سندھ کی اہم شخصیت کے فرنٹ مین کو چھڑانے کے معاملے پر رینجرز اور سندھ حکومت آمنے سامنے آگئے، وزیر داخلہ سندھ سہیل انور سیال اور ان کے بھائی طارق سیال کے مبینہ فرنٹ مین اسد کھرل کی گرفتاری کیلئے رینجرز نے کارروائیاں تیز کر دیں ۔
رینجرز نے سیال ہاوس کے باہر بھی ناکہ بندی کی اور آنے جانے والی گاڑیوں کے تلاشی لی، ناکہ بندی کے دوران سیال ہاوس کے باہر پولیس اہل کار بھی موجود تھے،چند گھنٹو ں کی تلاشی کے بعد ناکہ بندی ختم کردی گئی۔
رینجرز نے اسد کھرل کی موجودگی کی اطلاع پر لاڑکانہ میں کئی گھنٹے تک سہیل انور سیال کے گھرکے اطراف ناکا بندی کی ، ڈوکری سے سابق نائب ناظم ڈوکری عابد بگھیو سمیت کئی افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔
سہیل انور سیال اور ان کے بھائی طارق سیال کے مبینہ فرنٹ مین اسدکھرل کی گرفتاری کے لیے لاڑکانہ کے مختلف علاقوں میں کارروائی کی گئی۔
قانون نافذ کرنیوالے ادارے کے اہلکاروں نے ضلع لاڑکانہ میں ڈوکری کے گاوں کارانی میں کارروائی کرکے سابق نائب ناظم عابدبھگیو سمیت متعددافراد کو حراست میں لے لیا گیا ۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ چھاپا لاڑکانہ سے فرار کرائے جانے والے اسدکھرل کی گرفتاری کیلئے مارا گیاتھا،حراست میں لیے گئے عابدبھگیو پر بھی طارق سیال کا فرنٹ مین ہونے کا الزام ہے۔
لاڑکانہ میں پاکستان چوک کے قریب پولیس انسپکٹر جانی شاہ کی رہائشگاہ کےباہر بھی رینجرز تعینات کردی گئی، سیکیورٹی ذرائع کے مطابق اسد کھرل کو چھڑانےوالے افراد میں انسپکٹرجانی شاہ کا نام بھی لیاجارہاہے اور وہ طارق سیال کےانتہائی قریبی ساتھی ہیں