14.10.2026, 12:24pm , بدھ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
اعلان و انتخاب آجکا دن
 

 سولہ جولائی 1990ءکوبدراوّل خلا میں روانہ ہوا
16.07.2016, 01:07am , ہفتہ (GMT+1)

بدراوّل خلا میں روانہ ہوا

 سولہ جولائی 1990ء کا دن، اس خواہش کی تکمیل کا دن ہے جو ہر پاکستانی کے دل میں برسوں سے مچل رہی تھی۔ یعنی خلائی ٹیکنالوجی کے حصول کی خواہش۔ جو عوامی جمہوریہ چین کے خلائی مرکز ژی چن سیٹلائٹ لائٹ لانچنگ سینٹر سے چینی راکٹ لانگ مارچ ٹو۔ای لارج وہیکل کی کامیاب پرواز کے بعد پوری ہوئی۔ اس راکٹ نے پاکستان ہی نہیں عالم اسلام میں تیار کردہ پہلا مصنوعی سیارہ ’’بدر اوّل‘‘ خلا میں چھوڑا تھا۔
بدر اوّل کا ڈیزائن، پاکستان کمیشن برائے خلائی و بالا فضائی تحقیق جیسے عرف عام میں سپارکو کہا جاتا ہے ماہرین نے خود ہی تیار کیا تھا۔ بدر اوّل تیس ماہرین کی ایک سال کی شبانہ روز محنت کے نتیجے میں تیار ہوا تھا اور پاور سپلائی ٹریکنگ، ٹیلی میٹری اور ٹیلی کمانڈ جیسے کئی نظاموں پر مشتمل تھا۔ اس کی تیاری پر تقریباً ڈھائی کروڑ روپے لاگت آئی تھی۔
’’ بدر اوّل‘‘ اگرچہ 17 فروری 1989ء کو تیار ہوگیا تھا مگر بعض وجوہات کی بنا پر اس کا خلائی سفر ایک سال پانچ ماہ تک التوا میں رہا۔ پھر 16 جولائی 1990ء کا تاریخی دن آیا جب اسے پاکستان کے معیاری وقت کے مطابق صبح 5 بجکر 50 منٹ پر بحرالکاہل میں فلپائن اور تائیوان کے درمیان مدار میں چھوڑا گیا۔ اسی صبح 7 بجکر 15 منٹ پر اسے سپارکو کے لاہور اور کراچی کے زمینی ٹریکنگ اسٹیشنوں پر کامیابی سے دیکھا گیا اور اسے مسلسل آٹھ منٹ تک ٹریک کیا گیا۔
یہ خلا میں پاکستان کا پہلا قدم تھا۔
بدر اوّل کی شکل دائرہ نما تھی۔ اس کے 26 رخ تھے۔ اس کی جسامت 3½ مکعب فٹ تھی جبکہ وزن 52 کلو گرام تھا۔ اس کا جدید الیکٹرانک نظام، زمینی مرکز سے معلومات حاصل کرنے، ذخیرہ کرنے اور پھر آگے فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ شمسی توانائی سے چلنے والا یہ مصنوعی سیارہ ہر 98 منٹ کے بعد زمین کے گرد اپنا چکر مکمل کرتا تھا۔ وہ 24 گھنٹوں میں چھ مرتبہ پاکستانی افق پر سے گزرتا تھا۔ وہ جس مدار پر محو سفر رہا اس کا زمین سے کم سے کم فاصلہ 211 کلو میٹر اور زیادہ سے زیادہ فاصلہ 992 کلو میٹر تھا جبکہ خط استوا پر اس کا زاویہ 28.65 درجے کا ہوتا تھا۔
بدر اوّل کا تجربہ خاصا کامیاب رہا۔ یہ مصنوعی سیارہ 20 اگست 1990ء تک معلومات اور اطلاعات فراہم کرتا رہا، بعدازاں خلا کی پہنائیوں میں گم ہوگیا۔
------------------------------------------------------------------------------------------

