بریکنگ نیوز۔۔۔۔ ماڈل گرل قندیل بلوچ کو قتل کر دیا گیا
دوسری بریکنگ نیوز۔ قندیل بلوچ کو گلا دبا کر ہلاک کیا گیا
تیسری بریکنگ نیوز۔ قندیل کو اسکے اپنے بھائی وسیم نے قتل کیا ہے
چوتھی بریکنگ نیوز۔ بھائی وسیم نے پولیس کو بتایا کہ وہ مفتی قوی والی وڈیوز سے غیرت میں آ گیا اور قندیل کی روشنی گُل کر دی
بریکنگ نیوز تو ہمارے پاکستانی وڈیوز پر اس تواتر سے چلتی ہیں کہ کسی وزیر کا کھانسنا بھی بریکنگ نیوز ہے بلکہ میں ایسی نیوز کو ہیڈ بریکنگ نیوز کہتا ہوں تا ہم ایسی بے تُکی خبروں کے درمیان ایسی خبریں بھی آتی ہیں جو صرف برکنگ نیوز نہیں بلکہ ہارٹ بریکنگ نیوز ہوتی ہیں اور قندیل بلوچ کا قتل بھی ایسی کی خبر تھا
قندیل جب سے منظر عام پر آئی ہے میں ہمیشہ یہ سوچا کرتا تھا کہ اس خاتون نے اس روشنیوں کی دنیا میں قدم نہ جانے کن حالات میں، کن مجبوریوں میں اور کن مشکلات میں رکھا ہو گا۔ ٹی وی کے پروگراموں کی ریٹنگ بڑھانے والوں نے اس سے ہر وہ سوال کیا جو شاید وہ عام ماڈل گرل سے نہ کر پاتے لیکن کسی نے کبھی یہ جاننے کی کوشش نہ کی کہ وہ اس میدان میں کیوں اور کیسے آئی؟
ہم یوں تو نام نہاد اسلامی معاشرے میں رہتے ہیں للیکن عملی طور پر کُفر سے بھی بدتر معاشرے کے باسی ہیں۔ میرے جیسے آدمی نے بہترین اسلامی معاشرت کا دعوی کرنے والے ممالک کو بھی دیکھا ہے اور وہ جنہیں آپ میں سے بہت سے لوگ بدترین کُفر کا معاشرہ کہتے ہیں انکو بھی دیکھا ہے اور میرا تجزیہ شاید آپ سے بہت مختلف ہے
ہم مجرم کو ختم کرنا چاہتے ہیں جُرم کو نہیں لیکن عدل کا تقاضہ سزا کے ساتھ یہ بھی ہے کہ مجرم کو سدھرنے کا موقع اور وسائل مہیا کیئے جائیں اور ساتھ ہی جُرم کے خاتمے کے اقدامات بھی کیئے جائیں
اس وقت فیس بُک سمیت تمام سوشل میڈیا پر قندیل بلوچ کا قتل ہاٹ کیک کی طرح ہے
اور اسوقت جب میں یہ سطور لکھ رہا ہوں تو سامنے ٹی وی پر ایک اور بریکنگ نیوز نمودار ہوئی ہے
ماڈل گرل قندیل بلوچ کو شاہ صدر دین قبرستان، ڈیرہ غازی خان میں سپرد خاک کردیا گیا، اس سے قبل ان کی نماز جنازہ میں لواحقین، عزیز و اقارب اور مقامی لوگوں نے شرکت کی
قندیل کی زندگی کا باب ختم ہو گیا۔ وہ اس جگہ چلی گئی جہاں جلد یا بدیر ہم سب نے جانا ہے۔ لیکن میں اس سوچ میں ہوں کہ اسوقت تک جو کچھ قتل کے حوالے سے سامنے آ رہا ہے وہ تو بالکل یکطرفہ کہانی ہے ،اسکے بھائی کا بیان، لیکن دوسری طرف کی کہانی تو منوں مٹی تلے ہے۔ جس بدبودار معاشرے میں ہم رہتے ہیں وہاں کیا خبر وسیم نے قندیل سے کیا مطالبہ کیا ہو کہ جسے قندیل پورا نہ کر سکی اور چھ بھائیوں میں سے ایک بے غیرت کی غیرت یکدم جاگ گئی اور اُس نے اس سے قبل کہ قندیل کچھ بولتی اسکی زبان حشر تک کے لیئے بند کر دی
