قندیل بلوچ قتل کر دی گئی اور دفنا بھی دی گئی لیکن مفتی قوی سمیت وہ تمام مرد آزاد پھر رہے ہیں جنہوں نے شاید ایک مجبور

لڑکی کو قندیل بلوچ بنایا اور پھر اسکی قربت کی داستانیں نمک مرچ لگا لگا کر سناتے رہے۔
قندیل بلوچ سے ہمارے میڈیا نے بھی خوب اپنی ریٹنگ بڑھائی اور آخر کار ایک دن جیو کے ساتھ والے سہیل وڑائچ نے بھی بہتی گنگا سے ہاتھ دھو لیئے ایک پورا پروگرام قندیل کے ساتھ کر لیا اور اس پروگرام میں ایسے ایسے سوال قندیل سے اس انداز میں کیئے کہ میں یہ سوچتی رہ گئی کہ پاکستان کا پمرا شاید عدلیہ کی طرح اندھا گونگا بہرہ ہو گیا ہے
اخبارات نے قندیل کی میت کی تصاویر بھی اس انداز میں شائع کیں کہ مجھے خود ایک عورت ہوتے ہوئے جیسے خود سے شرم آنے لگی۔ ہم میتیں اور لاشیں بیچنے والے لوگ ہیں
قندیل کی لاش اس حالت میں دیکھ کر میری آنکھوں میں آنسو آگئے اور میں سوچنے لگی کہ کیا حوا زادی سماج میں اتنی بھی عزت نہیں رکھتی کہ وہ اپنی موت مر سکے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آہ ۔۔ کیا مرنے کے بعد بھی اس کا پردہ اس لیئے کوئی نہیں رکھ سکا کہ وہ بقول اس غیرت مند معاشرے کے با غیرت مردوں کے فاحشہ تھی ۔۔
ہم میں سے بیشتر لوگ اُس مفتی قوی کی بات کرتے ہیں جسکے ساتھ قندیل کی سیلفیز اور وڈیو سوشل میڈیا میں گشت کرتی رہیں۔ اے اہل ایمان یہ تو ایک مفتی تھا لیکن جب یہ زنبیل کھلے گی تو نہ جانے کیسے کیسے عبا و قبا اور سماج میں انتہائی باعزت کہلوانے والوں کے نام منظر عام پر آئیں گے ۔ اس لیئے وہ زبان ہی ہمیشہ کے لیئے بند کر دی گئی جو ایسے سب انکشافات کرتی
قندیل بلوچ کو فاحشہ کہنے والوں سے میں پوچھتی ہوں کہ مفتی قوی کے بارے میں کیا کہیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا وہ دودھ کے دھلے ہیں یا وہ سارے مرد جو اس کے ساتھ گناہ کے برابر زمیدار ہیں انہیں کیا سزا ملے گی ۔۔ ان کے جرائم اور شب بسری کی داستان میڈیا نہیں کرام الکاتبین ریکارڈ کرچکے ہیں ۔۔ یہ معاشرہ ہی نہیں پورا اسلام ہی مجھے مرد کی فرمانبرداری اور ناز برداری کرتا نظر آتا ہے اور گنہگار صرف عورت ۔۔۔ جو کبھئ قندیل بلوچ تو کبھی مائی مختاراں ہو جاتی ہے
انسان کا کوئی بدترین دشمن بھی ہو تو وہ بھی اس سلوک کا مستحق نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔۔ذرا سوچیئے تو آخر مرد " غیرت " کے نام پر قتل کیوں نہیں ہوتے ۔۔ ؟
اگر واقعی خدا ہے تو مکافات عمل کا انتظار تو کرنا ہی ہے ۔۔ کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ فوزیہ کو قندیل بلوچ اس کے اسی بھائی نے ہی بنایا ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟
یہ درندگی اور انتقام ہے سراسر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قندیل کیا تھی اور کیا کرتی تھی وہ خود اپنے کیئے کی زمیدارتھی ۔ کسی کو حق نہیں پہنچتا تھا کہ اسے قتل کرتا ۔۔۔ میں شدید صدمے میں ہوں ۔۔ رنج ہے مجھے ۔۔ خدا کہاں ہے ۔۔ کس کے ساتھ ہے ۔۔ یوں لگ رہا ہے جیسے اس نے تا قیامت لکن میٹی کھلینے کا فیصلہ کر لیا ہے
یہ تو طے ہے کہ دنیا کی سب سے پرانی تجارت " جسم " ہے اور سب سے پرانا خریدار مرد " اور سب سے پرانی بکنے والی " عورت " ۔۔۔۔۔۔۔ کیا کیا گھن لگے ہیں اس زمانے کو
چند روز پہلے میں سڈنی کے ریپٹائل پارک میں تھی ۔۔۔۔۔ جب میں سانپوں کے سیکشن میں پہنچی تو وہاں پر آخر میں شو بھی تھا ۔ جس میں تمام رینگنے والے ریپٹائلز کا تعارف اور خؤبیاں بتا رہے تھے ۔۔ شو ختم ہونے کے بعد جو چاہتا سانپ ، اور لییزرڈ ، ڈینگو کے ساتھ تصویر بنا سکتا تھا ۔۔ میں نے فیصلہ کر لیا کہ آج میں سانپ کو چھو کرضرور دیکھو گی ۔۔ پھر اسے اپنے گرد گھومتا دیکھونگی ۔۔
بھلا وہ آج کل کے درندہ صفت انسانوں سے کتنے برے ہو سکتے ہیں ۔۔۔۔۔ ویسے بھی ان کے پاس زہر تھا ہی کہا ں ۔۔ جب شو مین نے میرے ہاتھ میں سانپ تھمایا تو وہ اتنا ملائم اور گرم تھا کہ میرے سرد ہاتھ یقننا اسے چبھے تھے جبھی تو اس نے پھن اٹھا کر مجھے دیکھا تھا ۔۔۔ اس سانپ کی آنکھوں میں حیرانی تھی اور خوشی بھی ۔۔ اس لیئے کہ اس نے میرے ڈر کو جیت لیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔
قندیل بلوچ کی موت نے میری بات کو سچ ثابت کر دیا کہ اب سانپوں سے نہیں انسانوں سے ڈرنا چاہیئے ۔۔ سانپ کے کاٹے کا تریاق تو میسر ہے پر انسانی نفرت اور انتقام کا دارو کہاں سے لاؤ گے لوگو
قندیل جاؤ اس درندہ صفت لوگوں کے درمیان سے ۔۔ اللہ پاک تمہارے سارے سفر آسان کرے ۔۔ اور سنو ۔۔ ! اپنے قاتلوں کو کبھی معاف نا کرنا ۔۔۔۔ روز حشراپنا قصاص خود لینا ۔
اس دنیا میں کوئی ایسا غیرت مند نہیں ہے جو ایک فاحشہ کے قصاص کا مطالبہ کرے ۔۔
سن رہی ہو نا سب کہہ رہے ہیں " خس کم جہاں پاک " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جبکہ پاک یہ دنیا نہیں ، تم ہو رہی ہو کہ آئیندہ کسی کی خاطر تمہیں ناپاکی اور کسی گناہ میں گرنا نہیں پڑے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انا للّٰہ وانا الیہ راجعون