15.10.2026, 11:22am , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
مضامین/تجزیات » ڈاکٹر نگہت نسیم
 

ہم میتیں اور لاشیں بیچنے والے لوگ ہیں۔ ڈاکٹر نگہت نسیم
18.07.2016, 03:01am , سوموار (GMT+1)

نگہت نسیم ۔سڈنی
قندیل بلوچ قتل کر دی گئی اور دفنا بھی دی گئی لیکن مفتی قوی سمیت وہ تمام مرد آزاد پھر رہے ہیں جنہوں نے شاید ایک مجبور لڑکی کو قندیل بلوچ بنایا اور پھر اسکی قربت کی داستانیں نمک مرچ لگا لگا کر سناتے رہے۔ قندیل بلوچ سے ہمارے میڈیا نے بھی خوب اپنی ریٹنگ بڑھائی اور آخر کار ایک دن جیو کے ساتھ والے سہیل وڑائچ نے بھی بہتی گنگا سے ہاتھ دھو لیئے ایک پورا پروگرام قندیل کے ساتھ کر لیا اور اس پروگرام میں ایسے ایسے سوال قندیل سے اس انداز میں کیئے کہ میں یہ سوچتی رہ گئی کہ پاکستان کا پمرا شاید عدلیہ کی طرح اندھا گونگا بہرہ ہو گیا ہے 

اخبارات نے قندیل کی میت کی تصاویر بھی اس انداز میں شائع کیں کہ مجھے خود ایک عورت ہوتے ہوئے جیسے خود سے شرم آنے لگی۔ ہم میتیں اور لاشیں بیچنے والے لوگ ہیں

قندیل کی لاش اس حالت میں دیکھ کر میری آنکھوں میں آنسو آگئے اور میں سوچنے لگی کہ کیا حوا زادی سماج میں اتنی بھی عزت نہیں رکھتی کہ وہ اپنی موت مر سکے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آہ ۔۔ کیا مرنے کے بعد بھی اس کا پردہ اس لیئے کوئی نہیں رکھ سکا کہ وہ بقول اس غیرت مند معاشرے کے با غیرت مردوں کے فاحشہ تھی ۔۔

ہم میں سے بیشتر لوگ اُس مفتی قوی کی بات کرتے ہیں جسکے ساتھ قندیل کی سیلفیز اور وڈیو سوشل میڈیا میں گشت کرتی رہیں۔ اے اہل ایمان یہ تو ایک مفتی تھا لیکن جب یہ زنبیل کھلے گی تو نہ جانے کیسے کیسے عبا و قبا اور سماج میں انتہائی باعزت کہلوانے والوں کے نام منظر عام پر آئیں گے ۔ اس لیئے وہ زبان ہی ہمیشہ کے لیئے بند کر دی گئی جو ایسے سب انکشافات کرتی

 قندیل بلوچ کو فاحشہ کہنے والوں سے میں پوچھتی ہوں کہ مفتی قوی  کے بارے میں کیا کہیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا وہ دودھ کے دھلے ہیں یا وہ سارے مرد جو اس کے ساتھ گناہ کے برابر زمیدار ہیں انہیں کیا سزا ملے گی ۔۔ ان کے جرائم اور شب بسری کی داستان  میڈیا نہیں کرام الکاتبین ریکارڈ کرچکے ہیں ۔۔ یہ معاشرہ ہی نہیں پورا اسلام ہی مجھے مرد کی فرمانبرداری اور ناز برداری کرتا نظر آتا ہے اور گنہگار صرف عورت ۔۔۔ جو کبھئ قندیل بلوچ  تو کبھی مائی مختاراں ہو جاتی ہے

انسان کا کوئی بدترین دشمن بھی ہو تو وہ بھی اس سلوک کا مستحق نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔۔ذرا سوچیئے تو آخر مرد " غیرت " کے نام پر قتل کیوں نہیں ہوتے ۔۔ ؟

اگر واقعی خدا ہے تو مکافات عمل کا انتظار تو کرنا ہی ہے ۔۔ کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ فوزیہ کو قندیل بلوچ اس کے اسی بھائی نے ہی بنایا ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟

یہ درندگی اور انتقام ہے سراسر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قندیل کیا تھی اور کیا کرتی تھی وہ خود اپنے کیئے کی زمیدارتھی  ۔ کسی کو حق نہیں پہنچتا تھا کہ اسے قتل کرتا ۔۔۔ میں شدید صدمے میں ہوں ۔۔ رنج ہے مجھے ۔۔ خدا کہاں ہے ۔۔ کس کے ساتھ ہے ۔۔ یوں لگ رہا ہے جیسے اس نے تا قیامت لکن میٹی کھلینے کا فیصلہ کر لیا ہے

یہ تو طے ہے کہ دنیا کی سب سے پرانی تجارت " جسم "  ہے اور سب سے پرانا خریدار مرد " اور سب سے پرانی بکنے والی   " عورت " ۔۔۔۔۔۔۔ کیا کیا گھن لگے ہیں اس زمانے کو

چند روز پہلے میں سڈنی کے ریپٹائل پارک میں تھی ۔۔۔۔۔ جب میں سانپوں کے سیکشن میں پہنچی تو وہاں پر آخر میں شو بھی تھا ۔ جس میں تمام رینگنے والے ریپٹائلز کا تعارف اور خؤبیاں بتا رہے تھے  ۔۔ شو ختم  ہونے کے بعد جو چاہتا سانپ ، اور لییزرڈ ، ڈینگو کے ساتھ تصویر بنا سکتا تھا ۔۔ میں نے فیصلہ کر لیا کہ آج میں سانپ کو چھو کرضرور دیکھو گی ۔۔ پھر اسے اپنے گرد گھومتا دیکھونگی ۔۔