میں نے یہ کوئی انہونی بات نہیں کی۔ ہمارے معاشرے میں آئے دن ایسے واقعات ہوتے ہیں۔ شاید آپ ماڈل ٹاؤن لاہور کا چند برس پہلے کا وہ واقعہ نہ بھولے ہوں جہاں ایک بھائی نے اپنی بہن کو دس سال سے تہہ خانے میں مقید رکھا تھا اور اسے جنسی تشدد کا نشانہ بناتا ہے۔ اسلام آباد کی اُس سوتیلی بیٹی کی کہانی بھی بہت پرانی نہیں جہاں ایک مکروہ باپ اپنی سوتیلی بیٹی کو جنسی پیاس بجھانے کے لیئے استعمال کرتا تھا۔ ایسے درجنوں نہیں سینکڑوں واقعات ہیں ہمارے نام نہاد اسلامی معاشرے میں اور ہم انہیں ستار العیوب کا سہارا لیکر قالین کے نیچے دفن کر دیتے ہیں اور یوں جُرم صاحب اولاد ہوتا رہتا ہے
میں سوچ رہا ہوں کہ اُن جاگیرداروں، وڈیروں، سیاست دانوں اور مکروہ مردوں کا حساب کون کرے گا جنہوں نے قندیل کی روشنی کو تاریکی میں بدل دیا۔ قندیل ماں کے پیٹ سے ایسی نہیں نکلی تھی۔ کوئی ہے جو اس معاشرے میں عزت اور غیرت کی تشریح کرے؟ عزت لُٹے بھی عورت کی اور سزا بھی عورت کو؟ گناہ اگر دوطرفہ ہے تو پھر سزا یک طرفہ کیوں
کچھ احباب اس قتل کا محرک میڈیا کو بھی قرار دیتے ہیں ۔
بےشک میڈیا اسکا ذمیدار ہے لیکن اسکی ایک سے زیادہ وجوہات ہیں۔ یہ جسے عزت کے نام پر قتل کہا جارہا ہے دراصل عزت کا قتل ہے میری نظر میں۔ وہ سب مرد جنہوں نے قندیل کو استعمال کیا اور اسکے ساتھ فلرٹ کیا انکو کون سزا دے گا؟ اس معاشرے میں تو اس موضوع پر گفتگو بھی حرام سمجھی جاتی ہے۔ رہا میڈیا تو سچ کہیں کیا ہمارے ملک کا میڈیا واقعی میڈیا ہے؟ سارے معاشرے کی طرح ایک شُتر بے مہار ہے۔ کم علم اور غیر تربیت یافتہ لوگ کیمرے کے سامنے ہیں اور میڈیا ہاوسز کے مالکان نوے فیصد ایسے ہیں جیسے ایک زمانے میں فلم ساز ان پڑھ گُجر ہوا کرتے تھے
ہمارے ہاں نوے فیصد چیزوں کی تعریف مرد کو سامنے رکھ کر متعین کی گئی ہے ۔اسی لیئے اسلامی معاشرہ انسانی کم اور مرد کا معاشرہ زیادہ لگتا ہے ۔ اس لیئے کہ اس مردار اور سرانڈ زدہ معاشرے میں مرد کی اور مردانگی کی تعریف ہی الگ ہے۔ جہاں مسجدوں میں نام نہاد مولوی ملا بچوں اور بچیوں کی عزت سے کھیلے، جہاں بہن بھائی کے ساتھ بدکاری کرے، جہاں باپ بیٹی کو جنسی ہوس کا نشانہ بنائے۔ وہاں مرد ہی کے ہاتھوں قندیل بن جانے والے بنت حوا کو بے غیرت بھائی غیرت کے نام پر قتل کر دے اور ملک کا نظام عدل اندھا گونگا اور بہرہ ہو
سوچتا ہوں کہ یہ غیرت کے نام پر اسقدر قتل ہمارے ہاں ہی کیوں ہوتے ہیں ۔ سچ کہوں غیرت تو اس پوری قوم اور امت مسلمہ میں نہیں رہی اس ایک بھائی میں کہاں سے آ جانی تھی
