر ڈالا کہ وہ ہی سارے فساد کی جڑ سمجھا جاتا تھا مگر سکون کہاں ہے وہاں پر؟ اتنے سال گزر گئے وہاں اب بھی دھماکے ہیں لاشیں ہیں خون خرابہ ہے کہاں ہے سُپر پاور ؟ لیبیا کو تحس نحس کردیا گیا کہ وہاں کا حاکم ہی فساد کی جڑ سمجھا جاتا تھا روند ڈالا گیا اس آس میں یا طاقت کے ذعم میں کہ وہاں امن ہو جائیگا اور کوئی آواز نہ اُٹھا سکے گا کسی بھی سپر کے خلاف۔ آوازیں تو بند ہو گئیں مگر امن نام کی چیز کوسوں دور ہو گئی ۔سب بوجھ اسلام پر ڈال دیا گیا ،مسلمان راندئہ درگاہ بنا دیا گیا مگر سکون کہیں بھی نہیں بنگلہ دیش ہو یا افغانستان مصر ہو یا شام ہر طرف اآگ اور خون ہے ،سب ناکام ہیں لیکن کوئی بھی اس ناکامی کو اپنے زمے نہیں لیتا نہ حملے کرنے والے نہ حملے کرانے والے ۔نہ ڈرون داغنے والے نہ مصالحت کی بات چیت میں رخنہ ڈالنے والے ۔نہ طالبان کے ہمدرد نہ طالبان کے مخالف کوئی بھی اس آگ کو ٹھنڈا کرنے میں کامیاب نہیں ہورہا کیونکہ شاید تھنڈا کرنا ہی نہیں چاہتے ؟
ابھی کالم آگے بھی نہ بڑھا تھا کہ سعودی عرب میں دھماکوں کی خبریں چلنے لگی ہیں کہتے ہیں چار دھماکے ہوئے ہیں ۔ ہم نے وہاں کا سکیورٹی نظام دیکھا ہے ہم حیران ہیں کہ یہ دھماکہ کرنے والے کون سی چادر اوڑھتے ہیں جو سب کو جُل دے جاتے ہیں اور معصوم لوگوں کی جان لے لیتے ہیں ۔ہر طرف آگ اور خون کا کھیل ہے انسانیت روتی ہے روتی رہے ۔کہ اُس کا وجود خود خطرے میں ہے ۔
دنیا کا سکون تباہ ہے لیکن بڑی بڑی قوتیں صرف اور صرف اپنے بارے میں سوچتی ہیں کسی کو کسی سے کوئی غرض نہیں انسانیت کا خون اتنا ارزاں شاید کبھی بھی نہیں تھا جتنا آج ہے ۔یہ دوڑ ہے طاقت کی ۔یہ دوڑ ہے سپر بننے کی یہ دوڑ ہے دنیا پر حکمرانی کی ہر ایک کو اپنے تلے لانے کی ،پھر جب مظلوم اٹھتا ہے تو جنگیں جنم لیتی ہیں اللہ ہم سب کو اُس دَور سے بچائے رکھے ضرورت ہے ایک دوسرے کے حقوق اور اُنکی سالمیت کو قائم رکھنے کی ۔جب طاقت کے زور پر روند ڈالا جائیگا تو پھر ایک ایسی مخلوق پیدا ہوگی جو کسی کی نہیں سنے گی ،جو صرف خود کو ٹھیک سمجھے گی ۔اور جو چاہے گی جیسا چاہے گی کرےگی ۔پناہ مانگنے کی ضرورت ہے اللہ سے توبہ کرنے کی ضرورت ہے ان حالات میں جو نہ جانے کتنی دہائیوں سے ہم پر مسلط ہیں ۔کیونکہ ہم غلام ہیں ان طاقتوں کے جن کے ہر کارے ہمیں قرضوں میں لپیٹ دیتے ہیں کہ خبردار جو آواز بلند ہوئی ؟؟ عبرت کا مقام ہے کہ اپنے اپنے ملک میں بھی ہم محفوظ نہیں ہیں کون مار رہا ہے کیوں مار رہا ہے کچھ عقدہ نہیں کھلتا ۔
حسبِ معمول ہماری ساری لیڈر شِپ عید منا رہی ہے دیارِغیر میں کہ وہ اُنکی اپنی جگہ ہے ۔وہ ہمارے ملک میں صرف حکمرانی کرنے آتے ہیں اور جتنا جمع کر سکیں جمع کرنے آتے ہیں ۔جس طرح گدھ مردار کو نوچ نوچ کھاتا ہے اسی طرح ہمارے حکمران ہمیں مردہ سمجھ کر نوچ کھاتے ہیں ۔اُن کا قصؤر بھی نہیں جب ہماری سرشت میں ہی غلط باتوں کو کرپشن کو بے ایمانی کو سہنا لکھ دیا گیا ہے تو ہم کبھی کبھی تو انہیں بھی بے قصور سمجھتے ہیں ۔کیونکہ ذندہ عوام اپنے حکمرانوں کا احتساب کرتے ہیں ایک پائی ان کا حکمران غلط استعمال نہیں کر سکتا اگر کر لے ،تو وہ سارے باہر نکل پڑتے ہیں کہ نکالو ہمارے ٹیکس کا پیسہ ۔لیکن ہم اُن باتوں پر جو سامنے ہیں جو الحمدُ للہ ،الحمدُ للہ کہہ کر قبولی جاتی ہیں لیکن ہم کہتے ہیں ثبوت لاؤ ۔وہ باتیں جنہیں دوسرے ممالک میں ایک ہفتے میں سب کے سامنے لے آیا گیا ہمارے ملک میں ابھی تک لا ینحل ہے اور رہیگا کہ سب کی دُمیں ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہیں ۔ہر کوئی ڈرتا ہے دوسرے کی کرپشن کھولنے میں کہ وہ خود کرپٹ ہے ۔
ہر ایک بڑے کے پاس فائل ہے لیکن وہ کھولتا نہیں ہم صرف اتنا جاننا چاہتے ہیں کہ وہ ملک سے کتنی محبت کرتا ہے ؟ عوام کا کتنا دوست ہے ؟ ہمارا سوال ہمارے ہی منہہ پر مار دیا جائیگا کیونکہ ہم بے وقوف اُن باتوں کا جواب مانگتے ہیں جو ہمارے سامے موجود ہیں اور یہ ہی ہماری بے حسی ہے ۔