قاتل سڑکیں نو چ رہی ہیں
وہ ا نکھیں جو سو چ رہی ہیں
شہر میں جتنی قبریں ہیں
میری گنتی سے با ہر ہیں ...
مجھ کو تو معلو م نہیں کیو ں خواب اجا ڑ ے جا تے ہیں
کیو ں ورقے پھا ڑے جا تے ہیں
چلتے پھرتے ، آ تے جا تے روز جنا ز ے ملتے ہیں
وا پس جانے والے جب بھی آ نسو دے کر جا تے ہیں
ہتھیا رو ں کے تا جر بھی پھر
نو حے پڑ ھتے آ تے ہیں
ہاتھ سبھی کے صاف ہیں لیکن
خون کے گہرے چھینٹے ان کے
ہا تھو ں سے جھڑتے رہتے ہیں
چغلی کھا تے لہجے ان کے
آ پس میں لڑتے رہتے ہیں
جرم کی اندھی گلیو ں میں کچھ لو گ نقابو ں والے ہیں
ڈ رپو ک ، کمینے ،بزدل ، وحشی
قا تل دیکھے بھا لے ہیں
میرے ما لک صا ف بتا جو مو ت کا پر مٹ لا تے ہیں
انہین کو ن اجا زت دیتا ہے
کس کے کہنے پر آ تے ہیں ؟