تازہ ترین
..................
فرانسیسی صدر فرانسوا اولانڈ نے مختلف مذاہب کے نمائندوں کے ساتھ ملاقات کرتے ہوئے مذہبی رواداری کا بھرپور پیغام دیا ہے۔
اولانڈ نے مسیحی، مسلمان، یہودی اور بودھ کمیونٹیز کے نمائندوں کو پیرس میں اپنی سرکاری رہائش گاہ پر مدعو کیا تھا۔ اس ملاقات میں یہ پیغام دیا گیا کہ مختلف مذاہب کے درمیان امن اور ہم آہنگی سے عبارت تعلقات فرانسیسی معاشرے کے اتحاد کا اہم ترین وسیلہ ہیں۔
اِدھر جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے بھی صدر اولانڈ کے نام اپنے ایک ٹیلی گرام میں فرانسیسی چرچ پر حملے اور ایک کیتھولک پادری کے قتل پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے یہ عزم ظاہر کیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف مشترکہ جنگ جاری رکھی جائے گی
....................
فرانس کے ایک چرچ میں چاقو کے زور پر لوگوں کو یرغمال بنانے والے دونوں حملہ آوروں کو پولیس نے فائرنگ کرکے ہلاک کردیا جبکہ ایک یرغمالی بھی مارا گیا.
امریکی خبر ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق فرانس کے شمالی نورمینڈی خطے میں واقع ایک گرجا گھرمیں موجود افراد کو دو چاقو بردار حملہ آوروں نے یرغمال بنایا تاہم کچھ ہی دیر میں پولیس وہاں پہنچ گئی اور بروقت کارروائی کرتے ہوئے انہیں ہلاک کردیا۔
ذرائع کے مطابق 4 سے 6 افراد کو یرغمال بنایا گیا تھا، واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس نے چرچ کو گھیرے میں لے لیا تھا اور ایمبولنسیں بھی جائے وقوع پر پہنچ گئی تھیں۔اطلاعات کے مطابق یرغمال بنائے جانے والوں میں ایک پادری، دو راہبہ اور چرچ کے اندر عبادت میں مصروف دیگر دو افراد شامل تھے۔فرانسیسی وزات داخلہ کے ترجمان نے بھی واقعے میں دونوں حملہ آوروں کی ہلاکت کی تصدیق کردی ہے.
مقامی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے ایک یرغمالی کا گلا کاٹ کر اسے ہلاک کیا جس کے بعد پولیس پہنچ گئی اور دونوں حملہ آوروں کو ہلاک کردیا. حملہ آوروں کی شناخت اور مقاصد کے بارے میں ابھی کچھ معلوم نہیں ہوسکا ہے.
-----------------------------------------------------------
دہشت گرد تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ نے فرانسیسی شہر نیس میں کیے گئے دہشت گردانہ حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔
اِس تنظیم نے اکتیس سالہ تیونسی حملہ آور کو اپنا ایک ’سولجر‘ یا سپاہی قرار دیا ہے۔ دوسری جانب فرانسیسی پولیس نے نیس میں کیے گئے دہشت گردانہ حملے میں ملوث ہونے کے شبے میں چار افراد کو حراست میں لیا ہے۔ پولیس کے مطابق یہ افراد حملہ آور محمد لہوائج بوالہلال کے رابطے میں تھے۔ ان میں سے ایک شخص کو جمعہ پندرہ جولائی اور بقیہ تین کو ہفتہ کی صبح میں گرفتار کیا گیا۔ حملہ آور ڈرائیور کی سابقہ بیوی کو پہلے ہی حراست میں لیا جا چکا ہے۔
فرانسیسی شہر نِیس میں دہشت گردانہ حملے میں ہونے والی چوراسی ہلاکتوں پر تین روزہ قومی سوگ کا آغاز ہو گیا ہے۔ اس قومی سوگ کا اعلان صدر فرانسوا اولانڈ نے کیا تھا۔ فرانسیسی وزیر اعظم مانوئل والس کے مطابق حملہ کرنے والا محمد لہوائج بوالہلال بنیاد پرست مسلمان حلقوں کے ساتھ رابطے میں تھا۔ دوسری جانب فرانسیسی حکومت کے مخالف سیاسی حلقے اس حملے کو ناقص سکیورٹی انتظامات کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔ اگلے برس ہونے والے فرانسیسی صدارتی الیکشن کے لیے ایک ممکنہ مضبوط امیدوار ایلاں ژوپے نے کہا ہے کہ اولانڈ حکومت مناسب سکیورٹی حکمت عملی سے اس حملے کو قبل از وقت ہی ناکام بنا سکتی تھی
....................