ٹیسٹ کرکٹر انور حسین کی پیدائش

سولہ جولائی 1926ء  پاکستان کے سابق ٹیسٹ کرکٹر انور حسین کی تاریخ پیدائش ہے۔
انور حسین لاہور میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ پاکستان کی اس پہلی کرکٹ ٹیم کے رکن تھے جس نے 16 اکتوبر 1952ء کو دہلی میں پاکستان کی تاریخ کا پہلا ٹیسٹ میچ کھیلا تھا۔ انہوں نے اس سیریز کے چار ٹیسٹ میچوں میں حصہ لیا اور مجموعی طور پر 42 رنز اسکور کئے۔ اس سیریز میں انہیں صرف آخری ٹیسٹ میچ میں بائولنگ کا موقع ملا۔ اس میچ میں انہوں نے مجموعی طور پر 6 اوور پھینکے اور 29 رنز کے عوض ایک وکٹ ( پی سین) حاصل کی۔ وہ پاکستان کی اس ٹیم کے بھی رکن تھے جس نے 29 نومبر 1951ء سے 2 دسمبر 1951ء کے دوران کراچی کے جم خانہ گرائونڈ میں ایم سی سی کو شکست دی تھی اور اسی کامیابی کی بدولت پاکستان پر ٹیسٹ کرکٹ کے دروازے کھلے تھے۔ اس میچ میں انور حسین نے پہلی اننگز میں صفر اور دوسری اننگ میں 48 رنز اسکور کئے تھے۔ انہوں نے 5 اوورز بھی پھینکے تھے تاہم کوئی وکٹ لینے میں کامیاب نہیں ہوسکے تھے۔
9 اکتوبر 2002ء کو انور حسین لاہور میں وفات پاگئے۔یہاں اس بات کا ذکر بے محل نہ ہوگا کہ انور حسین کی وفات اپنے ٹیسٹ ڈیبیو کی 50 ویں سالگرہ سے صرف ایک ہفتہ قبل ہوئی تھی۔
------------------------------------------------------------------------------------------

علامہ ابن حسن جارچوی کی وفات

16جولائی 1973ء کو ممتاز عالم دین اور تحریک پاکستان کے رہنما علامہ سید ابن حسن رضوی جارچوی  وفات پاگئے۔
وہ 21 مارچ 1904ء کو جارچہ ضلع بلند شہر میں پیدا ہوئے تھے ابھی پانچ برس کے تھے کہ والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا چنانچہ ان کی پرورش ان کے نانا نے کی۔ علامہ نے رام پور اورینٹل کالج سے مولوی فاضل اور منشی فاضل‘ میرٹھ سے انٹرنس‘ لاہور سے ایف اے‘ بی اے‘ ایم اے اور ایم او ایل اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے بی ٹی کی سند حاصل کی۔ 1931ء سے 1938ء تک وہ جامعہ ملیہ کالج دہلی میں استاد رہے۔ 1938ء میں محمود آباد آگئے جہاں وہ راجہ صاحب محمود آباد کے اتالیق رہے۔ 1948ء سے 1951ء تک شیعہ ڈگری کالج لکھنو کے پرنسپل رہے پھر یکم اکتوبر 1951ء کو پاکستان چلے آئے۔
تحریک پاکستان کے دوران علامہ ابن حسن جارچوی مسلم لیگ کی ورکنگ کمیٹی کے رکن رہے۔ وہ ان دو افراد میں سے ایک تھے جنہیں قائد اعظم نے کرپس مشن کے سامنے بڑے فخر کے ساتھ پیش کیا تھا کہ اس مشن کو تخلیق پاکستان کا دینی پس منظر سمجھا سکیں۔علامہ جارچوی نے پاکستان آنے کے بعد عملی سیاست کا سلسلہ بھی جاری رکھا‘ تحریر و تقریر سے بھی منسلک رہے اور تدریس کے شغل سے بھی وابستہ رہے۔ وہ کراچی یونیورسٹی میں ’’شیعہ تھیالوجی‘‘ کے پہلے استاد تھے اور یہ شعبہ انہی کی کوششوں سے وجود میں آیا تھا۔
عمر کے آخری حصے میں انہوں نے ’’انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک اینڈ کلچرل ریسرچ‘‘ کے نام سے ایک ادارہ بنانے کا منصوبہ بنایا۔ اس مقصد کے لیے زمین بھی حاصل کرلی گئی تھی مگر عمر نے وفا نے کی ۔ علامہ ابن حسن جارچوی اسی انسٹیٹیوٹ کے احاطے میں آسودۂ خاک ہیں۔
علامہ نے متعدد کتابیں بھی یادگار چھوڑیں جن میں فلسفۂ آلِ محمد، بصیرت افروز مجالس‘ شہیدِ نینوا‘ جدید ذاکری‘ علی کاطرز جہانبانی اور مقدمہ فلسفۂ آلِ محمد شامل ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے زوال رومۃ الکبریٰ کے حصہ اسلام کو بھی اردو میں منتقل کیا تھا جو شائع ہوچکا ہے۔
----------------------------------

:دیگر مضامین
(15.07.2016) پندرہ جولائی 1961ء کو چنبیلی کو ملک کا قومی نشان قرار دے دیا۔
(14.07.2016) ٭14 جولائی 1983ء کو گائیک استاد نزاکت علی خان راولپنڈی میں وفات پاگئے
(13.07.2016) ٭13 جولائی 1969ء کو پاکستان کے نامور ماہر لسانیات ڈاکٹر شہید اللہ ڈھاکا میں وفات پاگئے
(12.07.2016) ریڈیو پاکستان کے سابق سربراہ اور معروف براڈ کاسٹر آغا ناصر انتقال کرگئے
(12.07.2016) ٭12 جولائی 1975ء کوماہر نشریات زیڈ اے بخاری کراچی میں انتقال کرگئے۔
(11.07.2016) ٭11 جولائی 2001ء کو استاد سلامت علی خان لاہور میں وفات پاگئے
(10.07.2016) ٭10جولائی 2006ء کو جناب احمد ندیم قاسمی لاہور میں وفات پاگئے
(09.07.2016) ٭9 جولائی 1967ء کو مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کراچی میں انتقال کرگئیں
(08.07.2016) ٭ اردو کے معروف شاعر سید اقبال عظیم کی تاریخ پیدائش 8جولائی 1913ءہے۔
(07.07.2016) ٭7جولائی 1926ء پاکستان کے نامور مصور احمد پرویز کی تاریخ پیدائش ہے
(06.07.2016) ٭6 جولائی 2003ء کو ڈرامہ نگار حمید کاشمیری کراچی میں وفات پاگئے۔
(05.07.2016) ٭پاکستان جولائی 1977ء پورے ملک میں مارشل لاء نافذ ہوچکا تھا
(04.07.2016) ٭4جولائی 2009ء کو پاکستان کے مشہور فاسٹ بائولر خان محمد لندن میں وفات پاگئے
(03.07.2016)  تین جولائی 1979ء کوعالم لوہار ٹریفک کے ایک حادثے میں جاں بحق ہوگئے
(02.07.2016) منور الزماں دوجولائی1951ء کو لاہور میں پیدا ہوئے
(01.07.2016) یکم جولائی کو قائد اعظمؒ نے اسٹیٹ بنک آف پاکستان کا افتتاح کیا
(29.06.2016) تیس جون 1995ء کو میاں ممتاز محمد خان دولتانہ وفات پاگئے
(29.06.2016) ٭29 جون 1956ء پاکستانی فلمی موسیقی کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل
(28.06.2016) ٭28 جون 1970ء پاکستان کے مشہور لیگ اسپنر مشتاق احمد کی تاریخ پیدائش ہے۔
(27.06.2016) ٭27 جون 2003ء کو نامور ماہر قانون یحییٰ بختیار کوئٹہ میں وفات پاگئے



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں