پڑھتے لکھتے وقت ٹی وی چلتا رہتا ہے لیکن اس حالت میں کہ اسے دیکھا تو جا سکتا ہے، سنا نہیں جا سکتا۔ گاہے گاہے دیکھتا رہتا ہوں کوئی ’’جینوئن بریکنگ نیوز‘‘ تو نہیں کیونکہ بقول اقبال ساجد مرحوم ہم ایک ایسے گھر میں رہتے ہیں زلزلے جس گھر کے فصیل و در میں رہتے ہیںمیں بڑی دیر سے ایک انتہائی دلچسپ کتاب میں گوڈے گوڈے دھنسا ہوا تھا۔
"ALBERUNI,S INDIA"
کتاب کیا ہے طلسم ہوشربا ہے۔ ان کتابوں میں سے ایک جسے پڑھنے کے بعد یوں محسوس ہوتا ہے جیسے انسان نے ایک نیا جنم لیا ہو۔ گردن میں شدید کھچائو اور تنائو کے بعد میں نے ’’بریک‘‘ پر جاتے ہوئے کتاب الٹی کر کے میز پر رکھی اور سلوموشن میں احتیاط سے مڑکر ٹی وی پر نظر ڈالی تو جھٹکا سا لگا۔ ’’گلوکار شوکت علی کو امریکہ جاتے ہوئے دل کا دورہ، جہاز ابو ظہبی میں اتار لیا گیا۔ مقامی ہسپتال میں حالت بہتر۔ دو دن بعد پاکستان واپس چلے جائیں گے‘‘ اللہ اس انوکھے گلوکار اور نرالے انسان کو اپنی امان میں رکھے۔ یہ 70کی دہائی کے شروع کی بات ہے جب عقل اور تجربہ نام کی کوئی شے قریب سے بھی نہ گزری تھی۔ دونوں پر دعویٰ اب بھی ہرگز نہیں لیکن دال دلیہ ہو جاتا ہے۔ تب تو بیوقوفی کی انتہاء یہ کہ صحافتی کیریئر کے آغاز پر ماہنامہ ’’دھنک‘‘ میں پہلا جاب کیا تو 350روپے تنخواہ مقرر ہوئی۔ سوچے سمجھے بغیر منہ اٹھا کر مین مارکیٹ گلبرگ میں آفس کے قریب ہی ڈھائی سو روپے ماہوار پر فلیٹ لے لیا تو عقل مندوں نے سمجھایا، ’’عقل کے اندھے! 350روپے ماہانہ تنخواہ میں سے 250روپے ماہانہ کرائے کی مد میں نکل جانے کے بعد کرو گے کیا؟ کیا نہائو گے کیا نچوڑو گے؟‘‘ مسئلہ کا حل ریڈیو پاکستان لاہور میں نکلا۔ چھوٹے موٹے پروگرامز کیا سکرپٹ رائٹنگ شروع کر دی کہ آمدنی میں کچھ اضافہ کر کے آمدنی اور اخراجات کے درمیان توازن پیدا کیا جا سکے کہ اخراجات تب بھی ’’شاہانہ‘‘ ہی تھے۔
تب زندگی کے ایک اور خوبصورت فیز کا آغاز ہوا۔ ریڈیو، ریڈیو نہیں ادارہ تھا کہ مجھ جیسے ان گھڑ بھی گھڑے گئے۔ ایک سے بڑھ کر ایک شاندار شخصیت۔ منیر نیازی صاحب سے لے کر بابا ظہیر کاشمیری تک، احمد ندیم قاسمی صاحب سے لے کر شہزاد احمد تک، عدیم ہاشمی سے لے کر امجد اسلام امجد تک۔۔ کہیں ڈاکٹر انور سجاد صاحب کی منڈلی تو کہیں استاد امانت علی خان کی محفل، کہیں نگار زریں ملک، کہیں شہناز پروین سحر، کہیں نسرین انجم بھٹی مرحومہ کہیں شائستہ حبیب جو بعد ازاں ہمارے دوست اور ممتاز قلمکار فخر زمان کی اہلیہ ہوئیں۔ یہیں کہیں نثار قادری، عابد علی، ظل سبحان، غیور اختر، ایم شریف، شجاعت ہاشمی، سلیم ناصر سے بھی دوستیاں ہو گئیں۔
شوکت علی، پرویز مہدی مرحوم اور رجب علی سے بھی ریڈیو پر ہی تعارف، تعلق، دوستی کا آغاز ہوا۔ ابھی چند روز پہلے سالوں بعد لندن میں رجب علی سے ملاقات ہوئی جس کی تشنگی اب تک حلق میں کانٹوں کی طرح چبھ رہی ہے۔ کیسے کیسے لوگ تھے جنہیں بیان کرنے کے لئے لفظ بھی نئے ہی ایجاد کرنے ہوں گے۔ چھیڑ چھاڑ، پنگے بازی، شرارتیں، رقابتیں، مقابلے، گروپ بازی، معاصرانہ چشمک وغیرہ سب کچھ موجود تھا لیکن ایک خاص طرح کا رکھ رکھائو، خلوص، محبت، وفا، حیا، ہمدردی پوری فضا پر چھائی ہوئی تھی۔ جو شاعر تھے وہ اساتذہ کے مقام پر فائز تھے، جو ادیب تھے وہ ادب کی جان تھے، جو گائیک تھے بلا کے گائیک تھے، جو موسیقار تھے وہ خود چلتے پھرتے شہکار تھے، سبحان اللہ کیا نام یاد آیا اخلاق احمد دہلوی، چلتی پھرتی تہذیب۔۔ آج ہے کوئی نظام دین جیسا دوسرا یا کوئی اور تلقین شاہ؟ ’’دن جو پکھیرو ہوتے پنجرے میں میں رکھ لیتا‘‘۔۔۔ کاش ان سنہری دنوں کو حنوط کر کے رکھا جا سکتا اور انہیں دکھایا جاتا جو گلو کار تو ہیں گائیکی نہیں جانتے، شعر کہتے ہیں لیکن شاعر نہیں ہیں، صدا کار کہلاتے ہیں لیکن اس فن کی ابجد سے بھی واقف نہیں، ساز تو اٹھائے پھرتے ہیں سازندے نہیں ہیں، موسیقار تو کہلاتے ہیں، ایک لازوال گیت کریڈٹ پر نہیں۔
بات چلی تھی شوکت علی سے جو تب بھی سپر سٹار تھا کہ اسے تو 65کی جنگ ہی سٹار بنا چکی تھی لیکن اتنی محبت اور ایسا انکسار بھی کسی کسی کو ہی نصیب ہوتا ہے جو شوکت کی شخصیت کا نمایاں ترین رنگ ہے۔ چند ماہ پہلے ہم بطور مہمان ایک ٹی وی چینل کے پروگرام میں اکٹھے ہوئے تو بتا نہیں سکتا کہ اس غیر متوقع ملاقات پر میں زیادہ خوش تھا یا وہ۔۔۔ پرانے دنوں اور دوستوں کو یاد کرتے ہوئے اس کی آنکھوں میں نمی مسلسل تیر اور ڈوب رہی تھی کہ یہی خالص ترین محبت اور والہانہ پن شوکت علی کا ایک ایسا پہلو جسے جاننے کے بعد یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ وہ فنکار بڑا ہے یا انسان۔ تم سلامت رہو ہزار برس آپ سب سے اس کی مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی درخواست ہے۔
بشکریہ ۔جنگ