فرانس کے صدر فرانسواں اولاند نے کہا ہے کہ نیس شہر میں بیسل ڈے "قومی دن" کی تقریب میں ٹرک حملے میں درجنوں افراد ہلاک اور ایک سو کے لگ بھگ زخمی ہوئے اور یہ دہشت گردی کا واقعہ معلوم ہوتا ہے۔
جمعہ کو ٹی وی پر قوم سے خطاب میں اولاند نے کہا کہ "کوئی چیز بھی ہمیں دہشت گردی کے خلاف جنگ سے نہیں روک سکتی۔"
انھوں نے گزشتہ نومبر میں پیرس میں ہوئے حملوں کے تناظر میں کہا کہ فرانس کو داعش کی طرف سے خطرہ ہے۔
جمعرات کو قومی دن کی تقریبات کے دوران لوگوں کی ایک بڑی تعداد آتش بازی کا مظاہرہ دیکھ رہی تھی کہ ایک تیز رفتار ٹرک یہاں گھس آیا اور لوگوں کو روند دیا۔
پولیس نے ٹرک ڈرائیور کو گولی مار کر ہلاک کر دیا جس کی شناخت 31 سالہ تیونس نژاد فرانسیسی کے طور پر ہوئی اور وہ نیس کا ہی رہائشی تھا۔
تاحال اس ڈرائیور کے داعش سے منسلک ہونے کے تصدیق نہیں ہو سکی ہے لیکن صدر اولاند کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں حکام تحقیقات جاری رکھیں گے۔
رواں ماہ کے اواخر میں ختم ہونے والی ہنگامی حالت میں صدر نے مزید تین ماہ تک کی توسیع کر دی ہے اور مزید دس ہزار فوجیوں کو تعینات کرنے کا کہا ہے۔ صدر نے عراق اور شام میں اپنے کردار کو بھی مزید مضبوط بنانے کا عزم ظاہر کیا۔
فرانس کی وزارت داخلہ کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 80 ہے۔ حکام نے بعد ازاں ٹرک سے اسلحہ، بارود اور دستی بم بھی برآمد کیے۔
نیس فرانس کا پانچواں بڑا شہر ہے اور اس تازہ واقعے کے بعد کسی بھی ممکنہ خطرے سے بچنے کے لیے سکیورٹی فورسز نے اس کے داخلی اور خارجی راستوں کو بند کر دیا ہے۔
حکام نے بتایا ہے کہ مرنے والوں میں پولیس کے کئی اہلکار بھی شامل ہیں جب کہ زخمیوں میں سے 18 کی حالت تشویشناک ہے۔
امریکہ کے صدر براک اوباما نے اس "وحشیانہ دہشت گرد حملے" اور معصوم شہریوں کی ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے امریکی حکام کو ہدایت کی کہ وہ فرانسیسی حکام کو ہر ممکن تعاون کی پیشکش کریں۔
امریکی وزیر خارجہ جان کیری کا کہنا تھا کہ پیرس میں امریکی سفارتخانہ نیس میں امریکی شہریوں کی دیکھ بھال کر رہا ہے۔ مارسیل میں امریکی قونصل خانے کا کہنا تھا کہ وہ اس بات کا تعین کر رہا ہے کہ اس واقعے میں کوئی امریکی شہری تو متاثر نہیں ہوا۔
امریکی ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار ہلری کلنٹن نے نیس میں پیش آنے والے واقعے دلی تکلیف کا باعث قرار دیا جب کہ ان کے حریف ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے حملے کو "وحشیانہ" قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ جمعہ کو نائب صدر کے لیے امیدوار کی نامزدگی کو ملتوی کر رہے ہیں۔
ٹرک کے ہجوم میں گھس جانے کی وجہ سے یہاں افراتفری پھیل گئی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ جہاں یہ واقعہ پیش آیا وہ عموماً ٹریفک کے لیے بند ہوتا ہے۔ یہیں واقع ایک پرتعیش ہوٹل کو زخموں کو طبی امداد فراہم کرنے کے لیے ایک عارضی اسپتال میں تبدیل کر دیا گیا۔
عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ ٹرک ڈرائیور نے رکاوٹ کو توڑا اور پھر ہجوم میں گھس کر ٹرک کو دائیں بائیں گھوماتا رہا۔
ایک گزشتہ سال سے اب تک فرانس میں دہشت گردی کا تیسرا بڑا واقعہ ہے۔ گزشتہ نومبر میں پیرس میں ہونے والے حملے میں 13 افراد ہلاک اور 130 زخمی ہوگئے تھے اور اس کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی۔
اس سے قبل گزشتہ سال جنوری میں پیرس کے ایک جریدے کے دفتر پر ہوئے حملے میں 17 افراد مارے گئے تھے۔