کابل: افغانستان کے مشرقی حصے میں امریکی ڈرون حملے میں 2 افراد ہلاک اور 3 زخمی ہوگئے ہیں۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق افغانستان کے مشرقی صوبے نگرہار میں امریکی ڈرون نے ایک کمپاونڈ پر میزائل داغے تھے۔
ذرائع نے بتایا کہ ڈرون نے ضلع اچن میں حملہ کیا، جس کے نتیجے میں 2 افراد ہلاک ہوئے، خیال ظاہر کیا جارہا ہے کہ ہلاک ہونے والے دونوں افراد کا تعلق شدت پسند گروپ داعش سے ہے۔
یاد رہے کہ 7 ماہ قبل بھی صوبہ نگرہار میں امریکی ڈرون نے حملہ کیا تھا جس میں 3 افراد ہلاک ہوگئے تھے تاہم ان کا تعلق افغان طالبان سے بتایا گیا تھا۔
اس سے قبل کئی مرتبہ امریکی ڈرون نے افغانستان کے صوبے نگرہار میں میزائل حملے کیے ہیں جن میں داعش کے متعدد اہم کمانڈر ہلاک ہوچکے ہیں۔
یہ بھی یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے پاک افغان سرحد کے قریب افغانستان کے علاقے نازیان میں امریکی ڈرون حملے کے نتیجے میں 4 افراد ہلاک ہوئے، جن کا تعلق تحریک طالبان پاکستان سے بتایا گیا۔
بعد ازاں حکام نے ڈرون حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا تھا کہ حملے میں پشاور آرمی پبلک اسکول (اے پی ایس) حملے کے ماسٹر مائنڈ اور ٹی ٹی پی سے تعلق رکھنے والے خلیفہ عمر نارے اپنے دیگر 3 ساتھیوں سمیت ہلاک ہوگئے تھے۔
واضح رہے کہ 16 دسمبر 2014 میں آرمی پبلک اسکول پر دہشت گردوں نے حملہ کیا تھا، جس میں150 افراد ہلاک ہوگئے تھے جن میں 130 سے زائد بچے شامل تھے اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے خلیفہ عمر نارے نے مذکورہ حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔
عمر نارے کی ہلاکت پر اے پی ایس شہداء فورم کے جنرل سیکریٹری عجون خان نے اسے دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں ایک بڑی کامیابی قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ وہ آخری دہشت گرد کے ہلاک ہونے تک چین کی نیند نہیں سو سکتے۔