15.10.2026, 01:03pm , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
مضامین/تجزیات » شمس جیلانی
 

کشمیر جل رہا ادھر کا روبار چل رہا ہے۔۔ شمس جیلانی
15.07.2016, 12:01am , جمہ (GMT+1)

از۔۔۔ شمس جیانی
 ہمسایوں سے دوستی اچھی بات ہے؟ مگر گرتی ہو ئی لاشوں پر نہیں۔ ہمارے یہاں خیر سے وراثت میں ملے ہوئے ایک مولانا بھی موجود ہیں جن کی ہر حکومت میں شمولیت کی پہلی شرط کشمیر کمیٹی کی کرسیِ صدارت ہے جس پر وہ کبھی تشریف فرما تک نہیں ہو تے اس کی گرد تک نہیں جھاڑتے اور عالم یہ ہے ،منوں کے حساب سے اب تک اس پر مٹی چڑھ چکی ہے؟ مجال ہے کہیں جو وہ اپنے ہونے کا کبھی کوئی میٹنگ بلا کر ثبوت دیں یاکبھی اقوام متحدہ کے دفتر کے سامنے جا کر احتجاج کرڈالیں شاید یہ گھوسٹ  قسم(غیر مرئی) کی کمیٹی ہے جیسے ہمارے ہاں غیر مرئی قسم کی وزارتیں ، محکمہ جات ااورملازمین ہیں اور یہ بھی بقول جمہوریت پسندوں کے جمہوریت کا حسن ہے؟ رہے بیچارے وزیر آعظم وہ دائمی مریض ہیں بمشکل پچاس دن کے بعد لندن میں زیر علاج رہ کر گھر آئے ہیں! سب کا خیال تھا شاید اب وہ اپنی غیر حاضری کی تلافی کریں گے مگر کسی دل کے مریض سے یہ امید احمقوں کی جنت میں رہنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے ابھی تک دفتر کا رخ ہی نہیں کیا ممکن ہے کہ انہیں ڈاکٹروں نے ہلکا کام یا آرام کرنے کا مشورہ دیا ہوجسکا بلٹین شائع ہونے سے رہ گیا ہو وہ بعد میں شائع ہو؟ لے دے کر کوئی اگر اپنی موجودگی ثبوت دے رہاں ہے تو وہ فوج کے سپہ سالارِ صاحب ہیں جو آج کل ہر مرض کی دوا بنے ہوئے ہیں ، کسی سے ملنا ہو تو وہ ، کہیں جانا ہو تووہ۔ کسی مسئلہ پر بیان دینا ہو تو وہ ، یہ بھی اللہ سبحانہ تعالیٰ کی مہربانی ہے کہ اس نے مملکت خداد کو ایک صحت مند سپہ سالار جناب راحیل شریف کی شکل میں دے رکھا ہے ورنہ ،نہ جانے ملک کاکیا حال ہوتا ؟ جبکہ گھوس نقب لگانے کو ہر طرف پھر رہے ہیں؟ ان کا عالم یہ ہے کہ مال تومال وہ جنازوں تک پرسیاست سے باز نہیں آتے ؟ ایک خدا ترس شخص جس کی کمپٹیشن کی وجہ سے  جوزندگی تنگ کیے کی رہے اب انہیں کو یاد آیاکے یہ تو ہمارا بندہ ہے کیونکہ یہ بھی اردو اسپیکنگ ہے۔ مسیحا کو حکمت عملی سے کام لینا پڑا اور ایدھی صاحب کی میت کا دیدار بھی بہت سے ان کے پرستاروں کو نصیب نہیں ہوا کہ وہاں بھی خدشہ تھا کہ کوئی میت اٹھانہ لے جائے۔ ادھر جو لوگ ان کی شاندار موت دیکھ کر حسد کی آگ میں جل رہے تھے؟ وہ اب دور کی کوڑی لا رہے ہیں۔ سوشیل میڈیا پرکبھی ان کو  “زندیق “ کہا جارہا ہے کبھی ان کو کچھ اور کہا جارہاہے کیونکہ غلطی سے ہم میں ایک ایسا آدمی پیدا ہو گیا تھا جو مدر ٹریسہ جیسے لوگوں کی صف میں بھی سب سے قد  میں اونچا دکھائی دیتا تھا،جبکہ ان کے یہاں بہت سی مدر ٹریسا ئیں تھیں اور ہیں ، جبکہ ہمارے یہاں صدیوں سے کوئی بھی پیدا نہیں ہوا؟ اس صدی میں غلطی سے ایک پیدا ہو گیا ہے تو بھائی اسے مسلمان رہنے دو! مرنے کے بعد تو انتقام نہ لو تاکہ ہم بھی کچھ دن فخر کر سکیں؟ دوسرے نہ جانے ہمارے ہاں کیا مسئلہ ہے کہ ہر بڑے آدمی کے بیٹے باپ سے شاکی رہتے ہیں، اور بعد میں وہ، ایسے ایسے انکشافات کرتے ہیں جو کہ پہلے کبھی نہ انہوں کیے نہ عوام نے سنے۔ ایسی بہت سی مثالیں ہیں جانے دیں ؟ خدا کرے کہ یہ خبر جھوٹی ہو کہ ان کے صاحبزادے نے بھی فرمایا ہے کہ ایدھی صاحب کیوبا کے فیڈل کاسٹرو سے بہت متاثر تھے؟ کاش وہ کہتے کہ میرے والد صاحب تمام اسفیائے کرام (رض) کی راہ پر چلتے تھے جو کہ سب حضور (ص) کی راہ پر چلنے والے تھے۔ جس کا ثبوت یہ ہے کہ ان کے مزاروں پر بھی ابھی تک بلا امتیاز سب کی خاطر مدارات ہوتی ہے جبکہ نہ کسی سے مذہب پو چھا جا تا ہے نہ مسئلک؟
 ہماری عادت ہی خراب ہے ہمیشہ کی طرح شروع ہوئے کشمیر سے پہونچ گئے ایدھی صاحب کی طرف ؟ کہتے ہیں بعض لوگوں کا حسن ان کے لیے وبال جان بن جا تا ہے۔ اسی طرح کشمیر کی حالت ہے کہ جو اپنے حسن کی وجہ سے مشہور ہے اوراس کا حسن اس کی جان کے لیے مصیبت بناہواہے؟ کہ “ جس نے ڈالی نظر بری ڈالی“ اسے ہر ایک اپنے قبضے میں رکھنا چاہتا ہے جبکہ سال میں صرف ایک دو دفعہ وہاں جا کر ٹھہر جاتا ہے اور بس؟ دوسرے یہ کہ سونے کی چڑیا یہ یوں بھی ہے کہ دنیا بھر سے سیاح آتے ہیں اور وہاں سے مال لا تے ہیں جو اب ڈرکے مارے نہیں آتے؟ نہ جانے کیوں انگریزوں کو اس کی یہ خوبی بہت زیادہ نہیں بھائی اور انہوں نے مہاراجہ کے ہاتھ چند لاکھ میں اسے بیچ دیا ؟ اور خود کوگرمیوں میں مسوری تک ہی محدود رکھا ۔ کہتے ہیں کہ مصیبت تنہا نہیں آتی اس پر ظلم یہ ہوا کہ ہندوستان کی باگ ڈور نہرو کے ہاتھ آگئی جو کشمیری پنڈت تھے اور وہ اپنے آبائی علاقے کو چھوڑنا نہیں چاہتے تھے۔ اب صورت ِ حال یہ ہے کہ کشمیری آسمان سے گرے تو کھجور میں اٹک گئے۔ سب کو آزادی مل گئی مگر ان کا آزادی کا خواب ابھی تک شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا؟ انگریز نے ہندوستان تو مسلم اور غیر مسلم آبادی کے نام پر تقسیم کر دیا، مگر ریاستوں کامعاملہ جن کی تعداد چھ سو تیرہ تھی اور بعض تو صرف سوا مربع میل تک محیط تھیں ؟ ان کے حکمرانوں کو یہ اختیار دیدیا کہ وہ جس کے ساتھ چاہیں اس کے ساتھ الحاق کرلیں اور اس طرح  ریاستیں دونوں ملکو ں کی شکار گاہ کے طور پر چھوڑ دی گئیں غالباً یہ سوچ کر کہ جو بڑا ہے وہی غالب رہے گا وہ رہا بھی؟ جبکہ چھوٹے کے لیے سوائے اس کے کوئی چارہ نہیں چھوڑا کہ وہ انہیں کی گود میں بیٹھے اور انہیں کہ ا شارے پر چلے کیونکہ بڑا پہلے سے روس کی گود میں تھا اور آل انڈیا مزدور یونین کا جنرل سیکریٹری تھا؟ جب کے کشمیریوں کے لیڈر اسوقت شیخ عبد اللہ “ کشمیری گاندھی  “کہلاتے تھے اورنہرو صاحب کے دوست تھے؟ چونکہ وہ کانگریسی ہونے کی وجہ سے اسے ہندوستان میں شامل کرنا چاہتے تھے۔ جبکہ مہاراجہ ہری سنگھ اس کو آزاد رکھ کر اپنے زیر انتداب رکھنا چاہتا تھا۔  مسئلہ یہ تھا کہ کشمیر کی سرحدیں کہیں سے بھی بھارت کے ساتھ نہیں ملتی تھیں۔ اس کے لیے تقسیم سے پہلے ہی انہوں نے پلاننگ شروع کر دی اور گورداس پور کا مسلم اکثریت کا علاقہ! قادیانیوں اور سکھوں کے اس مطالبہ کی بنا پر پاکستان سے کاٹ کر ہندوستان کو دیدیا کہ ان کے وہاں “ مقدس مقامات “ ہیں لہذا یہ علاقہ پاکستان کو نہ دیا جائے ؟ وکیل دونوں فریقوں کے چودھری سر ظفر اللہ تھے۔ یہاں ان کے یہ الفاظ غور طلب ہیں کہ جو انہوں ان دنوں اخبار نویسوں کو جواب دیتے ہوئے فرما ئے تھے  “ وکیل اپنے طور پر کچھ نہیں کرتا؟ وہ وہی کرتا ہے جو اسے اس کا موکل ہدایت دیتا ہے “ یہاں سے کئی سوال اٹھتے ہیں پہلا سوال تو یہ تھا کہ موکل کون تھا اور اس نے انہیں کیا ہدایت دی ؟ جبکہ یہ چیز ڈھکی چھپی نہ تھی کہ قادیانیوں کی مقدس کتاب میں لکھا ہوا ہے کہ “سرکار ِ برطانیہ کی وفاداری ہمارے لیے بمنزلہ ایمان ہے ۔ جس میں ہم اپنے مذہب پر چل سکتے ہیں اور تبلیغ کرسکتے ہیں جبکہ کسی مسلمان ملک میں یہ ممکن نہیں ہے “ تو در پر دہ وہ کونسی مجبوری تھی کہ انہیں پاکستانی لیڈروں نے اپنا وکیل مقرر کیا اور یہ ہی نہیں انہیں بعد میں انعام کے طور پروزیر خارجہ بھی بنا دیا ۔ اور اسی پر بس نہیں کی بلکہ لیاقت علی خان مر حوم نے پھر ایک خطہ زمین  بھی اپنا مقدس مقام یہاں بھی بنا نے کے لیے چنوٹ کاایک بڑاعلاقہ عطا کر دیا۔ جب تک ان سوالات کا جواب نہ ملے اسوقت تک مجبوری کے بارے میں کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا؟ تاریخ میں صرف ایک شخص کابیان ملتا ہے جو کہ اس وقت مرکز میں نہیں تھے بلکہ مشرقی پاکستان کے وزیر اعلیٰ تھے ، جب وہ پاکستان کے وزیر اعظم بنے اور پنجاب میں مارشلا ءلگا تو  اخبار نویسوں نے سر ظفر اللہ خان کے بارے میں غلط خارجہ پالیسی کا ذمہ دار ہونے کی بنا پر ان سے سوال پوچھا کہ آپ اسے نکال کیوں نہیں دیتے ؟ تو انہوں نے بے بسی سے فرمایا کہ “ امریکہ مجھے نکالد یگا“ ۔ اب آئیے خارجہ پالیسی کی طرف اگر یہ کلیہ مان لیا جائے کہ کشمیر ہمارا اس لیے ہے کہ وہاں اکثریت مسلمان تھی؟ تو پھرپاکستان نے ہندو اکثریت کی ریاست جونا گڑھ کا الحاق کیوں منظور کیا ؟ حیدر باد دکن کی طرف ہاتھ کیوں بڑھا یا؟ پھر اسی اصول پر عمل پیرا رہناتھا ۔ پھر اس کا اندازہ کیے بغیر کہ نتائج کیا ہونگے کشمیر میں بجا ئے فوج بھیجنے کے مجاہدین کیوں بھیجدیے ؟ جس کی وجہ سے مہاراجہ مجبور ہوگیا کہ وہ ہندوستان کے ساتھ الحاق کر لے ؟ کیونکہ وادیَ کشمیر میں عوامی حمایت مسلم لیگ کو کبھی حاصل نہ تھی؟ جس علاقہ میں تھی وہ علاقہ آج آزاد ہے اور آزاد “ کشمیر“ کہلاتا ہے۔ اس پر ظلم یہ ہوا کہ جنہیں مجایدین کا مقدس نام دیکر بھیجا گیا تھا وہ غیر تربیت یافتہ مختلف قبائل پر مشتمل ایک گروپ تھااور کردار کے اعتبار سے  وہ اتنے اونچے نہ تھے، ان کے ہاتھو ں کچھ زیادتیاں ہوئیں؟ اس طرح ہندوستان کی مقامی حمایت اور بڑھ گئی ۔ مجاہدین کو پسپا ہونا پڑا؟ تب پاکستان نے فوج استعمال کر نا چاہی ؟ جس کو اس وقت کے کمانڈر جنرل گریسی نے بغیر اپنے کماندر انچیف کی منطوری کے جو کہ پاکستان اور ہندوستان کا مشترکہ تھا پاکستانی قیادت ک حکم کا ماننے سے انکار کر دیا ۔ اب عالم یہ ہے کہ کشمیر کا کچھ حصہ پاکستان کے پاس ہے ،کچھ  چائنا کے پاس ہے اور زیادہ تر انڈیا کے پاس ہے ۔ جنہیں تینوں میں سے کوئی بھی چھوڑ نے کو کوئی تیار نہیں ہے۔ جب کہ وہ آزاد رہنا چاہتے ہیں وادی کی صورت حال ابھی تک وہی ہے ہم کئی جنگیں لڑ چکے ہیں ان کی پاکستان سے لگاوٹ کا اعتراف جو لوگ پاکستانی جھنڈے لہرانے بنا پر کر رہے ہیں وہ جھنڈوں کو اپنے یہاں کی آ جکل کی صورت ِ حال پر قیاس کرلیں کہ ہماری سڑکوں پر لگے ہوئے کچھ بینرز کو کہا جارہا ہے کہ یہ مفاد پرستوں نے خود لگوا ئے ہیں ممکن یہ ہی معاملہ وہا ں بھی ہو ہمیں کہیں جھنڈے لہراکر پھنسایا نہ جارہا ہو اور 65کی جنگ کی طرح نتیجہ بھگتنا پڑے۔ ؟ ان کا معاملہ بھی با لکل کردوں جیسا ہے ؟ کہ کئی ملکوں میں بٹے ہوئے ہیں اور انہیں کوئی آزاد کر نے کو تیار نہیں ضرورت پڑتی ہے تو ہاتھ سب رکھ دیتے ہیں ؟ ضرورت نکل جاتی ہے تو سب وعدے بھول جا تے ہیں ؟وہ بھی آج سے نہیں صدیوں سے جانیں دیتے چلے آرہے ہیں ۔ کب تک یہ سلسلہ چلے گا اللہ ہی جانتا ہے۔ ہمیں اب ہر قدم پر پھونک پھونک کر رکھنا ہوگا حماقتیں بہت ہوچکیں؟
 

:دیگر مضامین
(09.07.2016) اب بد زبانوں کو لگام دینے کی ضرورت ہے۔ از۔۔ شمس جیلانی
(02.07.2016) پچاس مفتیان ِ کرام کا ایک جرات مندانہ فیصلہ۔۔۔ شمس جیلانی
(25.06.2016) ظالمو رمضان المبارک میں تو انسان بن جاؤ ۔۔۔از۔۔ شمس جیلانی
(19.06.2016) سب سے بڑا ظالم وہ ہے جو اللہ کو جھٹلائے۔۔ شمس جیلانی
(11.06.2016) تمام نائبان رسول (ص) کے لیے لمحہ فکریہ! از۔۔۔ شمس جیلانی
(04.06.2016) وہ ہلاک ہوا جس نے ماہ ِ رمضان گنوادیا؟ ۔۔از ۔۔۔شمس جیلانی
(28.05.2016) کیا  کسی نے جھوٹ سے ہے فیض پایا اب تلک؟ از۔۔۔ شمس جیلانی
(21.05.2016)  آئیں، بائیں ،شائیں از ۔۔ شمس جیلانی
(14.05.2016) شامتِ اعمال ما صورت ِ نادر گرفت؟ از ۔۔۔ شمس جیلانی
(07.05.2016) وہی پرانی کمیشن کہانی ۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(30.04.2016) یہ وبال ِ شخصیت پرستی۔۔۔از۔۔۔شمس جیلانی
(23.04.2016) انہونی بات ہوگئی جو پہلے نہیں سنی۔۔۔ از۔۔ شمس جیلانی
(16.04.2016) صراط مستقیم سے کجروی کی طرف مراجعت۔۔از ۔۔شمس جیلانی
(09.04.2016) وکی لیکس کے بعد اب پنامہ لیکس؟ از ۔۔۔شمس جیلانی
(03.04.2016) ان میں سچا کو ن ہے اور جھوٹا کون ہے؟از ۔۔۔شمس جیلانی
(26.03.2016) مصطفی کمال اور ساتھی کس سلوک کے مستحق ہیں؟ ۔۔۔از ۔۔شمس جیلانی
(19.03.2016) عبرت سے دیکھیے مجھے عبرت نگاہ ہوں؟ از ۔۔۔شمس جیلانی
(13.03.2016) ہاتھ کاٹے پاؤ کاٹا پھر بھی سر باقی رہا۔۔۔از۔۔۔شمس جیلانی
(05.03.2016) صعّرا “ اونٹ کی ٹیڑھی گردن (٢)از ۔۔ شمس جیلانی
(27.02.2016) صعر “یا اونٹ کی طرح ٹیڑھی گرد ن۔۔۔از ۔۔۔ شمس جیلانی



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
شمس جیلانی  »
صفدر ھمٰدانی  »
ماہ پارہ صفدر  »
ڈاکٹر نگہت نسیم  »
زرقا مفتی  »
سیدہ زائرہ عابدی۰بجو  »
محمد احمد ترازی  »
محمد عظیم اعظم  »
عالم آرا  »
سیدہ رافیعہ گیلانی  »
شاہین اشرف علی  »
اظہرالحق نسیم  »
فرخندہ رضوی  »
ڈاکٹر فاخرہ نورین  »
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں