ہم گزشتہ قسط میں اس پر با ت کر رہے تھے کہ حضو ر (ص)نے مکہ پر فو جی کا روا ئی کے لیئے تیا ری شرو ع کر دی تھی ۔اور وہ یہ چا ہتے تھے کہ انہیں اچا نک جا لیں مگر ایک صحا بی حضرت حاطب (رض) ابن بلتعہ نے قریش کو اطلا ع کر نی چا ہی، جس پر اللہ سبحانہ تعا لیٰ نے حضو ر (ص) کومطلع فر ما دیا۔ اور وہ خط پکڑا گیا مگر حضور (ص) نے حضرت حا طب (رض) کو بدر میں شرکت کی بنا پر معا ف فر ما دیا۔ اب آگے بڑھتے ہیں ۔ تما م مورخین اس با ت پر متفق ہیں کہ حضو ر (ص) نے مکہ کی طرف مراجعت دسویں رمضا ن المبا ر ک 8 ھ کو فر ما ئی اور اس وقت وہ رو زے کی حا لت میں تھے ۔ آپ نے عسفا ن کے علا قے میں ایک کنو ؤیں پر روزہ افطا ر فر ما یا اور پھر پورے دوران ِ سفریہ طریقہ کا ر رہا کہ کبھی رو زہ رکھتے اور کبھی قضا فرما تے ،اور یہ طریقہ کا ر آخر تک جاری رہا حتی ٰ کہ مکہ معظمہ پہنچ گئے اور اسی طر ح لشکر اسلام بھی عمل کر تا رہا، کہ جس کا جی چا ہتا وہ رو زہ رکھتا اور جس کا جی نہیں چا ہتا وہ نہیں رکھتا ۔سب کا کہنا یہ ہے جن میں امام بخا ری (رح) بھی شامل ہیں کہ اس سے امت کو یہ سبق دینا مقصود تھا کہ سفر میں رو زہ اختیا ری چیزہے اور ہر آدمی اپنی وسعت اور قوت ِ بر داشت دیکھ کر خو د فیصلہ کرے ۔کیونکہ قر آن نے بیماروں ضعیفوں اور مسا فروں ، خواتین وغیرہ کو یہ سہو لت دی ہو ئی ہے۔البتہ جس دن لشکرِ اسلام مکہ میں دا خل ہوا اس دن سب کو رو زہ نہ رکھنے کی ہدا یت فر ما ئی ۔اور پو رے لشکر اسلام میں کسی کا روزہ نہ تھا ۔اس کی تصدیق حضرت ابن ِ عبا س (رض)نے بھی کی ہے ۔ابھی حضو ر (ص) مکہ نہیں پہنچے تھے کہ راہ میں کچھ لو گ مدینہ جا تے ہو ئے جفہ کے مقا م پر حضور (ص) کو مل گئے جن میں ام المو منین حضرت ام ِسلمہ (رض) اور انکے بھا ئی حضرت عبد اللہ (رض) بن ابوامیہ مخزو می اور حضرت عباس (رض) بن عبد المطلب شا مل تھے جن کے اہل و عیال بھی ن کے ہمرا ہ تھے اور حضور (ص) کے سا تھ چلنے کی خوا ہش کا اظہا ر کیا ان کی سفارش ام المو نین نے یہ کہہ کر فرمائی کہ یہ آپ (ص) کے چچا زاد اور چچا ہیں ان کو سا تھ لے لیجئے۔ جب حضور (ص)نے کچھ تذبذب فر ما یا تو ان لو گو ں نے کہا کہ اب ہم کہاں جا ئیں کہ مکہ وا لے تو ہما ری مکہ سے ہجرت کے بعد ہمیں قبو ل نہیں کریں گے ۔تب حضو ر (ص) نے انہیں اپنے ہمرا ہ چلنے کی اجا زت دیدی ۔جس کے بعد ان لو گو ں نے اسلام قبو ل کر لیا ۔جیساکہ پہلے بیان ہو چکا ہے کہ اس لشکر کی روانگی کو حضور (ص) نے اتنا خفیہ رکھا تھاکہ ظہرا ن پہنچنے تک قریش کو با لکل خبر نہیں ہو سکی ۔ حالانکہ عام راستے کے علا وہ قریش نے مدینے کے ہر راستے پر جا سوس ٹو لیا ں چھو ڑ رکھی تھیں، مگر اس لشکر کی پیش قدمی سے وہ اس حد تک بیخبر رہے کہ جب حضور (ص) نے ظہرا ن سے نکل کرمکہ کے سا منے قیا م فر یا تب انہیں ان لو گو ں سے خبر ملی جو مکہ کو علی ا لصبح دودھ پہنچا یا کر تے تھے ۔ مور خین نے لکھا ہے کہ یہ اس دعا کی قبو لیت کا اثر تھا جو حضور (ص) نے چلنے سے پہلے ما نگی تھی۔ لہذا اللہ سبحانہ تعا لیٰ نے ان کی آنکھو ں پر اور عقلوں پر پر دہ ڈا ل دیا اور لشکر بغیر مزا حمت کے ان کے سر پر پہنچ گیا ۔ قبل اس کے کہ یہ اپنے حلیفو ں کو خبر کرتے اور بلاتے یہ لو گ خود ہی اس خبر کو سن کر بالکل سرا سیمہ ہو گئے۔ لیکن ابن ِ ہشا م (رح) نے خو د حضرت عبا س (رض) کی زبا نی یہ روایت بیا ن کی ہے کہ جب حضور (ص)نے ظہرا ن سے نکل کر پڑا ؤ کیا تو میرے دل میں قریش کی خیر خو ا ہی عو د کر آئی، اور میں نے چا ہا کہ بغیر جنگ کے اگر یہ مر حلہ طے ہو جا ئے تو اچھا ہے کیو نکہ اگر حضور (ص) مکہ میں بزور ِ طاقت داخل ہو ئے تو قریش کی ہمیشہ کے لئے سیاسی مو ت واقع ہو جا ئےگی ۔لہذا میں حضو ر (ص) کے سفید خچر پر سوار ہو کر نکلا اور چا روں طرف چکر لگا رہا تھا کہ کو ئی مکہ جا نے والا نظر آجا ئے، مگر کو ئی نہ ملا درایں اثناءمجھے ایک طرف سے اندھیرے میں کچھ سر گو شیوں کی آواز آئی۔ اور میں نے پہچا ن لیا کہ یہ ابو سفیا ن بن حرب اور بدیل بن ورقہ ہیں میں نے ان کی کانا پھو سیا ں سنیں ابو سفیان کہہ رہا تھا کہ آج کی رات جیسی جلتی ہو ئی جگہ جگہ اتنی تعداد میں آگیں میں نے دیکھیں اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھیں۔اور نہ اتنا بڑا لشکر پہلے کبھی دیکھا۔لیکن بدیل اب بھی اس کو اسلامی لشکر ما ننے کو تیا ر نہیں تھا، وہ کہہ رہا تھا کہ یہ بنو خزا عہ ہیں۔ مگر ابو سفیا ن اس سے متفق نہیں تھا اور وہ کہنے لگا کہ بنو خزا عہ کا پو را کا پو را قبیلہ بھی جمع ہو جا ئے تو اتنا بڑا لشکر نہیں بن سکتا ۔آگے حضرت عبا س (رض) بیا ن فر ما تے ہیں کہ میں نے اسے آواز دی کہ اے ابوحنظلہ !یہ اسلامی لشکر ہے ،اور اس میں خودحضور (ص) بھی تشریف فر ما ہیں ۔اس نے میری آواز پہچا ن لی، اور پو چھا کہ ابو الفضل (رض) یہ کیا تم ہو؟ میں کہا ہا ں ! تب اس نے پو چھا کہ کیا با ت ہے ؟تم پر میرے ما ں با پ قر با ن ۔میں نے کہا کہ قریش کی اب خیر اسی میں ہے کہ تم میرے ساتھ چلو ورنہ اگر تم کسی اور کے ہاتھ آگئے تو تمہا ری گردن ما ردیگا۔بہتر یہ ہے کہ تم میرے پیچھے اس خچر پر بیٹھ جا ؤ ۔میں تمہیں رسو ل (ص) اللہ کی خدمت میں لے چلتا ہو ں اور تمہا رے لیئے ان سے امن کی درخواست کر تا ہو ں ۔وہ میرے پیچھے بیٹھ گیااور اس کے دو سا تھی واپس چلے گئے ۔میں جب انہیں ہمراہ لا رہا تھا وہ بالکل مجھ سے چپکاہو ا بیٹھا تھا۔ جب ہم رو شنی کے پا س سے گزرتے تو پہلے تو لو گ پو چھتے کہ کو ن ہے مگر جب حضور (ص) کا خچر نظر آتا ،اور مجھے پہچا نتے تو کہتے کہ یہ تو رسو ل(ص) اللہ کے چچا ہیں۔جب میں حضرت عمر (رض) کے قریب سے گزرا تو انہو ں نے مجھے غو ر سے دیکھا اور یہ کہتے ہو ئے حضور (ص) کے خیمے کی طر ف دوڑے کہ یہ تو دشمن ِ خدا ابو سفیا ن ساتھ ہے !میں نے بھی خچر کو ایڑ لگا ئی اور میں ان سے پہلے حضو ر (ص) کی خد مت میں پہنچ گیا۔ اس کے بعد حضرت عمر (رض) داخل ہو ئے اور کہنے لگے کہ یا رسول (ص) اللہ یہ ابو سفیان ہے، جس پر ہمیں اللہ نے بغیر کسی عہد و پیما ن کے قدرت دی ہے لہذا مجھے اجا زت دیجئے کہ میں اس کا سر قلم کر دوں ؟میں نے عرض کیا کہ یا رسو ل (ص) اللہ میں نے اس کو پنا ہ دید ی ہے ۔پھر میں نے رسو ل (ص) اللہ سے سر گو شی کی میں کچھ کہا۔ اس کے بعد حضو ر (ص) نے فر ما یا کہ تم اس کو لے جا ؤ، اور صبح کو میرے سا منے پیش کر نا ۔لہذا میں اس کو لیکر اپنی قیا م گا ہ پر چلا گیا۔ اس نے رات میرے پا س گزا ری ۔پھر صبح کو اسے لیکر میں دو با رہ حا ضر ہوا تو حضور (ص) نے فر ما یا ۔ ”تیرا برا ہویا ابوسفیان !کیا تیری سمجھ میں یہ بات ابھی تک نہیں آئی کہ اللہ کے سوا کو ئی معبو د نہیں ہے “۔ ابو سفیان نے جواب دیا کہ”آپ (ص) پر میرے ما ں باپ قربان ! آپ (ص) کتنے برد با ر کتنے شریف اور کتنے صلہ رحمی کر نے والے ہیں ۔خدا کی قسم ! میرا یہ خیال تو اب یقین میں بدل گیا ہے کہ اگر اللہ کے سوا کو ئی معبو د ہو تا ان حا لات میں مجھے ضرور کچھ فا ئدہ پہنچا تا “ حضور (ص)نے دو با رہ ارشاد فر ما یا کہ ”تیرا برا ہو ، ابوسفیان ! کیا تیرے لئے ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ سمجھ سکے کہ میں (ص) اللہ کا پیغمبر ہو ں “۔ تو اس نے کہا کہ ”آپ (ص) پر میرے ماں با پ قربا ن !رہ گئی یہ چیز تو ابھی تک اس کے بارے میں میرے دل میں شکو ک ہیں ۔“ اس کے بعد حضرت عبا س (رض) نے فر مایا کہ میں نے اس سے کہا کہ حق قبو ل کرنے میں جلدی کر ،اس سے پہلے کہ کو ئی تیری گردن اڑا دے اور تو کافر ہی مر جا ئے ۔اس پر وہ اسلام لے آیا اور کلمہ پڑھ لیا ۔پھر حضرت عبا س (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول (ص) اللہ سے عرض کیا کہ ابو سفیا ن فخر و مبا ہا ت پسند ہے اس کے لئے کچھ تخصیص کر دی جا ئے تو بہتر ہے ۔ فر ما یا ! ”اچھا جو ابو سفیا ن (رض)کے گھر میں پنا ہ لے اس کو امان ہے ،جو دروازہ بند کر لے اس کو امان ہے اور جومسجد حرام میں دا خل ہو جا ئے اس کو بھی امان ہے ۔“(سوائے مجرموں کے ) ۔ پھر مجھ سے کہا کہ تم اس کو اس وقت تک پہا ڑ کی چو ٹی پر روکے رکھو جب تک کہ پو را لشکر نہ گذر جا ئے ۔میں اسے وہا ں لے گیا اور وہ لشکر کو گزرتے ہو ئے دیکھتا رہا ۔جب کو ئی دستہ گذرتا تو وہ مجھ سے پوچھتا کہ یہ کو نسا قبیلہ ہے اور میں جب نا م بتا تا تو وہ حسب عادت دہرا تا جاتا کہ اچھا یہ ابو سلیم ہے، یہ مزینہ ہے وغیرہ وغیر ۔اس بعد رسو ل (ص) اللہ گزرے ان کے لشکر سے ایک طر ح کی سبزشعا ئیں پھوٹ رہی تھیں۔اس کی وجہ سے اس کو تا ریخ میں سبز لشکر کہا گیا ہے۔ مگر حقیقت یہ تھی کہ آفتا ب کی کر نیں کچھ اس طر ح سے ہتھیا روں پر پڑ رہی تھیں اور اس دستہ میں سب سے زیا دہ ہتھیا ر تھے۔ جس کی وجہ سے یہ سبز نظر آرہا تھا ۔یہ پورا لشکرمہا جر اور انصا ر پر مشتمل تھا اور ہر ایک زرہ پو ش تھا ۔ پھر جب پو را لشکر گزر چکا تو وہ کہنے لگا ،یا ابو الفضل (رض) یہ ایسا لشکر ہے کہ جس کا کو ئی مقا بلہ نہیں کر سکتا عنقریب تمہا رے بھتیجے (ص) کی با دشا ہت پو ری دنیاپر ہو گی۔ تو میں نے کہا کہ بادشاہت نہیں نبوت (ص) کہو!بعض مورخین نے یہ بھی کہا ہے کہ جب وہ اسلام قبو ل کرنے کہ بعد مکہ پہنچے تو ہندہ بنت عتبہ جو کہ اس کی بیوی تھی اور خواتین میں سب سے بڑی دشمن ِ اسلام تھی ،جس نے جنگ ِ احد میں حضرت حمزہ (رض) کا کلیجہ چبا یا تھا۔ اس نے ابو سفیان (رض) کی بہت بے عزتی کی کہ یہ تم نے کیا کیا ؟ باقی آئندہ