قندیل جو بھی تھی لیکن کم ازکم مجھ سے بہادر تھی جو بیس پچیس برس سے ان خدا فروش اور دین فروش کردار سے عاری اور عام مسلم و مومن کو گمراہ کرنے والے اور لوٹنے والے ملا مولویوں کے خلاف مورچہ سنبھالے ہوئے ہے ۔ یہ کام بہادر لوگ کرتے ہیں اور قندیل بہادر تھی کہ جس قندیل نے مفتی قوی جیسے مکروہ مولوی کو بے نقاب کیا ہو اسکو کیا نام دیں گے۔ ان مولویوں کے سامنے تو نعوذ باللہ جیسے خدا بھی بے بس نظر آتا ہے۔ چند باعمل اور متقی اہل علم علما کو چھوڑ کر باقی ایک غالب ترین اکثریت کیسے کیسے مکروہ دھندے کرتی ہے اور کیسے کیسے کاموں میں مصروف رہتی ہے اس معاشرے میں سب جانتے ہیں لیکن بولنے کی جرآت نہیں کر پاتے اور قندیل نے اسی جرآت کے ساتھ مفتی قوی کو ایکسپوز کیا۔ مفتی قوی جسکا اصل نام مفتی کمزور ہونا چاہیئے۔
ہمارے ہاں مردانگی کی تعریف بھی بہت مکروہ ہے اور اسے مرد صرف ایک جنسی رویے کی وجہ سے کہا جاتا ہے ورنہ مرد تو نگران، دیکھ بھال ، وفادار اور محبت کرنے والے کو کہتے ہیں
میں قندیل کو معصوم روح ثابت نہیں کر رہا لیکن اس معاشرتی رویے کی بات کر رہا ہوں جہاں مرد کو نہایا دھویا گھوڑا کہتے ہیں تمام تر گناہ اور جرائم کرنے کے باوجود وہ بے گناہ ہی رہتا ہے
قندیل بلوچ کا قتل سراسر درندگی اور انتقام ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قندیل کیا تھی اور کیا کرتی تھی ، وہ خود اپنے کیئے کی زمیدارتھی ۔ کسی کو حق نہیں پہنچتا تھا کہ اسے قتل کرتا ۔کسی نے بھی اس کے گھریلو حالات پر غور نہیں کیا۔ اس کی غربت پر اس کی معاشی حالت پر۔ پیٹ بھرنے کے لیئے اسکے پاس یہی راستہ بچا تھا ماڈل گرل بننے کا کہ جس سے اسے شہرت بھی ملی اور روٹی بھی۔ ازدواجی زندگی میں وہ نہیں بلکہ اُسکا شوہر اُسکے ساتھ نہیں چل پایا۔
قندیل بلوچ کو پاکستانی سوشل میڈیا کا سپر اسٹار سمجھا جاتا تھا اور جہاں فیس بک پر انہیں فالو کرنے والوں کی تعداد پانچ لاکھ سے زیادہ ہے وہیں ان کا شمار پاکستان میں گوگل پر سب سے زیادہ تلاش کیے جانے والی دس شخصیات میں ہوتا تھا۔
غیرت کے نام پر نہ تو یہ پہلی قندیل قتل ہوئی ہے اور نہ آخری۔ ہاں جب اس معاشرے میں حقیقی معنوں میں غیرت بیدار نہیں ہو جائے گی اسوقت تک غیرت کے نام پر قتل ہوتے رہیں گے
برطانیہ کے شہر ڈربی میں مقیم میری بہت پیاری دوست، انتہائی بہترین مصورہ اور درد دل کی حامل ناہید چٹھہ نے فیس بُک پر کہیں یہ فقرہ لکھا تھا اور کب سے اس فقرے کے ساتھ ساکت وجامد تنہا کھڑا ہوں
ایدھی جی.... آیئے نا.... قندیل کے لیے کفن دفن کا بندوبست کرنا ہے