 بھلا وہ آج کل کے درندہ صفت انسانوں سے کتنے برے ہو سکتے ہیں ۔۔۔۔۔ ویسے بھی ان کے پاس زہر تھا ہی کہا ں ۔۔ جب شو مین  نے میرے ہاتھ میں سانپ تھمایا تو وہ اتنا ملائم اور گرم تھا کہ میرے سرد ہاتھ یقننا اسے چبھے تھے جبھی تو اس نے پھن اٹھا کر مجھے دیکھا تھا ۔۔۔ اس سانپ کی آنکھوں میں حیرانی تھی اور خوشی بھی ۔۔ اس لیئے کہ اس نے میرے ڈر کو جیت لیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔

قندیل بلوچ کی موت نے میری بات کو سچ ثابت کر دیا کہ اب سانپوں سے نہیں انسانوں سے ڈرنا چاہیئے ۔۔ سانپ کے کاٹے کا  تریاق تو میسر ہے پر انسانی نفرت اور انتقام کا دارو کہاں سے لاؤ گے لوگو 


قندیل جاؤ اس درندہ صفت لوگوں کے درمیان سے ۔۔ اللہ پاک تمہارے سارے سفر آسان کرے ۔۔ اور سنو ۔۔ ! اپنے قاتلوں کو کبھی معاف نا کرنا ۔۔۔۔ روز حشراپنا قصاص خود لینا ۔

اس دنیا میں کوئی ایسا غیرت مند نہیں ہے جو ایک فاحشہ کے قصاص کا مطالبہ کرے ۔۔

سن رہی ہو نا سب کہہ رہے ہیں " خس کم جہاں پاک " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جبکہ پاک  یہ دنیا نہیں ، تم ہو رہی ہو کہ آئیندہ کسی کی خاطر تمہیں ناپاکی اور کسی گناہ میں گرنا نہیں پڑے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

انا للّٰہ وانا الیہ راجعون

:دیگر مضامین
(10.07.2016) مینڈیلا ڈے ہو سکتا ہے تو ایدھی ڈے کیوں نہیں ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم‎
(06.07.2016)  ہائے ڈینائل میں  ڈوبی  مسلمان قوم ۔۔۔ از: ڈاکٹر نگہت نسیم 
(04.07.2016) باضمیر اہل قلم کا دہشت گردی کے خلاف قلمی جہاد جاری ۔ ڈاکٹر نگہت نسیم
(16.06.2016) فیس بُک کےادبی بونے اپنے قد سے بھی آگاہ نہیں۔ ڈاکٹر نگہت نسیم
(12.06.2016) میں “ کاپی پیسٹ زندگی “ کیوں گزاروں . ڈاکٹر نگہت نسیم 
(30.05.2016) دین سے نفرت پیدا کرنے والے شیرانی جیسے ملا مولوی ہیں۔از: ڈاکٹر نگہت نسیم
(20.05.2016) شہوت کا بےلگام گھوڑا ۔۔ یہ ہے آج کے مسلمان مرد کا چہرہ ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم 
(13.05.2016) اردو شاعری کیا صرف عروض کا نام ہے۔از ؛ ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی
(29.03.2016) تازہ غم ۔۔۔ تازہ کالم ۔۔۔۔از: ڈاکٹر نگہت نسیم ۔ سڈنی 
(15.03.2016) کردار سازی کیوں اور کیسے ممکن ہے ۔۔ از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم 
(08.03.2016) معاشرہ امیر کو عزت کی نگاہ اور غریب کو حقارت سے کیوں دیکھتا ہے؟از:‌ڈاکٹر نگہت نسیم
(04.01.2016) صدیوں بعد بھی نہ ہم بدلے اور نہ ہماری خونی تاریخ ۔ از ؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
(01.01.2016) مجھے اس برس شجر ثمر بار بننا ہے ۔۔ از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
(25.12.2015) میرے خدا یہ ترے کرم کی نشانی ہے ۔۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم 
(29.11.2015) ہائے میری غمگسار ، خبر گیر ، دلدار ماں‌۔۔۔۔۔۔ از:‌ڈاکٹر نگہت نسیم 
(15.11.2015) خوشبو ؤں کے دیس میں خون و بارود کی بارش ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم 
(06.11.2015) گوگو گا گے گا ، اتنا بھاگے گا ۔۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم 
(25.10.2015) نواسہ رسول امام حسین علیہ السلام اتحاد کی علامت ہیں۔ از۔ ڈاکٹر نگہت نسیم
(19.10.2015) بچے ، والدین اور اساتذہ ایک تکون ہیں ۔ از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم 
(02.10.2015) رسول اور آل رسول پر گفتگو تلوار کی دھار پر چلنا ہے ۔ از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم 



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
شمس جیلانی  »
صفدر ھمٰدانی  »
ماہ پارہ صفدر  »
ڈاکٹر نگہت نسیم  »
زرقا مفتی  »
سیدہ زائرہ عابدی۰بجو  »
محمد احمد ترازی  »
محمد عظیم اعظم  »
عالم آرا  »
سیدہ رافیعہ گیلانی  »
شاہین اشرف علی  »
اظہرالحق نسیم  »
فرخندہ رضوی  »
ڈاکٹر فاخرہ نورین  »
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں